کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان کرام اس مسئلہ ذیل میں کہ محمد اصغر کا انتقال ہوا، انہوں نے چھوڑا دو بیوی (خورشیدہ خاتون و شاہدہ خاتون) تین بیٹی (چاندنی خاتون، آمنہ خاتون اور عائشہ خاتون) اور تین بھائی (محمد مصطفی، محمد مرتضیٰ اور محمد اکبر)محمد اصغر مرحوم کی دو شادیاں تھی،, اپنی زندگی میں انہوں نے ایک زمین اپنی دوسری بیوی (شاہدہ خاتون) کو دے دی، جو رجسٹرڈ اور قبضہ شدہ ہے،اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ مرحوم کی دوسری بیوی (شاہدہ خاتون) کو دی گئی زمین ہبہ (تحفہ) شمار ہو گی یا نہیں، اور کیا یہ زمین وراثت کے باقی مال میں شامل ہو گی یا صرف دوسری بیوی (شاہدہ خاتون) کی ذاتی ملکیت ہو گی؟ مرحوم پر کچھ قرض بھی واجب الادا ہے، قرض کس مال سے ادا ہو گا اور باقی ماندہ جائیداد ورثاء میں کیسے تقسیم کی جائے گی؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرما کر شکریہ کا موقع دیں۔
تنقیح: محترم اس بات کی وضاحت کردیں کہ مرحوم کے بیٹے تھے یا نہیں؟اور اگر تھے تو کتنے؟اسی طرح جس بیوی کو زمین دی گئی تھی کیا وہ بیوی مرحوم کی زندگی میں اس کو بیچنے یا کسی اور تصرف میں استعمال کا اختیار رکھتی تھی یا نہیں؟ان سوالوں کی وضاحت کردیں تو اس پر غور کے بعد جواب دیا جاسکتاہے۔شکریہ
جواب تنقیح: مرحوم محمد اصغر کا کوئی بیٹا نہیں تھا،ان کی صرف تین بیٹیاں ہیں، جیسا کہ اصل سوال میں بتایا گیا ہے،جس زمین کا ذکر کیا گیا ہے، وہ مرحوم نے اپنی زندگی میں ہی اپنی دوسری بیوی (شاہدہ خاتون) کے نام پر رجسٹرڈ کروا دی تھی اور اس کا مکمل قبضہ بھی ان کے حوالے کر دیا تھا۔ اس لیے وہ بیوی اپنی زندگی میں اس زمین کو بیچنے یا کسی اور طرح سے استعمال کرنے کا مکمل اختیار رکھتی تھیں۔ان معلومات کی روشنی میں، آپ سے گزارش ہے کہ وراثت کی تقسیم کے بارے میں شرعی حکم واضح فرما دیں۔شکریہ۔
صورت مسئولہ میں مرحوم نے اپنے زندگی میں باقاعدہ مالکانہ قبضے کے ساتھ جب اپنی زمین اپنے دوسری بیوی کو دے دی تھی ، تو یہ شرعاً اس کی ملکیت میں ہوگئی ہے، اب اس کو باقی ترکہ میں شامل کر کے تقیسم کرنا شرعاًجائز نہیں، اور نہ ہی اس پر کسی وارث کو تصرف کرنے کا اختیار ہے۔
اس کے بعد واضح ہو کہ کا مرحوم اصغر محمد کا ترکہ اس کے موجودہ ورثاء میں اصول میراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد سونا ،چاندی ، زیوارات، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلوں سازو سامان چھوڑا ہو، وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے، اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض یا بیوہ کا حقِ مہر واجب الادا ہو اور اس نے معاف نہ کیا ہو ، تو وہ ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی ( 3/1) کی حد تک اس پر عمل کریں ، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل ایک سو چوالیس (144) حصے بنائے جائیں، جن میں سے ہر بیوہ (خورشیدہ خاتون و شاہدہ خاتون) کو نو (9) ہر بیٹی (چاندنی خاتون، آمنہ خاتون اور عائشہ خاتون) کوبتیس (32)ہر بھائی (محمد مصطفی، محمد مرتضیٰ اور محمد اکبر) کو دس (10) حصے دئے جائیں ، جیسا کہ ذیل نقشے سے بھی واضح ہورہا ہے، مزید سہولت کے لئے فیصدی حصے بھی لکھ دیے گئے ہیں۔
مسئلہ24/144 (مرحوم محمد اصغر) المضروب6
میـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بیوہ بیوہ بیٹی بیٹی بیٹی بھائی بھائی بھائی
3 16 5
9 9 32 32 32 10 10 10
6.25% 6.25% 22.222% 22.222% 22.222% 6.944% 6.944% 6.944%
واللہ خیر الوارثین
قائیرات عفی عنہ
دار الافتاء جامعہ بنوریہ عالمیہ کراچی
2025/9/29
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0