کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مسماۃ "ب " نے ایک لڑکی "ث" کو مدتِ رضاعت میں دودھ پلایا ہے ۔ اب "ث" کے بھائی " ع" کا رشتہ "ب" کی بیٹی "ط" کے ساتھ کرنا چاہتے ہیں ۔" ط" نے "ع" کی والدہ کا دودھ نہیں پیا ہے ۔ تو معلوم یہ کرنا ہے کہ یہ رشتہ جائز ہے کہ نہیں ؟
صورتِ مسئولہ میں ” ث" کے حقیقی بھائی "ع" نے چونکہ مسماۃ "ب " کا دودھ نہیں پیا ہے ، اور نہ ہی "ط" نے "ع" کی والدہ کا دودھ پیا ہے، اس لیے ان دونوں کے درمیان رضاعت کا کوئی رشتہ نہ ہونے کی وجہ سے ان کا آپس میں نکاح کرنا جائز و درست ہے،بشرطیکہ حرمت کی کوئی اور وجہ نہ پائی جاتی ہو ۔
کما فی الھندیۃ: يحرم على الرضيع أبواه من الرضاع وأصولهما وفروعهما من النسب والرضاع جميعا حتى أن المرضعة لو ولدت من هذا الرجل أو غيره قبل هذا الإرضاع أو بعده أو أرضعت رضيعا أو ولد لهذا الرجل من غير هذه المرأة قبل هذا الإرضاع أو بعده أو أرضعت امرأة من لبنه رضيعا فالكل إخوة الرضيع وأخواته وأولادهم أولاد إخوته وأخواته وأخو الرجل عمه وأخته عمته وأخو المرضعة خاله وأختها خالته وكذا في الجد والجدة اھ ( کتاب الرضاع، ج: 1، ص: 342، ناشر: دار الفکر )-
و فی الدر المختار: (وتحل أخت أخيه رضاعا) يصح اتصاله بالمضاف كأن يكون له أخ نسبي له أخت رضاعية، وبالمضاف إليه كأن يكون لأخيه رضاعا أخت نسبا وبهما وهو ظاهر.(و) كذا (نسبا) بأن يكون لأخيه لأبيه أخت لأم، فهو متصل بهما لا بأحدهما للزوم التكرار كما لا يخفى اھ
و فی رد المحتار تحت: (قوله كالأخ) الأولى أن يقول كالأخت، أو يقول في الأول كأن يكون له أخ نسبي، إلا أن يقال مراده التنويع في المضاف إليه ذكورة وأنوثة ح (قوله كأن يكون له أخ نسبي له أم رضاعية) تبع في هذه العبارة النهر. قال ح: وصوابه كأن يكون له أخ رضاعي له أم نسبية كما لا يخفى.اھ ( باب الرضاع، ج: 3، ص: 217، ناشر: سعید)-
وفی النھر النھر الفائق شرح کنز الدقائق: وحرم بها أي: بالرضاع (وإن قل): وهو ما يعلم وصوله إلى الجوف موجود (في ثلاثين شهرًا ما) أي: الذي (حرم بالنسب) أما تحريم القليل منه لإطلاق قوله تعالى: {وأخواتكم من الرضاعة} [النساء: 23] اھ ( کتاب الرضاع، ج: 2، ص: 299، ناشر: دار الکتب العلمیۃ )-
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0