محترم و مکرم مفتیان کرام شرع شریف کی روشنی میں جوابات دیکر ممنون فرمادیں۔
زید کی والدہ کے انتقال کے بعد زید کے والد نے دوسری شادی کی ہے،اب زید کے والد اور سوتیلی ماں کے انتقال کے بعد زید اس مکان اور باقی زمین میں شرعاً حصہ دار ہے کہ نہیں ، اور زید کے سوتیلے بھائی بہن زید کی حقیقی والدہ کے مکان و جائیداد میں شرعا حصہ دار ہیں کہ نہیں ؟
سوال میں اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی کہ مذکور مکان اور زمین آیا زید کے والدِ مرحوم کی ذاتی ملکیت تھی ،یا اس میں کوئی اور بھی شریک تھا؟تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا،تا ہم زید کے والدِ مرحوم نے اپنی ذاتی ملکیت میں جو کچھ بھی منقولہ وغیر منقولہ مال وجائیداد سونا،چاندی ،زیورات ، نقدی رقم وغیرہ کی صورت میں اپنے پیچھے چھوڑا ہے،ان سب اشیاء میں مسمٰی زید اپنے شرعی حصے کے بقدر حصہ دار ہوگا،البتہ زید براہ راست اپنی سوتیلی والدہ کی جائیداد میں شرعاً حصہ دار نہ ہوگا، اور نہ ہی زید کے سوتیلے بہن بھائی براہ راست اس کی حقیقی والدہ کے مکان وجائیداد میں شرعاً حصہ دار ہوں گے ۔
کما فی السراجیۃ:یرجحون بقوة القرابة أعني به ذا القرابتین أولی من ذي قرابة واحدة ذکراً کان أو أنثیٰ؛ لقوله علیه السلام: إن أعیان بني الأم یتوارثون دون بني العلات." اھ(ص/21)۔
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0