کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے والد مسمی...... جن کا انتقال بہت پہلے ہو گیا تھا، جب ہم چھوٹے تھے ،والد صاحب کے انتقال کے وقت ورثاء میں والدہ( بیوہ )پانچ بھائی اور ایک بہن حیات تھی( وہ ایک بہن میں ہوں) جن میں سے میرے ایک بھائی کا انتقال ہو گیا ہے، ان کے ورثاء میں بیوہ ہے، جس نے اب دوسری جگہ شادی کر لی ہے، ان کی اولاد نہیں تھی، تو اب تک مجھے میری وراثت کا حصہ نہیں ملا ،میں جب اپنے حصے کا مطالبہ کرتی ہوں تو والدہ کہتی ہیں کہ آپ اتنا عرصہ ہمارے گھر میں رہی ہو ،کیونکہ میرے شوہر سے لڑائی جھگڑے کی وجہ سے میں والدہ کے گھر رہی ہوں، تو ان کا کہنا ہے کہ اب آپ کا حصہ نہیں ہے، حالانکہ میں والدہ کے گھر رہتے ہوئے بھی خود کام کرتی تھی اور اپنی کمائی سے کھاتی تھی ،تو معلوم یہ کرنا ہے کہ شریعت میں میرا حصہ بنتا ہے یا نہیں؟ اور ان کا اس طرح ٹال مٹول کرنا کیسا ہے؟ قرآن و سنت کی روشنی میں جواب دیں۔
واضح ہوکہ قرآن مجید میں اللہ تعالی نے احکام ِمیراث بیان فرماکر اسے حدود اللہ قرار دیا ہے ،اور ان احکام پرعمل درآمدکرنے والوں کے لئے جنت کی بشارت سنائی ہے ، جبکہ اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کےلئے دردناک عذاب کی وعید بیان کی ہے ، اسی طرح ا حادیث ِمبارکہ میں بھی اس شخص کے بارے میں بڑی سخت وعید یں وارد ہوئی ہیں جو ترکہ میں سے کسی حق دارکو اس کے حصۂ شرعی سے محروم کرتا ہے، ایک حدیث میں نبی کریم ﷺ کا ارشادِ مبارک ہے؛ آپ ؑ نے فرمایا کہ ” کسی مسلمان کا مال اس کی اجازت و رضامندی کے بغیر حلال نہیں“ جبکہ ایک اور حدیث میں وارد ہوا ہے کہ ”جس شخص نے بھی اپنے کسی وارث کا حصۂ میراث کاٹ دیا ( یعنی محروم کردیا) تو اللہ تعالیٰ بروزِقیامت جنت میں سے اس کا حصہ کاٹ دیں گے“
لہذ ا مسئولہ صورت میں سائلہ کی والدہ کا بیٹی کو اس کے حصۂ شرعی دینے سے انکار کرنا سخت گناہ کی بات ہے، ان پر لازم ہےکہ بیٹی کو بلاوجہ کے حیلے بہانوں سے اس کے حق سے محروم کرنے کی کوشش نہ کرے اور جلد ازجلد اس میراث میں اس کاحصہ دیکر مؤاخذ ۂ اخروی سے سبکدوش ہوجائے، بصورتِ دیگر سائلہ اپنے حق کی وصول کے لیے قانونی چارہ جوئی کی بھی مجاز ہے۔
اس کے بعد واضح ہوکہ سائلہ کے والدِمرحوم کا ترکہ اصول میراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقت انتقال اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد سونا ، چاندی ، زیورات نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلوں ساز و سامان چھوڑا ہو ، وہ سب مر حوم کا ترکہ ہے ، اس میں سب سے پہلے مرحوم کے کفن ، دفن کے متوسط مصارف اداکریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3) کی حد تک اس پر عمل کریں ، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل چارہزار سات سو باون (3752) حصے بنائے جائیں ،جن میں سے بیوہ کو سات سو بیس (720) حصے ،جبکہ ہر بیٹے کوآٹھ سوچوون (854) حصے، اور بیٹی کو چارسو ستائس (427) حصے، اور بہو کو ایک سو نواسی (189) حصےدیے جائیں .
کماقال اللہ تعالیٰ فی التنزیل العزیز: تِلۡكَ حُدُودُ اللَّهِۚ وَمَن يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُۥ يُدۡخِلۡهُ جَنَّٰتٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا الۡأَنۡهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَاۚ وَذَٰلِكَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيمُ، وَمَن يَعۡصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَيَتَعَدَّ حُدُودَهُۥ يُدۡخِلۡهُ نَارًا خَٰلِدٗا فِيهَا وَلَهُۥ عَذَاب مُّهِين، (سورۃ النساء، الآیۃ: 13-14)-
وقال ایضاً: يَٰٓأَيُّهَا الَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَأۡكُلُوٓاْ أَمۡوَٰلَكُم بَيۡنَكُم بِالۡبَٰطِلِ الخ (سورۃ النساء 29)-
وفی احکام القرآن للجصاص: قال الله تعالى يا أيها الذين آمنوا لا تأكلوا أموالكم بينكم بالباطل إلا أن تكون تجارة عن تراض منكم قال أبو بكر قد انتظم هذا العموم النھى عن أكل مال الغير ومال نفسه كقوله تعالى ولا تقتلوا أنفسكم قد اقتضى النھی عن قتل غيره وقتل نفسه فكذلك قوله تعالى لا تأكلوا أموالكم بينكم بالباطل نھی لكل أحد عن أكل مال نفسه ومال غيره بالباطل الخ (سورۃ النساء، الآیۃ 29، باب التجارات و خیار البیع، ج2، ص172،ط: سھیل اکیڈمی لاھور)-
وفی مشکاۃ المصابیح: عن سعيد بن زيدؓ قال: قال رسول الله ﷺ "من أخذ شبرا من الأرض ظلما، فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين" متفق عليه، (کتاب البیوع، باب الغصب والعاریۃ، الفصل الاول، ج 5، ص 1969، المرقم: 2938، ط: دار الفکر، بیروت)-
وفیھا ایضاً: وعن أبی حرة الرقاشیؒ، عن عمهؓ قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم "ألا لا تظلموا، ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه" رواه البيهقی فی "شعب الإيمان "، والدارقطنی فی "المجتبى" (کتاب البیوع، باب الغصب والعاریۃ، الفصل الاول، ج 5، ص 1974، المرقم: 2946، ط: دار الفکر، بیروت)-
وفیھا ایضاً: وعن أنسؓ قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من قطع ميراث وارثه، قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة" رواه ابن ماجه،
وفی المرقاۃ: تحت قولہ ﷺ (يوم القيامة) قال الطيبیؒ: تخصيص ذكر القيامة وقطعه ميراث الجنة للدلالة على مزيد الخيبة والخسران، (کتاب البیوع، باب الوصیا، ج 5، ص 2040، ط: دار الفکر، بیروت)-
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0