احکام وراثت

بیوہ کا شوہر کی میراث کی تقسیم میں ٹال مٹول سے کام لینا

فتوی نمبر :
86921
| تاریخ :
2025-09-29
معاملات / ترکات / احکام وراثت

بیوہ کا شوہر کی میراث کی تقسیم میں ٹال مٹول سے کام لینا

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے والد مسمی...... جن کا انتقال بہت پہلے ہو گیا تھا، جب ہم چھوٹے تھے ،والد صاحب کے انتقال کے وقت ورثاء میں والدہ( بیوہ )پانچ بھائی اور ایک بہن حیات تھی( وہ ایک بہن میں ہوں) جن میں سے میرے ایک بھائی کا انتقال ہو گیا ہے، ان کے ورثاء میں بیوہ ہے، جس نے اب دوسری جگہ شادی کر لی ہے، ان کی اولاد نہیں تھی، تو اب تک مجھے میری وراثت کا حصہ نہیں ملا ،میں جب اپنے حصے کا مطالبہ کرتی ہوں تو والدہ کہتی ہیں کہ آپ اتنا عرصہ ہمارے گھر میں رہی ہو ،کیونکہ میرے شوہر سے لڑائی جھگڑے کی وجہ سے میں والدہ کے گھر رہی ہوں، تو ان کا کہنا ہے کہ اب آپ کا حصہ نہیں ہے، حالانکہ میں والدہ کے گھر رہتے ہوئے بھی خود کام کرتی تھی اور اپنی کمائی سے کھاتی تھی ،تو معلوم یہ کرنا ہے کہ شریعت میں میرا حصہ بنتا ہے یا نہیں؟ اور ان کا اس طرح ٹال مٹول کرنا کیسا ہے؟ قرآن و سنت کی روشنی میں جواب دیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ قرآن مجید میں اللہ تعالی نے احکام ِمیراث بیان فرماکر اسے حدود اللہ قرار دیا ہے ،اور ان احکام پرعمل درآمدکرنے والوں کے لئے جنت کی بشارت سنائی ہے ، جبکہ اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کےلئے دردناک عذاب کی وعید بیان کی ہے ، اسی طرح ا حادیث ِمبارکہ میں بھی اس شخص کے بارے میں بڑی سخت وعید یں وارد ہوئی ہیں جو ترکہ میں سے کسی حق دارکو اس کے حصۂ شرعی سے محروم کرتا ہے، ایک حدیث میں نبی کریم ﷺ کا ارشادِ مبارک ہے؛ آپ ؑ نے فرمایا کہ ” کسی مسلمان کا مال اس کی اجازت و رضامندی کے بغیر حلال نہیں“ جبکہ ایک اور حدیث میں وارد ہوا ہے کہ ”جس شخص نے بھی اپنے کسی وارث کا حصۂ میراث کاٹ دیا ( یعنی محروم کردیا) تو اللہ تعالیٰ بروزِقیامت جنت میں سے اس کا حصہ کاٹ دیں گے“
لہذ ا مسئولہ صورت میں سائلہ کی والدہ کا بیٹی کو اس کے حصۂ شرعی دینے سے انکار کرنا سخت گناہ کی بات ہے، ان پر لازم ہےکہ بیٹی کو بلاوجہ کے حیلے بہانوں سے اس کے حق سے محروم کرنے کی کوشش نہ کرے اور جلد ازجلد اس میراث میں اس کاحصہ دیکر مؤاخذ ۂ اخروی سے سبکدوش ہوجائے، بصورتِ دیگر سائلہ اپنے حق کی وصول کے لیے قانونی چارہ جوئی کی بھی مجاز ہے۔
اس کے بعد واضح ہوکہ سائلہ کے والدِمرحوم کا ترکہ اصول میراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقت انتقال اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد سونا ، چاندی ، زیورات نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلوں ساز و سامان چھوڑا ہو ، وہ سب مر حوم کا ترکہ ہے ، اس میں سب سے پہلے مرحوم کے کفن ، دفن کے متوسط مصارف اداکریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3) کی حد تک اس پر عمل کریں ، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل چارہزار سات سو باون (3752) حصے بنائے جائیں ،جن میں سے بیوہ کو سات سو بیس (720) حصے ،جبکہ ہر بیٹے کوآٹھ سوچوون (854) حصے، اور بیٹی کو چارسو ستائس (427) حصے، اور بہو کو ایک سو نواسی (189) حصےدیے جائیں .

مأخَذُ الفَتوی

کماقال اللہ تعالیٰ فی التنزیل العزیز: تِلۡكَ حُدُودُ اللَّهِۚ وَمَن يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُۥ يُدۡخِلۡهُ جَنَّٰتٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا الۡأَنۡهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَاۚ وَذَٰلِكَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيمُ، وَمَن يَعۡصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَيَتَعَدَّ حُدُودَهُۥ يُدۡخِلۡهُ نَارًا خَٰلِدٗا فِيهَا وَلَهُۥ عَذَاب مُّهِين، (سورۃ النساء، الآیۃ: 13-14)-
وقال ایضاً: يَٰٓأَيُّهَا الَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَأۡكُلُوٓاْ أَمۡوَٰلَكُم بَيۡنَكُم بِالۡبَٰطِلِ الخ (سورۃ النساء 29)-
وفی احکام القرآن للجصاص: قال الله تعالى يا أيها الذين آمنوا لا تأكلوا أموالكم بينكم بالباطل إلا أن تكون تجارة عن تراض منكم قال أبو بكر قد انتظم هذا العموم النھى عن أكل مال الغير ومال نفسه كقوله تعالى ولا تقتلوا أنفسكم قد اقتضى النھی عن قتل غيره وقتل نفسه فكذلك قوله تعالى لا تأكلوا أموالكم بينكم بالباطل نھی لكل أحد عن أكل مال نفسه ومال غيره بالباطل الخ (سورۃ النساء، الآیۃ 29، باب التجارات و خیار البیع، ج2، ص172،ط: سھیل اکیڈمی لاھور)-
وفی مشکاۃ المصابیح: عن سعيد بن زيدؓ قال: قال رسول الله ﷺ "من أخذ شبرا من الأرض ظلما، فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين" متفق عليه، (کتاب البیوع، باب الغصب والعاریۃ، الفصل الاول، ج 5، ص 1969، المرقم: 2938، ط: دار الفکر، بیروت)-
وفیھا ایضاً: وعن أبی حرة الرقاشیؒ، عن عمهؓ قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم "ألا لا تظلموا، ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه" رواه البيهقی فی "شعب الإيمان "، والدارقطنی فی "المجتبى" (کتاب البیوع، باب الغصب والعاریۃ، الفصل الاول، ج 5، ص 1974، المرقم: 2946، ط: دار الفکر، بیروت)-
وفیھا ایضاً: وعن أنسؓ قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من قطع ميراث وارثه، قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة" رواه ابن ماجه،
وفی المرقاۃ: تحت قولہ ﷺ (يوم القيامة) قال الطيبیؒ: تخصيص ذكر القيامة وقطعه ميراث الجنة للدلالة على مزيد الخيبة والخسران، (کتاب البیوع، باب الوصیا، ج 5، ص 2040، ط: دار الفکر، بیروت)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبداللہ اسد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 86921کی تصدیق کریں
0     9
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • وراثت کی تقسیم کا شرعی طریقہ کار

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 6
  • باپ کی جائیداد میں اولاد کا حصہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 4
  • کسی وارث کا اپنا حصہ میراث معاف کرنے کا طریقہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 3
  • بھائیوں کا مرحوم والد کے ترکہ میں سے بہن کو حصہ نہ دینا

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 1
  • وفات کے بعد ملنے والی پینشن اورگریجویٹی کاحکم

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • ورثے میں انشورنس کمپنی سے پیسے ملیں تو ان کا کیا حکم ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • یتیم پوتوں کو دادا کی جائیدا میں حصہ کیوں نہیں ملتا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • وراثت کی تقیسم میں بلا وجہ تاخیر کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • بیٹوں کو ہبہ کردہ حصے میں بیٹیوں کا بعد از وفات حصہ مانگنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • نافرمان بیٹے کو جائیداد سے محروم کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • بیٹوں کے نام کی گئی زمین میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بیوہ ،سات بیٹوں اور تین بیٹیوں میں ترکے کی تقسیم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکے کے مکان سے کرایہ کی مد میں حاصل شدہ رقم میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بہنوں کا میراث میں حصہ اور اپنا حصہ معاف کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بڑے بیٹے کی کمائی میں , باپ کے انتقال کے بعد وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء=بیوہ,والد,والدہ,ایک بیٹا ایک بیٹی)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بیٹے کی ذاتی کمائی میں وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = 3 بیٹے 1 بیٹی 1 بہو 1 پوتا)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = ایک بیوہ ,دو بیٹے, ایک بیٹی, پانچ بھائی, پانچ بہنیں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • بھائی کی موجودگی میں مرحومہ بہن کے ترکے میں بہن حصہ دار ہوگی یا نہیں ؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
Related Topics متعلقه موضوعات