کیا فرماتےہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ میرے والد صاحب کا انتقال ہوگیا ، بوقتِ انتقال ورثاء میں چار بیٹے (عبدالعزیز، انور حسین، محمد الیاس، اسلم پرویز) اور ایک بہن (حسینہ) موجود تھی، اس کے بعد پھر ایک بیٹے عبدالعزیز کا انتقال ہو گیا، ورثاء میں بیوہ، دوبیٹے اور دو بیٹیاں موجود ہیں، معلوم یہ کرنا ہے کہ ہمارے والد مرحوم کا ترکہ مذکور ورثاء میں شریعت کے مطابق کس طرح تقسیم کیا جائیگا؟
واضح ہو کہ سائل کے مرحوم والد کا ترکہ ان کےموجود ورثاء میں اصولِ میراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ اور غیرمنقولہ مال و جائیداد، سونا، چاندی ، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے، وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے، اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کر نے کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (3 /1) کی حد تک اس پر عمل کریں، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل دوسوسولہ (216) حصے بنائے جائیں، جن میں سے مرحوم کے ہرایک بیٹے کو اڑتالیس (48) حصے، اور بہو کو چھ (6) حصے، ہر پوتے کو چودہ (14) حصے ، اور ہر پوتی کو سات (7) حصے دیدیں.
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0