کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ میں مسمی ۔۔۔کے چھ بیٹے ہیں،ان میں سے تین بیٹے اپنی محنت مزدوری کر کے کاروبار کر کے مجھے اور گھر کو بھی چلاتے ہیں،اور اپنے ہی محنت مزدوری سے کما کر اپنے لئے گھر،پراپرٹی بھی بنائی ہے،ایک بیٹے نے میرے ہی پلاٹ پر میری اجازت سے بلڈنگ بنائی ہے،اس میں ہم رہائش پذیر ہیں،تمام بیٹوں کی کمائی کا خرچہ کھانا پینا سب الگ الگ ہے،اور باقی تین بیٹے نہ میری ذمہ داری اٹھاتے ہیں،نہ خرچہ دیتے ہیں،نہ ہی تین مذکورہ بالا بھائیوں سے کوئی شرکت ہے،لیکن اس کے باوجود وہ اپنے تین بھائیوں سے ان کی پراپرٹی وغیرہ میں حصہ مانگتے ہیں،تو کیا شرعی طور پر بھائیوں کی ذاتی پراپرٹی میں ان کا حصہ اور مطالبے کا حق بنتا ہے کہ نہیں؟
واضح ہو کہ ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلاہونے سے قبل اپنی تمام مال و جائیداد کا تنہامالک ہوتاہے،اس کی زندگی میں اس کے مال وجائیداد میں اس کی اولاد یا بہن بھائیوں وغیرہ میں کسی کا کوئی حق نہیں ہوتا،چنانچہ صورتِ مسئولہ میں اگر سائل کے تین بیٹوں نے اپنی ذاتی کمائی سے اپنے لئے کوئی زمین یا مکان وغیرہ خریدا ہو،اس میں باقی تین بھائیوں کی کوئی شراکت نہ ہو،تو وہ شرعاً ان ہی کی ملکیت ہے،اس میں بقیہ تین بھائیوں کا کوئی حصہ نہیں،لہذا سائل کے بقیہ تین بیٹوں کو بغیر کسی استحقاق کے اپنے بھائیوں سے ان کی ذاتی جائیداد میں حصہ کا مطالبہ کرنا شرعاً درست نہیں،جس سے انہیں اجتناب لازم ہے۔
کما فی مشکاۃ المصابیح : عن ابی حرۃ الرقاشی عن عمہ قال قال رسول اللہ ﷺ ألا لا تظلموا ألا لا یحل مال امرئ إلا بطیب نفس منہ ( باب العصب و العاریۃ ، ج 1، ص 255، ط قدیمی )۔
و فی العقود الدریۃ : (سئل) في ابن كبير له عيال وكسب مات أبوه عنه وعن ورثة يدعون أن ما حصله من كسبه مخلف عن أبيهم ويريدون إدخاله في التركة فهل حيث كان له كسب مستقل يختص بما أنشأه من كسب وليس للورثة مقاسمته في ذلك ولا إدخاله في التركة؟ (الجواب) : نعم الخ ( کتاب الدعوی ، ج 2، ص 19،ط:ماجدیۃ)۔
و فی شرح المجلۃ : لا یجوز لاحد ان یاخذ مال احد بلا سبب شرعی ای لا یحل فی کل الاحوال عمدا او خطا او نسیانا، جدا او لعبا ان یاخذ احد مال احد بوجہ لم یشرعہ اللہ و لم یبحہ، لان حقوق العباد محترمۃ، لا یسقط بعذر الخطاء و النسیان و الھزل و غیرہ و ذلک کالغصب و السرقۃ ( الی قولہ ) ثم نقل عن شرح الوھبانیۃ ان من دفع شیئا لیس بواجب فلہ استردادہ، الا اذا دفعہ علی وجہ الھبۃ و استھلکہ القابض الخ ( الامر بالمعروف فی ملک الغیر باطل، المادۃ 97، ص 264، ط : اسلامیۃ )۔
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0