کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ میرے چچا” ملک امان“ کا انتقال ہوچکا ہے ، ان کے ورثاء میں بیوہ ،دو بیٹے ،اور چھ(6) بیٹیاں موجود ہیں، معلوم یہ کرنا ہے کہ مرحوم کا ترکہ مذکور ورثاء میں شریعت کے مطابق کس طرح تقسیم کیا جائیگا۔
صورتِ مسئولہ میں سائل کے چچامرحوم کا ترکہ اس کے موجود ورثاء میں اصولِ میراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جو کچھ مال و جائیدا د، سونا، چاندی ،زیورات نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو، ساز وسامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے،وہ سب مرحوم کا ترکہ کا ہے ،جس میں سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگرمرحوم کے ذمہ کچھ قرض یا بیوہ کا حقِ مہر واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں ،اس کےبعد دیکھیں اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3)کی حد تک اس پر عمل کریں، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے، اس کے کل اسی (80) حصے بنائے جائیں ، جن میں سے مرحوم کی بیوہ کو دس (10) حصے ، مرحوم کے ہر بیٹے کو چودہ (14) حصے، اور مرحوم کی ہر بیٹی کو سات سات (7) حصے دیے جائیں ۔
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0