السلام علیکم ! محترم مفتی صاحب ،ہم دس بہن بھائی ہیں،ایک بھائی کا انتقال ہو گیا ہے،ہم چھ بھائی اپنی فیملی کے ساتھ ایک گھر میں والدین کے ساتھ رہتے تھے،کچھ گھریلو مسائل کی وجہ سے 2021 میں والدین کی مرضی سے گھر کو فروخت کیا،اس کا ضامن اپنے بہنوئی کو بنایا،3 کروڑ 30 لاکھ کا مکان فروخت ہوا،اس میں تمام بھائیوں کو 35 لاکھ حصہ ملا،اور 4 بہنوں کو ساڑھے سترہ لاکھ ملے،والدین کی ضروریاتِ زندگی اور دیگر اخراجات کے لئے 40 لاکھ الگ کیے گئے،والدین نے اپنی خوشی سے میرے ساتھ رہنے کا فیصلہ کیا،والدین نے 40 لاکھ اپنی رضامندی سے ضامن اور بڑے بھائی کی موجودگی میں میرے حوالے کیے،ان کی مرضی سے میں نے گھر کی مرمت اور دیگر کاموں میں پیسے استعمال کیے،والدہ کی زندگی میں ان پیسوں کے بارے میں،میں نے پوچھا تھا کہ اگر آپ لوگوں کے بعد یہ پیسے بچ جائیں،تو کیا کروں؟انہوں نے جواب دیا ہمارے بعد ہماری فاتحہ اور تجہیز وتکفین میں لگانا،میں نے پھر دوبارہ پوچھا کہ اگر پھر بھی بچ جائیں،تو کیا کروں؟انہوں نے کہا کہ کسی نیک کام میں خرچ کرنا،اولاد میں سے کسی کو نہیں دینا،جتنا دینا تھا،ہم دے چکے ،باقی جو تم چاہو،ویسا کرنا،2023 میں والدہ کا انتقال ہو گیا ،جنوری 2021 میں میرے والد کرونا کی وجہ سےپاؤں سے معذور ہو گئے تھے، جسکی وجہ سے وہ واش روم نہیں جا سکتے تھے،چلنے پھرنے سے قاصر ہو گئے تھے،مجھ سے بڑا بھائی غیر شادی شدہ اور ریٹائر پولیس ہے، میرے والد کا پیمپر تبدیل کرتے تھے،ستمبر 2025 میں والد کا بھی انتقال ہو گیا ہے،والد کی زندگی میں بڑا بھائی یہ کہتا تھا کہ ان پیسوں پر میرا حق ہے،کیونکہ میں والد کا یہ کام کرتا ہوں،والد کے انتقال پر اسی پیسوں سے کفن دفن اور دیگر کام ہوئے،اب بقیہ رقم جو بچی ہےمیرے پاس ،اگر یہ میرا بھائی جوو والد کا پیمپر تبدیل کرتا تھا،ان پیسوں کا مجھ سے تقاضا کرتا ہے، تو شرعی حکم کیا ہے؟میری رہنمائی فرمائیں۔
واضح ہو کہ ہر شخص کو اپنی صحت والی زندگی میں اپنے مال میں سے ایک تہائی تک وصیت کرنے کا مکمل اختیار ہوتا ہے اور وفات کے بعد ورثاء پر حسب ِوصیت ایک تہائی مال اس مصرف میں خرچ کرنا لازم ہوتا ہےاور اگر تہائی سے زیادہ وصیت کی ہو،تو ایک تہائی سے زیادہ ورثاء کی اجازت پر موقوف ہو گا،لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل کے والدکا اپنے تجہیز وتکفین کے بعد بچنے والے مال کے متعلق نیک کام میں خرچ کرنے کا کہنا،وصیت کے حکم میں ہے،چنانچہ والد مرحوم نے بوقتِ انتقال اپنی ملکیت میں جو کچھ چھوڑا ہے،اس میں سے قرضہ جات کی ادائیگی کے بعد ،باقی مال کے ایک تہائی تک یہ وصیت نافذ ہو گی،اورایک تہائی سے زیادہ ورثاء کی اجازت پر موقوف رہے گی،اور چونکہ سائل کےوالدہنے کوئی مصرف متعین نہیں کیا ہے، اس لئے یہ فیصلہ ورثاء کی صوابدید پر ہو گا، کہ وہ جس مصرف کو اپنے ماحول اور علاقے کے لحاظ سے زیادہ ضرورت مند اور فائدہ مند محسوس کریں، تو اس میں وہ خرچ کر سکتے ہیں۔اور اگر ورثاء ایک تہائی (1/3) سے زیادہ مال کسی نیک کام میں خرچ کرنے پر رضامند نہ ہوں،تو باقی مال تمام ورثاء کے مابین حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم ہوگا۔
کما فی الھندیۃ: ثم تصح الوصية لأجنبي من غير إجازة الورثة، كذا في التبيين ولا تجوز بما زاد على الثلث إلا أن يجيزه الورثة بعد موته وهم كبار ولا معتبر بإجازتهم في حال حياته، كذا في الهداية الخ(كتاب الوصايا،الباب الأول في تفسير الوصية وشرط جوازها وحكمها، ج 6، ص 90،ط: ماجدیۃ)۔
و فی الفقہ الإسلامي و أدلتہ:الوصیۃ للہ تعالیٰ ولإعمال البر بدون تعیین جہۃ، تصرف في وجوہ الخیر الخ ( کتاب الوصایا، المطلب الرابع،ج 10،ص 7496،ط: رشیدیۃ)۔
و فی الدر المختار : (وتجوز بالثلث للأجنبي) عند عدم المانع (وإن لم يجز الوارث ذلك لا الزيادة عليه إلا أن تجيز ورثته بعد موته) ولا تعتبر إجازتهم حال حياته أصلا بل بعد وفاته (وهم كبار)الخ ( کتاب الوصایا،ج 6، ص 651،ط: سعید)۔
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0