احکام وراثت

بیوہ اگر شادی کرلے تو کیااسے مرحوم شوہر کا ترکہ ملے گا؟

فتوی نمبر :
88373
| تاریخ :
2025-10-28
معاملات / ترکات / احکام وراثت

بیوہ اگر شادی کرلے تو کیااسے مرحوم شوہر کا ترکہ ملے گا؟

بخدمت جناب مفتی صاحب! مؤدبانہ گزارش ہے کہ ”محمد مسکین ولد شیر بہادر“ کا دس (10) مرلے کاایک پلاٹ ہے ضلع مانسہرہ میں،شادی کے وقت نکاح نامہ میں پانچ ہزار (5000) روپے مہر اور پانچ (5) مرلے پلاٹ لکھوایا گیا،شادی کے بعد محمد مسکین بیمار ہوگیا،دماغی توازن خراب ہوگیا،اور اللہ کو پیارا ہوگیا،لڑکی والوں نے پانچ (5) مرلے پلاٹ کا انتقال بنوالیا،مہر کی لکھی گئی رقم ادا کردی گئی،لڑکی کے جہیز کا سارا سامان واپس کردیا گیا،اب لڑکی نے دوسری شادی کرلی ہےمعلوم یہ کرنا ہے:
دوسری شادی کے بعد لڑکی کو مذکور پانچ( 5) مرلے پلاٹ ملے گا یا نہیں؟ باقی پانچ مرلے جو ہیں ،ان میں بھی لڑکی کا حصہ ہے یا نہیں؟ جبکہ ورثاء میں محمد مسکین کے دو چاچے( دادا پوتے) اور مسکین کی والدہ موجود ہیں،ان میں شرعی تقسیم کیسے ہوگی؟ تاکہ اللہ و رسولﷺ راضی ہوجائیں،براہِ مہربانی فتوی صادر فرماکر ہماری رہنمائی فرمائیں۔
نوٹ: محمد یوسف،چاند زیب کے کہنے کے مطابق محمد مسکین کے والد ہمارے تایا کے بیٹے تھے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ کسی شخص کے انتقال کے بعد اس کی بیوہ کا دوسری جگہ شادی کرلینے کی وجہ سے وہ اپنےسابقہ مرحوم شوہر کی جانب سے مقرر کردہ مہر اور اس کےترکہ میں سے اپنے حصۂ شرعی سے محروم نہیں ہوتی، بلکہ اس کا مقرر کردہ مہر اور مرحوم کے ترکہ میں اس کاشرعی حصہ بدستور برقرار رہتا ہے ، لہذاصورتِ مسئولہ میں مرحوم مسمی ”محمد مسکین ولد شیر بہادر “ نے مذکورہ لڑکی سے نکاح کرتے وقت اگر واقعۃً نکاح نامہ میں پانچ ہزار (5000) روپے اور مذکور دس (10) مرلے پلاٹ میں سے پانچ( 5) مرلےپلاٹ بطورِ مہرکے لکھوایا ہو تو ایسی صورت میں مذکورپانچ مرلہ پلاٹ اس کی بیوی کو حقِ مہر کے طور پر دیا جائیگا،جبکہ بقیہ پانچ(5) مرلےکے پلاٹ میں بھی میراث جاری ہوگی،جس میں بیوہ بھی شرعی حصہ کی حق دار ہوگی ،محض دوسری جگہ شادی کرنے کی وجہ سے وہ اس مقرر کردہ مہر اور ترکہ میں سے اپنے شرعی حصہ سے محروم نہ ہوگی ۔
اس کے بعد واضح ہو کہ سائل کے بھتیجا مرحوم (یعنی سائل کے کزن کے بیٹے ) کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق ان کے ورثاء میں اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال مذکورہ دس مرلے پلاٹ سمیت جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا ، چاندی ، زیورات، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے ، اس میں سےسب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض یا بیوہ کا حقِ مہر واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو توبقیہ مال کے ایک تہائی(1/3) کی حد تک اس پرعمل کریں ، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل چوبیس (24) حصے بنائے جائیں جن میں سے مرحوم کی بیوہ کو چھ (6) حصے،اس کی والدہ کو آٹھ (8) حصے جبکہ اس کے دونوں چچاؤں میں سے ہر ایک کو پانچ پانچ (5) حصے دیےجائیں ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار: (وتجب) العشرۃ (إن سماھا أو دونھا و) یجب (الأکثر منھا إن سمی) الأکثر ویتأکد (عند وطء أو خلوۃ صحت) من الزوج (أو موت أحدھما) إلخ(کتاب النکاح،باب المھر، ج: 3، ص: 102، ط: سعید)۔
وفی الفتاوی التاتارخانیۃ: وفی شرح الطحاوی: المھر لایخلو إما أن یکون عینا أو دینا، ونعنی بالعین: العروض والحیوان والعقار والمکیل والموزون إذا کانا بأعیانھما، ونعنی بالدین الدراھم والدنانیر، أما إذا کان المھر عینا فلیس للزوج أن یدفع إلیھا غیرہ إلخ( کتاب النکاح، الفصل السابع عشر فی المھر، ج: 3، ص: 85، ط: إدارۃ القرآن)۔
وفی الھندیۃ: ویستحق الإرث باحدی خصال ثلاث بالنسب وھو القرابۃ والسبب وھو الزوجیۃ والولاء إلخ( کتاب الفرائض، الباب الأول فی تعریفھا و فیما یتعلق بالترکۃ، ج: 6، ص: 447، ط: ماجدیۃ )۔
وفی السراجی فی المیراث: العصبات النسبیۃ ثلاثۃ: عصبۃ بنفسہ، وعصبۃ بغیرہ وعصبۃ مع غیرہ، أما العصبۃ بنفسہ فکل ذکر لاتدخل فی نسبتہ إلی المیت أنثی وھم أربعۃ أصناف: جزء المیت، وأصلہ وجزء أبیہ وجزء جدہ الأقرب فالأقرب إلخ(باب العصبات، ص: 53۔54، ط: البشری)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عمر فاروق شیر عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 88373کی تصدیق کریں
0     24
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • وراثت کی تقسیم کا شرعی طریقہ کار

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 6
  • باپ کی جائیداد میں اولاد کا حصہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 4
  • کسی وارث کا اپنا حصہ میراث معاف کرنے کا طریقہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 3
  • بھائیوں کا مرحوم والد کے ترکہ میں سے بہن کو حصہ نہ دینا

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 1
  • وفات کے بعد ملنے والی پینشن اورگریجویٹی کاحکم

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • ورثے میں انشورنس کمپنی سے پیسے ملیں تو ان کا کیا حکم ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • یتیم پوتوں کو دادا کی جائیدا میں حصہ کیوں نہیں ملتا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • وراثت کی تقیسم میں بلا وجہ تاخیر کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 4
  • بیٹوں کو ہبہ کردہ حصے میں بیٹیوں کا بعد از وفات حصہ مانگنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • نافرمان بیٹے کو جائیداد سے محروم کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • بیٹوں کے نام کی گئی زمین میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بیوہ ،سات بیٹوں اور تین بیٹیوں میں ترکے کی تقسیم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بہنوں کا میراث میں حصہ اور اپنا حصہ معاف کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • ترکے کے مکان سے کرایہ کی مد میں حاصل شدہ رقم میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بیٹے کی ذاتی کمائی میں وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • بڑے بیٹے کی کمائی میں , باپ کے انتقال کے بعد وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء=بیوہ,والد,والدہ,ایک بیٹا ایک بیٹی)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = 3 بیٹے 1 بیٹی 1 بہو 1 پوتا)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = ایک بیوہ ,دو بیٹے, ایک بیٹی, پانچ بھائی, پانچ بہنیں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بھائی کی موجودگی میں مرحومہ بہن کے ترکے میں بہن حصہ دار ہوگی یا نہیں ؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
Related Topics متعلقه موضوعات