بخدمت جناب مفتی صاحب! مؤدبانہ گزارش ہے کہ ”محمد مسکین ولد شیر بہادر“ کا دس (10) مرلے کاایک پلاٹ ہے ضلع مانسہرہ میں،شادی کے وقت نکاح نامہ میں پانچ ہزار (5000) روپے مہر اور پانچ (5) مرلے پلاٹ لکھوایا گیا،شادی کے بعد محمد مسکین بیمار ہوگیا،دماغی توازن خراب ہوگیا،اور اللہ کو پیارا ہوگیا،لڑکی والوں نے پانچ (5) مرلے پلاٹ کا انتقال بنوالیا،مہر کی لکھی گئی رقم ادا کردی گئی،لڑکی کے جہیز کا سارا سامان واپس کردیا گیا،اب لڑکی نے دوسری شادی کرلی ہےمعلوم یہ کرنا ہے:
دوسری شادی کے بعد لڑکی کو مذکور پانچ( 5) مرلے پلاٹ ملے گا یا نہیں؟ باقی پانچ مرلے جو ہیں ،ان میں بھی لڑکی کا حصہ ہے یا نہیں؟ جبکہ ورثاء میں محمد مسکین کے دو چاچے( دادا پوتے) اور مسکین کی والدہ موجود ہیں،ان میں شرعی تقسیم کیسے ہوگی؟ تاکہ اللہ و رسولﷺ راضی ہوجائیں،براہِ مہربانی فتوی صادر فرماکر ہماری رہنمائی فرمائیں۔
نوٹ: محمد یوسف،چاند زیب کے کہنے کے مطابق محمد مسکین کے والد ہمارے تایا کے بیٹے تھے۔
واضح ہو کہ کسی شخص کے انتقال کے بعد اس کی بیوہ کا دوسری جگہ شادی کرلینے کی وجہ سے وہ اپنےسابقہ مرحوم شوہر کی جانب سے مقرر کردہ مہر اور اس کےترکہ میں سے اپنے حصۂ شرعی سے محروم نہیں ہوتی، بلکہ اس کا مقرر کردہ مہر اور مرحوم کے ترکہ میں اس کاشرعی حصہ بدستور برقرار رہتا ہے ، لہذاصورتِ مسئولہ میں مرحوم مسمی ”محمد مسکین ولد شیر بہادر “ نے مذکورہ لڑکی سے نکاح کرتے وقت اگر واقعۃً نکاح نامہ میں پانچ ہزار (5000) روپے اور مذکور دس (10) مرلے پلاٹ میں سے پانچ( 5) مرلےپلاٹ بطورِ مہرکے لکھوایا ہو تو ایسی صورت میں مذکورپانچ مرلہ پلاٹ اس کی بیوی کو حقِ مہر کے طور پر دیا جائیگا،جبکہ بقیہ پانچ(5) مرلےکے پلاٹ میں بھی میراث جاری ہوگی،جس میں بیوہ بھی شرعی حصہ کی حق دار ہوگی ،محض دوسری جگہ شادی کرنے کی وجہ سے وہ اس مقرر کردہ مہر اور ترکہ میں سے اپنے شرعی حصہ سے محروم نہ ہوگی ۔
اس کے بعد واضح ہو کہ سائل کے بھتیجا مرحوم (یعنی سائل کے کزن کے بیٹے ) کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق ان کے ورثاء میں اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال مذکورہ دس مرلے پلاٹ سمیت جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا ، چاندی ، زیورات، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے ، اس میں سےسب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض یا بیوہ کا حقِ مہر واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو توبقیہ مال کے ایک تہائی(1/3) کی حد تک اس پرعمل کریں ، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل چوبیس (24) حصے بنائے جائیں جن میں سے مرحوم کی بیوہ کو چھ (6) حصے،اس کی والدہ کو آٹھ (8) حصے جبکہ اس کے دونوں چچاؤں میں سے ہر ایک کو پانچ پانچ (5) حصے دیےجائیں ۔
کما فی الدر المختار: (وتجب) العشرۃ (إن سماھا أو دونھا و) یجب (الأکثر منھا إن سمی) الأکثر ویتأکد (عند وطء أو خلوۃ صحت) من الزوج (أو موت أحدھما) إلخ(کتاب النکاح،باب المھر، ج: 3، ص: 102، ط: سعید)۔
وفی الفتاوی التاتارخانیۃ: وفی شرح الطحاوی: المھر لایخلو إما أن یکون عینا أو دینا، ونعنی بالعین: العروض والحیوان والعقار والمکیل والموزون إذا کانا بأعیانھما، ونعنی بالدین الدراھم والدنانیر، أما إذا کان المھر عینا فلیس للزوج أن یدفع إلیھا غیرہ إلخ( کتاب النکاح، الفصل السابع عشر فی المھر، ج: 3، ص: 85، ط: إدارۃ القرآن)۔
وفی الھندیۃ: ویستحق الإرث باحدی خصال ثلاث بالنسب وھو القرابۃ والسبب وھو الزوجیۃ والولاء إلخ( کتاب الفرائض، الباب الأول فی تعریفھا و فیما یتعلق بالترکۃ، ج: 6، ص: 447، ط: ماجدیۃ )۔
وفی السراجی فی المیراث: العصبات النسبیۃ ثلاثۃ: عصبۃ بنفسہ، وعصبۃ بغیرہ وعصبۃ مع غیرہ، أما العصبۃ بنفسہ فکل ذکر لاتدخل فی نسبتہ إلی المیت أنثی وھم أربعۃ أصناف: جزء المیت، وأصلہ وجزء أبیہ وجزء جدہ الأقرب فالأقرب إلخ(باب العصبات، ص: 53۔54، ط: البشری)۔
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0