السلام علیکم ! میرے والد صاحب کا انتقال 25 جولائی 1996، 8 ربیع الاول کو ہو چکا تھا ، اور والدہ کا انتقال 4 مئی 2008، 28 ربیع الثانی کو ہو چکا تھا ،وراثت کا ایک گھر ہے جو والدہ کے نام ہے ، ہم سات بہن بھائی تھے ، جس میں سے ایک بھائی اور ایک بہن کا انتقال ہو گیا تھا ،بھائی کا انتقال 29 جنوری 2021 / 16 جمادی الثانی کو ہوا تھا ، اور بہن کا انتقال 25 جون 2024 /18 ذالحج کو ہوا تھا ، بھائی شادی شد ہ تھے پر ان کی کوئی اولاد نہیں ہے ، شادی کے تقریباً ڈیڑھ پونے دو سال بعد بھائی کا انتقال ہو گیا تھا ، بھابھی کی مہر کی رقم بھی ادا کر لی گئی تھی ، اور عدت بھی انہوں نے ہمارے گھر میں پوری کی تھی، اب ہم تین بہنیں اور دو بھائی حیات ہیں ، ان میں ایک بھائی شادی شدہ ہے،بھابھی نے بھائی کے انتقال کے تقریباً 8 ماہ بعد دوسرا نکاح کر لیا تھا،ایسی صورت میں کیا بھابھی کا گھر میں کوئی حصہ ہے ؟اور ہماری والدہ کا تھوڑا بہت زیور تھا، جو سب اولاد میں تقسیم کر دیا گیا ہے ، بھابھی کو بھی دیا تھا ،جو جاتے وقت اپنے ساتھ لے کر گئی تھی، براہِ مہربانی رہنمائی فرما کر ممنون فرمائیں پہلے والد صاحب کا انتقال ہوا ، 25 جولائی 1996 /8 ربیع الاول کو، پھر والدہ کا 4 مئی 2008 /4 ربیع الثانی کو، پھر بڑے بھائی 29 جنوری 2021 / 6 جمادی الثانی کو، اور بہن کا 25 جولائی 2024 / 18 ذالحج کو ۔
کیا بھا بھی جو دوسرا نکاح کر چکی ہے ان کا کوئی حصہ ہے یا نہیں ؟
نوٹ: ورثاء میں بیوہ جس نے دوسری شادی کی ،دو بھائی اور تین بہنیں ہیں ۔
واضح ہو کہ کسی شخص کے انتقال کے بعد اگر اس کی بیوہ دوسری جگہ شادی کر لیتی ہے ، تو اس کی وجہ سے وہ اپنے سابقہ مرحوم شوہر کے ترکہ میں اپنے حصۂ شرعیہ سے محروم نہیں ہوتی،بلکہ اس مرحوم شوہر کے ترکہ میں اس کا حصہ بدستور بر قرار رہتا ہے ، لہذا صورت ِ مسئولہ میں سائل کے بھائی کا انتقال چونکہ اپنے والدین مرحومین کے بعد ہوا ہے ، اس لیے سائل کی بھابھی اپنے شوہر کے توسط سے اپنے ساس سسر کے ترکہ میں حصہ دار تھی ، چنانچہ سائل کے مرحوم بھائی کے انتقال کے بعد اس کی بیوہ کا کسی دوسری جگہ نکاح کرنے کی وجہ سے اپنے مرحوم شوہر کے توسط سے اس کا جو حصہ میراث بنتا ہے وہ اس سے محروم نہیں ہو گی، بلکہ وہ بدستور اپنے حصۂ شرعیہ کے بقدر ترکہ میں حقدار ہو گی ۔
اس کے بعد واضح ہو کہ سائل کے والدین مرحومین کا ترکہ اس کے موجود ورثاء میں میں اصول ِمیراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہو گا کہ مرحومین نے بوقت ِ انتقال جو کچھ مال و جائیداد سونا ، چاندی ، زیورات نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو سازوساما ن چھوڑا ہے ، وہ سب مرحومین کا ترکہ ہے، اس میں سب سے پہلے مرحومین کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں گے ،اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومین کے ذمہ کچھ قرض واجب الأدا ہو تو وہ ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومین نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3) کی حد تک اس پر عمل کریں ، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے گیارہ سو بیس ( 1120)حصے بنائے جائیں ،جن میں سے مرحومین کے بیٹوں میں سے ہر ایک کو تین سو چار( 304) ،بیٹیوں میں سے ہر ایک کو ایک سو باون ( 152) اور بہو کو چھپن ( 56) حصے دیے جا ئیں ۔
کما فی مشکاۃ المصابیح: عن سعید بن زید قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم من أخذ شبرا فإنہ یطوقہ یوم القیامۃ من سبع أرضین ( ج: 1، ص: 254،)۔
و فیہ أیضاً: عن أنس قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم من قطع میراث وارثہ قطع اللہ میراثہ من الجنۃ یوم القیامۃ رواہ ابن ماجۃ ج: 1، ص: 266،)۔
و فی الھندیۃ: و یستحق الإرث باحدی خصال ثلاث بالنسب وھو القرابۃ و السسب وھو الزوجیۃ و الولاء وھو علی ضربین ولاء عتاقۃ و ولاء موالاۃ و فی کل منھما یرث الأعلی من الأسفل ولا یرث الأسفل من الأعلی الخ ( کتاب الفرائض الباب الأول فی تعریفھا ، ج: 6، ص: 448، ط: ماجدیۃ)۔
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0