السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ مفتی صاحب! ایک مسئلہ ہے وراثت کا ،اس کی وضاحت فرما دیں، زید اور اس کی بیوی وفات پا چکے ہیں، جس کی اولاد میں تین بیٹیاں اور چار بیٹے شامل ہیں ، جن میں سے ایک بیٹی زید (والد ) سے پہلے ہی وفات پا چکی ہے ،وراثت میں مکان، جائیداد کے علاوہ سونے کی چوڑیاں اور کنگن بھی ہیں، ایک بیٹے کو دوران حیات والدہ نے دو چوڑیاں دے دی تھیں،جبکہ ایک بیٹا ذہنی مریض ہے ،جس کو بڑا بھائی سنبھال رہا ہے ،اب وراثت کی تقسیم میں بھائی کہتا ہے کہ زیورات میں اس بہن کا حصہ شرعی لحاظ سے نہیں ہو گا جو فوت ہو چکی، جبکہ زمین و جائیداد میں حصہ دیا جائے گا، دوسری بات جو ذہنی مریض ہے ،اس کا سارا حصہ بھی بڑے بھائی کا ہے، جس نے اسے گھر میں رکھا ہوا ہے،براہِ کرم اس مسئلے کی وضاحت فرما دیں ،خصوصاًاس بات کی کہ آیا اولاد کا والدین سے پہلے فوت ہونے کی صورت میں اس کے بچوں کو ماں کا حصہ نہیں دیا جائے گا کیا ؟
واضح ہو کہ جس بیٹے یا بیٹی کا انتقال والدین کی زندگی میں ہو جائے شرعا ًان کا والد کی میراث میں کوئی حصہ نہیں بنتا ،لہذا صورتِ مسئولہ میں جس بیٹی کا انتقال والدین کی زندگی میں ہوا ہے، اس بیٹی یا اس کی اولاد کا ان کے والدین مرحومین کے ترکہ ( زیورات زمین و غیرہ)میں شرعاً کوئی حصہ نہیں ، البتہ اگر دیگر ورثاء اپنی رضامندی سے انہیں کچھ دینا چاہیں ،تو ان کو اس کامکمل اختیار ہے، جبکہ والدین مرحومین کا جو بیٹا ذہنی مریض ہے دیگر اولاد کی طرح وہ بھی شرعاً والدین مرحومین کے ترکہ میں حصہ دار ہے ، کسی بھائی یا بہن کے لیے ان کو ملنے والا حصہ اپنے ذاتی استعمال میں لانا شرعاً جائز نہیں ، تاہم چونکہ و ہ ذہنی معذور ہے ،اور خود اپنے مال میں تصرف کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا ،اس لیے اگر وہ بڑے بھائی کی پرورش میں ہو اور بڑا بھائی امانت دار و دیانت دار ہو ،تو اس کا حصہ بڑے بھائی کے حوالے کیا جائے جو کہ اس کی ضروری اخراجات ( کھانے پینے وغیرہ ) میں خرچ کیا جائے گا، جبکہ والدہ مرحومہ نے اپنی زندگی میں جس بیٹے کو دو عدد چوڑیاں دی ہیں ،وہ اگر والدہ کی ملکیت تھیں ،اور انہوں نے باقاعدہ مالکانہ قبضہ اور تصرف کے ساتھ اپنے بیٹے کو یہ چوڑیاں دی ہو ں ،تو یہ اسی بیٹے کی ملکیت شمار ہوں گی ، اس میں اب دیگر بہن بھائیوں کا شرعاً حصہ نہ ہو گا۔
اس کے بعد واضح ہو کہ والدین مرحومین کا ترکہ اس کے موجود ورثاء میں اصول ِ میراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہو گا کہ مرحومین نے بوقتِ انتقال اپنی ملکیت میں جو کچھ مال و جائیداد ، سونا ، چاندی ، زیورات نقد رقم اور ہر قسم کا سامان چھورا ہے ، وہ سب مرحومین کا ترکہ ہے اس میں سب سے پہلے مرحومین کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومین کے ذمہ کوئی قرض واجب الأدا ہو تو اس کی ادائیگی کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومین نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی ( 1/3) کی حد تک اس پر عمل کریں ،اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل دس (10)حصے بنائے جائیں ، جن میں سے مرحومین کے بیٹوں میں سے ہر ایک بیٹے کو دو دو (2) حصے اور بیٹیوں میں سے ہر ایک کو ایک ایک (1) حصہ دیا جائے۔
کما فی الشامیۃ: و شروطہ ثلاثۃ موت مورث حقیقۃ أو حکما کمفقود أو تقدیرا کجنین فیہ غرۃ و وجود وارثہ عند موتہ حیا حقیقۃ أو تقدیرا کلحمل و العلم بجھۃ إرثہ الخ ( کتاب الفرائض، ج: 6، ص:758، ط: سعید )۔
و فی الھندیۃ: لیس لہ حق الرجوع بعد التسلیم فی ذی الرحم المحرم الخ (الباب الخامس الرجوع فی الھبۃ ج 4 ، ص 386 ، ط ماجدیۃ )۔
و فی شرح المجلۃ: تنعقد الھبۃ بالإیجاب و القبول و تتم بالقبض الخ ( الباب الأول ج 3، ص 344، ط مکتبۃ اسلامیۃ کوئٹہ )۔
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0