احکام وراثت

والدہ نے ایک بیٹے کو اپنا گھر ہبہ کردیا تھا تو انتقال کے بعد وراثت کا کیا حکم ہوگا ؟

فتوی نمبر :
88442
| تاریخ :
2025-10-30
معاملات / ترکات / احکام وراثت

والدہ نے ایک بیٹے کو اپنا گھر ہبہ کردیا تھا تو انتقال کے بعد وراثت کا کیا حکم ہوگا ؟

محترم مفتی صاحب! السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ! ہمارا مسئلہ گھر کی تقسیم کا ہے۔ ہم پانچ بہنیں اور چار بھائی ہیں۔ والد کی زندگی میں ہی تمام بہنوں اور بھائیوں کی شادی ہوگئی تھی۔ ایک بھائی جو مدرسے میں پڑھتا تھا اور مفتی بننا چاہتا تھا، اس وجہ سے اس نے شادی نہیں کی۔ اور کچھ وہ پڑھائی کے دوران ذہنی مریض ہوگیا، شادی نہیں کرنا چاہتا تھا۔ والد صاحب نے بھائیوں کی شادی پر تمام خرچہ کیا اور دونوں بہوؤں کےلئے چار تولہ سونا بنا کر دیااور بیمار بھائی کے علاج پر والد صاحب نے کافی پیسہ خرچ کیا تھا۔ بڑا بھائی سلیم خان والد صاحب کی زندگی میں ہی گھر چھوڑ کر چلا گیااور اپنے بیوی بچوں کے ساتھ سسرال کے قریب کرایہ کے گھر میں رہنے لگا۔والدہ ان کے جانے کے بعد بہت اداس رہتی تھی، پھر والد صاحب دوبارہ سلیم بھائی کو گھر واپس لے آئے۔ لیکن کچھ عرصہ کے بعد وہ دوبارہ سسرال میں جاکر رہنے لگا۔ ہم لوگ دوبارہ اسے والد کے گھر پر لائے، اس دوران ہمارے دوسرے بھائی رضاخان کی شادی ہوئی۔ چار پانچ سال کے بعد ہمارے والد صاحب بیمار ہوئےاور ان کا انتقال ہوگیا۔جس گھر میں میری والدہ رہتی تھی اپنے بیٹوں کے ساتھ، وہ گھر میری والدہ کے حقِ مہر میں لکھا گیا تھا۔میرے دونوں بھائی والد صاحب کی وفات کے بعداپنے اپنے سسرال میں جاکر رہنے لگےاور والدہ صاحبہ کا پوچھتے نہیں، سال میں کبھی ایک بار دوبار آتے اور کچھ خیریت پوچھ کر چلے جاتے۔دونوں بڑے بھائیوں کے جانے کے بعد والدہ کا خرچہ اور اس خیال ہمیشہ عمر بھائی نے ہی رکھا۔ چونکہ گھر والدہ کا حقِ مہر تھا تو انہوں نے اپنی مرضی اور خوشی سے اپنا سارا گھر عمر بھائی کے نام لکھ دیاکہ میرے بیٹے مجھے اکیلے چھوڑ کر چلے گئے ہیں اور یہ گھر میرا حقِ مہر ہےاور اس گھر کو میں اپنے بیٹے عمر کے نام لکھ رہی ہوں۔ ہم تمام بہن بھائیوں کو امی نے اپنا فیصلہ سنا دیا۔ سلیم خان اپنی والدہ سے ملنے کےلئے کبھی کبھار آتا تھا، والدہ ان کے گھر زیادہ نہیں جاتی تھی۔ سلیم کی بیوی سے امی کو شکایت رہتی تھی کہ وہ میرا خیال نہیں رکھتی۔ اور رضاخان کے گھر والدہ جاتی تھی تو ان کی بیوی سے بھی امی کو کوئی شکایت نہیں کی۔ والدہ اپنی دل کی باتیں ہم بہنوں سے کرتی تھی۔ رضا خان والدہ کو کبھی کبھار تھوڑا بہت خرچہ دیتا تھا، لیکن سلیم نے کبھی والدہ کو کچھ نقد پیسہ وغیرہ نہیں دیا۔ امی کے اخراجات عمر اور بہنیں پورا کرتی تھیں۔ تین سال پہلے ہماری والدہ کا انتقال ہوا، ان کی بیماری کے دوران رضاخان نے تمام خرچہ امی کا اٹھایا اور امی کی بیماری پر کافی خرچہ کیا۔بیماری کے دوران ایک ہفتہ والدہ سلیم کے گھر رہی، ان کے اوپر موت کی سختی شروع ہوگئی تھی کہ سلیم بھائی نے ہم تمام بہنوں کو فون کئے اور کہا کہ اپنے شناختی کارڈ لے کر آجاؤ۔ امی نے یہ گھر اپنے نو بچوں کے حق میں لکھ دیا ہے، یہ گھر اب صرف عمر کا نہیں ہے۔ہم سب بہنوں کو کافی حیرت ہوئی کہ امی نے اپنا فیصلہ کیسے بدل لیا، کیونکہ وہ اپنا گھر عمر کے علاوہ کسی اور کو دینے کےلئے تیار نہیں تھی۔ امی کے انتقال کے بعد چھٹے دن سلیم خان اپنے بیوی بچوں کو لے کر والدہ کے گھر شفٹ ہوگیا۔ سلیم خان کے چار بیٹے ہیں، جن میں سے دو بیٹوں کی شادی ہوگئی ہےاور عمر گھر کے پاس ہی دکان میں رہتا ہے اور ہوٹل سے کھاتا پیتا ہےاور بہت مشکل سے زندگی گزار رہا ہے۔ عمر کہتا ہے کہ یہ گھر میرا ہے، سلیم کو بولو اس گھر سے نکل جائے۔
اس لئے اب آپ ہمیں دین کی روشنی میں اس مسئلہ کا حل نکال کر دیں کہ آیا یہ گھر عمر کا ہےیا تمام بہن بھائیوں کا اس گھر پر حق ہے اور گھر کے تمام کاغذات عمر کے پاس ہیں، سلیم کے پاس کچھ بھی نہیں۔کیونکہ اپنی زندگی میں والدہ بار بار یہی کہتی تھی کہ یہ گھر عمر کا ہےاور اس گھر پر باقی کسی اور بیٹے کا کوئی حق نہیں ہے۔ اور یہ والد کی جائیداد نہیں، بلکہ والدہ کا حقِ مہر تھا۔ والدہ نے مرنے سے پہلے یہ گھر سب بچوں کے نام کردیا، لیکن ساتھ میں یہ بھی کہا کہ عمر کو دو حصے دیے جائیں، کیونکہ والدہ یہ گھر اپنے باقی بچوں کے نام ہر گز کرنے کو تیار نہیں تھی۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلا ہونے سے قبل اپنے تمام مال و جائیداد کا تنہا مالک ہوتا ہے، وہ جس طرح چاہے اس میں جائز تصرف کرسکتا ہے، اس کے ذمہ اپنی زندگی میں اپنی اولاد کے درمیان مال و جائیداد تقسیم کرنا شرعاً لازم نہیں، اور نہ ہی کسی بیٹے یا بیٹی کو اس میں حصہ داری کے مطالبے کا حق حاصل ہے۔ البتہ اگر کوئی اپنی مرضی سے بلا کسی جبر و اکراہ کے ، اپنا مال و جائیداد اپنی اولاد میں یا کسی اور کے درمیان تقسیم کرنا چاہے، تو اسے اس کا اختیار ہے۔ مگر یہ تقسیم ِترکہ نہیں، بلکہ ہبہ ( گفٹ ) کہلائے گا۔لہٰذا صورتِ مسؤلہ میں اگر سائلہ کی والدہ مرحومہ نے اپنی صحت والی زندگی میں مذکور گھراپنےچھوٹے بیٹے عمر کو دے کر مالکانہ حقوق کے ساتھ قبضہ بھی دے دیا ہو، اس طور پر کہ اگر وہ ان کی زندگی میں اس گھر کو بیچنا چاہتا، تو بغیررکاوٹ اور مزاحمت کے بیچ سکتا تھاجیسا کہ سوال اور اس کے ساتھ منسلکہ کاغذات سے بھی واضح ہورہا ہے، تو اس صورت میں ہبہ تام ہوگیا ہےاور وہ مکان سائلہ کے بھائی عمر کی ملکیت تصور ہوگا، اس میں سائلہ کے دیگر بہن بھائیوں کا کوئی حق نہیں ، اگرچہ بقول ایک بھائی کے کہ والدہ نے وفات سے پہلے اپنے اس ہبہ سے رجوع کرلیا تھامگر یہ رجوع شرعاً معتبر نہیں، کیونکہ ہبہ میں رجوع کے جو موانع (جس کے بعد ہبہ میں رجوع درست نہیں ہوتا)ہیں، ان میں قرابت بھی ہے۔ لہٰذا یہاں بھی والدہ کے ہبہ کئے ہوئے گھر میں قرابت کی وجہ سے رجوع درست نہیں، بلکہ یہ گھر عمر ہی کی ملکیت شمار ہوگا۔اوراب مرحومہ کے انتقال کے بعد سائلہ اور اس کے دوسرے بہن بھائی اس گھر میں بطورِ وارث حصہ دار نہیں بنیں گے۔ البتہ اس کے علاوہ اگر سائلہ کی والدہ مرحومہ نے ترکہ میں کوئی مال و جائیداد چھوڑا ہو، تو اس میں سائلہ اور ان کے تمام بہن بھائی شرعاً حصہ دار ہوں گے۔ جبکہ سائلہ کے بھائی عمر کی رضا مندی و خوشی سے ان کی والدہ کے مذکور گھر میں قیام سے اس کی حیثیت تبدیل نہیں ہوگی۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار: (و تتم) الھبۃ (بالقبض) الکامل (و لو الموھوب شاغلا لملک الواھب لا مشغولا بہ) والأصل أن الموھوب إن مشغولا بملک الواھب منع تمامھا وإن شاغلا لا إلخ۔ (کتاب الھبۃ، ج 5، ص 690۔691، ط: سعید)۔
وفی الھندیۃ: لا یثبت الملک للموھوب لہ إلا بالقبض ھو المختار، ھکذا فی فصول العمادیۃ إلخ۔ (الباب فیما یجوز من الھبۃ و ما لا یجوز، ج 4، ص 378، ط: ماجدیۃ)۔
وفی البنایۃ شرح الھدایۃ:(ثم للرجوع موانع ذكر بعضھا) ش: أي ذكر القدوري بعض الموانع، قيل الموانع سبعة جمعھا القائل في قوله: موانع الرجوع في فصل الھبة بسبعة حروف، ‌دمع ‌خزقه، فالدال الزيادة، والميم موت الواهب، والعين العوض، والخاء الخروج عن ملك الموهوب، والزاي الزوجية، والقاف القرابة، والھاء هلاك الموهوب إلخ۔ (باب ما یصح رجوعہ فی الھبۃ وما لا یصح، ج 10، ص190، ط:دار الکتب العلمیۃ)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالروف نواز عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 88442کی تصدیق کریں
0     22
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • وراثت کی تقسیم کا شرعی طریقہ کار

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 6
  • باپ کی جائیداد میں اولاد کا حصہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 4
  • کسی وارث کا اپنا حصہ میراث معاف کرنے کا طریقہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 3
  • بھائیوں کا مرحوم والد کے ترکہ میں سے بہن کو حصہ نہ دینا

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 1
  • وفات کے بعد ملنے والی پینشن اورگریجویٹی کاحکم

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • ورثے میں انشورنس کمپنی سے پیسے ملیں تو ان کا کیا حکم ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • یتیم پوتوں کو دادا کی جائیدا میں حصہ کیوں نہیں ملتا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • وراثت کی تقیسم میں بلا وجہ تاخیر کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • بیٹوں کو ہبہ کردہ حصے میں بیٹیوں کا بعد از وفات حصہ مانگنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • نافرمان بیٹے کو جائیداد سے محروم کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • بیٹوں کے نام کی گئی زمین میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بیوہ ،سات بیٹوں اور تین بیٹیوں میں ترکے کی تقسیم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بہنوں کا میراث میں حصہ اور اپنا حصہ معاف کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکے کے مکان سے کرایہ کی مد میں حاصل شدہ رقم میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • بیٹے کی ذاتی کمائی میں وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • بڑے بیٹے کی کمائی میں , باپ کے انتقال کے بعد وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء=بیوہ,والد,والدہ,ایک بیٹا ایک بیٹی)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = 3 بیٹے 1 بیٹی 1 بہو 1 پوتا)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = ایک بیوہ ,دو بیٹے, ایک بیٹی, پانچ بھائی, پانچ بہنیں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بھائی کی موجودگی میں مرحومہ بہن کے ترکے میں بہن حصہ دار ہوگی یا نہیں ؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
Related Topics متعلقه موضوعات