السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
حضرت مفتی صاحب وراثت کی تقسیم کے متعلق شریعت کا حکم مطلوب ہے ، جس کی تفصیل ذیل میں ہے
متوفی اپنی وراثت میں ایک مربع (25 ایکڑ) زرعی زمین اور دو مکان سکنی چھوڑ کر گیا۔ متوفی نے اپنی زندگی میں اکیس ایکڑ زرعی زمین اپنی نرینہ اولاد کے نام قانونی طور پر کر دی تھی۔ باقی چار ایکڑ کل ورثاء کے لیے چھوڑ دی تھی ۔ اور دو مکان بالترتیب چھتیس مرلہ اور اٹھارہ مرلہ پر مشتمل ہیں ۔ جو مکان اٹھارہ مرلہ پر مشتمل ہے وہ متوفی نے اپنی زندگی میں (سات بیٹوں میں سے)دو بیٹوں کے نام منسوب کر دیا تھا اور اپنی زندگی میں ہی دونوں میں سے ہر ایک بیٹے کو نو مرلہ کا مکان تعمیر کر کے قبضہ دے دیا تھا ۔ دونوں بیٹوں کے نام اس مکان کی نسبت زبانی تھی ، تحریرا یا قانونا نہیں تھی ( باقی وارث اس نسبت کو جانتے بھی ہیں) دوسرے نو مرلہ کی تعمیر ان کی وفات کے بعد ہوئی ۔ عرصہ بیس سال تک یہی عملا تقسیم ہی بیان ہوتی رہی ،قانونا تقسیم صرف اکیس ایکڑ زرعی زمین کی ہی تھی ۔ اب منسوب اٹھارہ مرلہ کے رقبہ میں دیگر ورثاء نے حصہ کا مطالبہ کیا ہے ، جبکہ ان دونوں بیٹوں کا اصرار ہے کہ ہمارا والد اپنی زندگی میں یہ ہمیں دے گیا تھا ۔
اب سوال یہ ہے کہ اس اٹھارہ مرلہ کی شرعی حیثیت کیا ہے ، کیا یہ اٹھارہ مرلہ ان دونوں کے نام کے لیے خالص رہیں گے یا باقی ورثا ء بھی اس حصہ میں وارث بنیں گے؟ براہِ کرم شریعت کے مطابق آگاہ فرمائیں ، اللہ تعالی آپ کا حامی و ناصر ہو۔
واضح ہو کہ کسی شخص کا اپنی صحت والی زندگی میں اپنی اولاد میں سے سب یا بعض کو اپنی جائیداد میں سے کچھ دینا ھبہ (گفٹ) کہلاتاہے، جس کی صحت اور درستگی کیلئے اس چیز کو قانونی دستاویزات میں نام کرنا کافی نہیں، بلکہ زبانی کلامی ہبہ کرنے کےساتھ ساتھ باقاعدہ مالکانہ حقوق اور قبضہ کے ساتھ حوالہ کرنا ضروری ہے، لہذا سوال میں مذکور شخص نے اپنی صحت والی زندگی میں 21 ایکڑ زمین اگر فقط کاغذات کی حد تک اپنے بیٹوں کے نام نہ کی ہو بلکہ قانونی دستاویزات میں بیٹوں کے نام کرنے ساتھ ساتھ ہر بیٹے کو اس کا حصہ متعین کر کے اسے مالکانہ حقوق و تصرف کا اختیار بھی دیا ہو،تو اس سے ہبہ (گفٹ) تام ہوکر ہر بیٹا اپنے اپنے حصہ کا مالک بن چکا ہے۔ اس طرح جن دو بیٹوں کو 18 مرلہ مکان کی جگہ دیکر ہر ایک بیٹے کو 9 مرلہ زمین حوالہ کردیا ہو اور انہوں نے اپنی منشاء کے مطابق اس میں تعمیرات بھی شروع کر دی ہو ں، تو اس جگہ کے مالک بھی دو بیٹے بن چکے ہیں، (اگرچہ قانونی دستاویزات میں ان کے نام ٹرانسفر نہ کیا گیا ہو)۔
لہذا اب دیگر ورثاء کیلئے اس میں حصے داری کا مطالبہ کرنا شرعا جائز نہیں ، تاہم اگر بیٹے والد صاحب کی جائیداد میں سے کافی حصہ لے چکے ہوں تو اب انہیں والد مرحوم کے ترکے میں بچ جانے والی زمین اور جائیداد میں سے کچھ تھوڑا بہت لے کر بقیہ حصہ اپنی بہنوں کے حوالے کر دینا چاہیے تاکہ ان کی بھی دل جوئی ہو سکے۔
کما فی الدر: و فی الخانیۃ لا بأس بتفضیل الأولاد فی المحبۃ لأنھا عمل القلب و کذا فی العاطایا إن لم یقصد بہ الإضرار و إن قصدہ فسوّی بینھم یعطی البنت کالإبن عند الثانی و علیہ الفتوی و لو وھب فی صحتہ کل المال للولد جاز و أثم الخ۔ ( کتاب الھبۃ، ج: 5، ص: 696، ط: ایچ ایم سعید)۔
وفیہ أیضاً: (يبدأ من تركة الميت الخالية عن تعلق حق الغير بعينها كالرهن والعبد الجاني) والمأذون المديون والمبيع المحبوس بالثمن الخ۔
وفی الشامیۃ: تحت (قوله الخالية إلخ) صفة كاشفة لأن تركه الميت من الأموال صافيا عن تعلق حق الغير بعين من الأموال كما في شروح السراجية الخ (کتاب الفرائض، ج: 6، ص: 759، ط: سعید)۔
وفي الدر المختار: (وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) والأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها، (کتاب الھبۃ، ج: 5 ص: 690، ط؛سعید)۔
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0