احکام وراثت

محض کاغذات میں نام کرنے سے جائیداد کی ملکیت کا حکم

فتوی نمبر :
88472
| تاریخ :
2025-10-31
معاملات / ترکات / احکام وراثت

محض کاغذات میں نام کرنے سے جائیداد کی ملکیت کا حکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
حضرت مفتی صاحب وراثت کی تقسیم کے متعلق شریعت کا حکم مطلوب ہے ، جس کی تفصیل ذیل میں ہے
متوفی اپنی وراثت میں ایک مربع (25 ایکڑ) زرعی زمین اور دو مکان سکنی چھوڑ کر گیا۔ متوفی نے اپنی زندگی میں اکیس ایکڑ زرعی زمین اپنی نرینہ اولاد کے نام قانونی طور پر کر دی تھی۔ باقی چار ایکڑ کل ورثاء کے لیے چھوڑ دی تھی ۔ اور دو مکان بالترتیب چھتیس مرلہ اور اٹھارہ مرلہ پر مشتمل ہیں ۔ جو مکان اٹھارہ مرلہ پر مشتمل ہے وہ متوفی نے اپنی زندگی میں (سات بیٹوں میں سے)دو بیٹوں کے نام منسوب کر دیا تھا اور اپنی زندگی میں ہی دونوں میں سے ہر ایک بیٹے کو نو مرلہ کا مکان تعمیر کر کے قبضہ دے دیا تھا ۔ دونوں بیٹوں کے نام اس مکان کی نسبت زبانی تھی ، تحریرا یا قانونا نہیں تھی ( باقی وارث اس نسبت کو جانتے بھی ہیں) دوسرے نو مرلہ کی تعمیر ان کی وفات کے بعد ہوئی ۔ عرصہ بیس سال تک یہی عملا تقسیم ہی بیان ہوتی رہی ،قانونا تقسیم صرف اکیس ایکڑ زرعی زمین کی ہی تھی ۔ اب منسوب اٹھارہ مرلہ کے رقبہ میں دیگر ورثاء نے حصہ کا مطالبہ کیا ہے ، جبکہ ان دونوں بیٹوں کا اصرار ہے کہ ہمارا والد اپنی زندگی میں یہ ہمیں دے گیا تھا ۔
اب سوال یہ ہے کہ اس اٹھارہ مرلہ کی شرعی حیثیت کیا ہے ، کیا یہ اٹھارہ مرلہ ان دونوں کے نام کے لیے خالص رہیں گے یا باقی ورثا ء بھی اس حصہ میں وارث بنیں گے؟ براہِ کرم شریعت کے مطابق آگاہ فرمائیں ، اللہ تعالی آپ کا حامی و ناصر ہو۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ کسی شخص کا اپنی صحت والی زندگی میں اپنی اولاد میں سے سب یا بعض کو اپنی جائیداد میں سے کچھ دینا ھبہ (گفٹ) کہلاتاہے، جس کی صحت اور درستگی کیلئے اس چیز کو قانونی دستاویزات میں نام کرنا کافی نہیں، بلکہ زبانی کلامی ہبہ کرنے کےساتھ ساتھ باقاعدہ مالکانہ حقوق اور قبضہ کے ساتھ حوالہ کرنا ضروری ہے، لہذا سوال میں مذکور شخص نے اپنی صحت والی زندگی میں 21 ایکڑ زمین اگر فقط کاغذات کی حد تک اپنے بیٹوں کے نام نہ کی ہو بلکہ قانونی دستاویزات میں بیٹوں کے نام کرنے ساتھ ساتھ ہر بیٹے کو اس کا حصہ متعین کر کے اسے مالکانہ حقوق و تصرف کا اختیار بھی دیا ہو،تو اس سے ہبہ (گفٹ) تام ہوکر ہر بیٹا اپنے اپنے حصہ کا مالک بن چکا ہے۔ اس طرح جن دو بیٹوں کو 18 مرلہ مکان کی جگہ دیکر ہر ایک بیٹے کو 9 مرلہ زمین حوالہ کردیا ہو اور انہوں نے اپنی منشاء کے مطابق اس میں تعمیرات بھی شروع کر دی ہو ں، تو اس جگہ کے مالک بھی دو بیٹے بن چکے ہیں، (اگرچہ قانونی دستاویزات میں ان کے نام ٹرانسفر نہ کیا گیا ہو)۔
لہذا اب دیگر ورثاء کیلئے اس میں حصے داری کا مطالبہ کرنا شرعا جائز نہیں ، تاہم اگر بیٹے والد صاحب کی جائیداد میں سے کافی حصہ لے چکے ہوں تو اب انہیں والد مرحوم کے ترکے میں بچ جانے والی زمین اور جائیداد میں سے کچھ تھوڑا بہت لے کر بقیہ حصہ اپنی بہنوں کے حوالے کر دینا چاہیے تاکہ ان کی بھی دل جوئی ہو سکے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر: و فی الخانیۃ لا بأس بتفضیل الأولاد فی المحبۃ لأنھا عمل القلب و کذا فی العاطایا إن لم یقصد بہ الإضرار و إن قصدہ فسوّی بینھم یعطی البنت کالإبن عند الثانی و علیہ الفتوی و لو وھب فی صحتہ کل المال للولد جاز و أثم الخ۔ ( کتاب الھبۃ، ج: 5، ص: 696، ط: ایچ ایم سعید)۔
وفیہ أیضاً: (يبدأ من تركة الميت الخالية عن تعلق حق الغير بعينها كالرهن والعبد الجاني) والمأذون المديون والمبيع المحبوس بالثمن الخ۔
وفی الشامیۃ: تحت (قوله الخالية إلخ) صفة كاشفة لأن تركه الميت من الأموال صافيا عن تعلق حق الغير بعين من الأموال كما في شروح السراجية الخ (کتاب الفرائض، ج: 6، ص: 759، ط: سعید)۔
وفي الدر المختار: (وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) والأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها، (کتاب الھبۃ، ج: 5 ص: 690، ط؛سعید)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالعزیز رحیم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 88472کی تصدیق کریں
0     6
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • وراثت کی تقسیم کا شرعی طریقہ کار

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 6
  • باپ کی جائیداد میں اولاد کا حصہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 4
  • کسی وارث کا اپنا حصہ میراث معاف کرنے کا طریقہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 3
  • بھائیوں کا مرحوم والد کے ترکہ میں سے بہن کو حصہ نہ دینا

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 1
  • وفات کے بعد ملنے والی پینشن اورگریجویٹی کاحکم

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • ورثے میں انشورنس کمپنی سے پیسے ملیں تو ان کا کیا حکم ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • یتیم پوتوں کو دادا کی جائیدا میں حصہ کیوں نہیں ملتا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • وراثت کی تقیسم میں بلا وجہ تاخیر کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • بیٹوں کو ہبہ کردہ حصے میں بیٹیوں کا بعد از وفات حصہ مانگنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • نافرمان بیٹے کو جائیداد سے محروم کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • بیٹوں کے نام کی گئی زمین میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بیوہ ،سات بیٹوں اور تین بیٹیوں میں ترکے کی تقسیم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکے کے مکان سے کرایہ کی مد میں حاصل شدہ رقم میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بہنوں کا میراث میں حصہ اور اپنا حصہ معاف کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • بڑے بیٹے کی کمائی میں , باپ کے انتقال کے بعد وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بیٹے کی ذاتی کمائی میں وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء=بیوہ,والد,والدہ,ایک بیٹا ایک بیٹی)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = 3 بیٹے 1 بیٹی 1 بہو 1 پوتا)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = ایک بیوہ ,دو بیٹے, ایک بیٹی, پانچ بھائی, پانچ بہنیں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بھائی کی موجودگی میں مرحومہ بہن کے ترکے میں بہن حصہ دار ہوگی یا نہیں ؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
Related Topics متعلقه موضوعات