وراثت کی تقسیم : میرے دادا عبد الحمید قریشی کی وفات ہو گئی ہے، ورثاء میں ایک بیٹا (عبدالمجید قریشی) اور دو بیٹیاں ہیں، جبکہ دادی کا دادا سے قبل انتقال ہو گیا تھا۔ اس کے بعد ایک بیٹی (پھوپھی) کا انتقال ہو گیا، ورثاء میں شوہر ، دو بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں، جبکہ اس کے بعد اس پھوپھی کا شوہر بھی انتقال کر گیا ہے، ورثاء میں دو بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں۔ عبدالمجید قریشی اور ایک پھوپھی زندہ ہے، عبدالمجید قریشی کی اولاد میں دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں، ایک بیٹی انتقال کر گئی ہے۔ پھوپھی کی اولاد میں شوہر ، ایک بیٹا اور چار بیٹیاں ہیں، سب شادی شدہ ہیں۔ گورنمنٹ نے دادا کا مکان توڑا اور پھر اس کی مد میں ساڑھے چودہ لاکھ روپے (1450000) میرے نام پر بھیجے، جس میں سے ایک لاکھ روپے کیس کے اخراجات میں لگ گئے، اب بقایا 13 لاکھ پچاس ہزار روپے (1350000) دادا کے ورثاء میں کس طرح تقسیم ہوں گے؟ رہنمائی فرمائیں۔
واضح ہو کہ سائل کےمرحوم دادا کا ترکہ اس کے موجودہ ورثاء میں اصولِ میراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ اور غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا و چاندی، زیورات، نقدی اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے، وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے، اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن و دفن کے متوسط مصارف ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3) کی حد تک اس پر عمل کریں، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے، اس کے کل اٹھائیس (28) حصے بنائیں، جن میں سے بیٹے (عبدالمجید قریشی) کو چودہ (14) حصے، بیٹی کو سات (7) حصے، ہر نواسے کو دو (2) حصے اور ہر نواسی کو ایک (1) حصہ دیا جائے ۔
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0