کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ ہمارے والد کا انتقال ہو گیا ہے، بوقتِ انتقال ان کے ورثاء میں بیوہ ، دو بیٹے اور ایک بیٹی موجود ہے، معلوم یہ کرنا ہے کہ والد مرحوم کا ترکہ مذکور ورثاء میں شریعت کے مطابق کس طرح تقسیم کیا جائےگا؟ کل رقم 6000000 روپے ہے، والد کے ذمہ 400000 قرضہ بھی ہے۔
صورتِ مسئولہ میں حقوق متقدمہ علی المیراث ( تجہیز و تکفین کے متوسط اخراجات ، قرض اور بیوہ کی حق مہر ( اگر واجب الاداء ہو) کی ادائیگی ، جائز وصیت کی ایک تہائی1/3 کی حد تک نفاذ کے بعد اگر مرحوم کے ترکہ میں یہی رقم (6000000) ہو، اور مرحوم کے ورثاء بھی یہی ہوں اس کے علاوہ کوئی وارث موجود نہ ہو تو اس رقم میں سے جو مرحوم کے ذمہ واجب الاداء قرض 400000 ادا کرنے کے بعد جو رقم 5600000 روپے باقی رہےگی، اس رقم میں سے بیوہ کو سات لاکھ ( 700000) روپے ، ہر بیٹے کو انیس لاکھ ساٹھ ہزار (1960000 ) روپے اور ایک بیٹی کو نو لاکھ اسی ہزار ( 980000 )روپے دیے جائیں ۔
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0