محترم جناب مفتی صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ !بعد از سلام انتہائی ادب کے ساتھ عرض ہے کہ میرے والد سمیت تین بھائیوں کا مشترکہ مکان ہے، ان تینوں بھائیوں میں چھوٹے بھائی کا غیر شادی شدہ حالت میں انتقال ہوگیا ہے اور مکان کو دونوں بھائیوں نے آپس میں تقسیم کر دیا ہے اور ان دونوں بھائیوں کی ایک بہن بھی ہے، جو غیر شادی شدہ بھائی کے انتقال کے بعد انتقال کر گئی ہے، بھائیوں نے مکان آپس میں تقسیم کر دیا ہے ،اب مسئلہ یہ ہے کہ غیر شادی شدہ بھائی کے حصّے میں انتقال شدہ بہن کا حصہ ہے؟ واضح ہو کے انتقال شدہ بہن کی اولاد میں ایک بیٹی اور ایک بیٹا ہے ،اب مسئلہ یہ ہے کہ انتقال شدہ بہن کی اولاد کا انتقال شدہ چاچا کی ترکہ میں حصہ ہے کہ نہیں ؟اور اگر حصہ ہے تو ایک بھائی بہن کی اولاد کو کس طرح حصہ دے ؟مسئلہ حل کر کے انتہائی مشکور فرمائے ۔
نوٹ :مزید وضاحت یہ مکان تینوں بھائیوں نے مشترکہ خریدا تھا اور ان کی ایک بہن تھی، تین بھائیوں میں سے ایک بھائی کا انتقال ہوگیا ، جو کہ غیر شادی شدہ تھا ،ورثاء میں دو بھائی اور ایک بہن حیات تھی، اس کے بعد پھر بہن کا انتقال ہو گیا ،ورثاء میں ایک بیٹا اور ایک بیٹی موجود ہے، معلوم کرنا ہے کہ مرحوم کی ترکہ میں اس کی بہن کے بچوں کا کتنا حصہ بنتا ہے؟ تفصیل کے ساتھ جواب عنایت فرمائے۔
نوٹ:مرحوم کے والدین کا انتقال مرحوم سے پہلے ہو چکا تھا۔
واضح ہو کہ جو وراث، مورث کے انتقال کے بعد فوت ہو جائے،تو شرعاً وہ اپنے مورث کے ترکہ میں حصہ دار ہوتا ہے،چنانچہ صورتِ مسئولہ میں چونکہ مذکور بہن کا انتقال اپنے غیر شادی شدہ بھائی کے انتقال کے بعد ہوا ہے،اس لئے مذکور غیر شادی شدہ بھائی کا مذکور مکان میں جتنا حصہ ہے یا اس کے علاوہ مرحوم نے ترکہ میں جو کچھ چھوڑا ہے،اس میں مرحومہ بہن بھی حسبِ حصص شرعی حصہ دار تھی ،چنانچہ مرحومہ کی وفات کے بعد ان کو ملنے والا حصہ اب ان کی اولاد میں تقسیم ہوگا ،( جس کی تفصیل آگے آرہی ہے)۔
اس کے بعد واضح ہو کہ مرحوم کا ترکہ اس کے موجود ورثاء میں اصولِ میراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہو گا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائداد سونا ، چاندی، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا سامان چھوڑا ہو ، وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے۔اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، البتہ اگر کسی اور نے تبرعاً یہ مصارف ادا کیے ہوں، تو اب یہ ترکہ سے منہا نہ ہوں گے، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں،اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3) کی حد تک اس پر عمل کریں ، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے، اس کے کل پندرہ( 15) حصے بنائے جائے،جن میں سے ہر بھائی کو چھ( 6)،بھانجے کو دو( 2) اور بھانجی کو ایک (1) حصہ دیا جائے۔
کما فی المبسوط للسرخسی : و انما تحقق الوجوب لہ عند الموت و لان المانع صفۃ الوراثۃ و لا یعرف ذالک الا عند الموت لان صفۃ الوراثۃ لا تکون الا بعد بقاء الوارث حیا بعد موت المورث الخ ( باب الوصیۃ للمورث الخ، ج 27، ص 176، ط : اسلامیۃ )۔
و فی الشامیۃ : و شروطہ ثلاثۃ : موت مورث حقیقۃ او حکما کمفقود او تقدیرا کجنین فیہ غرۃ و وجود وارثہ عند موتہ حیا حقیقۃ او تقدیرا کالحمل و العلم بجھۃ إرثہ الخ ( کتاب الفرائض، ج 6، ص 757، ط: ایچ ایم سعید )۔
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0