احکام وراثت

انتقال سے قبل بیوی عدالتی خلع لے تو کیا وہ وارث بنے گی ؟

فتوی نمبر :
88673
| تاریخ :
2025-11-09
معاملات / ترکات / احکام وراثت

انتقال سے قبل بیوی عدالتی خلع لے تو کیا وہ وارث بنے گی ؟

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام درج ذیل مسئلہ کے بارے میں :
کہ ہماری کمپنی میں ایک مزدور تھا جس کا ایک ماہ پہلے انتقال ہوا ہے، دورانِ حیات مرحوم کی ازدواجی تعلقات خراب ہونے کی وجہ سے اس کی بیوی نے کورٹ سے خلع لیا،انتقال سے چار یا پانچ ماہ پہلے،مرحوم کا ایک بیٹا چار سال کا ہے، جو ماں کے پاس ہے، مرحوم کی والدہ، دو بھائی اور دو بہنیں حیات ہیں، اب مسئلہ یہ ہے کہ درج ذیل مراعات کے حق دار کون ہیں؟
1:۔ گریجویٹی (سروس کی رقم ) کی رقم کیا وراثت میں آئیگی؟
2:۔گروپ انشورنس کی رقم کمپنی کے پاس آئیگی، اس کا حقدار مرحوم کی والدہ ہے یا بیٹا؟
3:۔ پنشن (EOBI کا قانون یہ ہے کہ اگر کسی ورکر کا دورانِ ملازمت انتقال ہوجائے تو مرحوم کی پنشن اس کی بیوی کو ملتی ہے، اگر بیوی نہ ہو تو بچوں کو آٹھ سال تک ملتی ہے، اور اگر بچے بھی نہ ہو تو مرحوم کی والدہ کو پانچ سال تک ملتی ہے) کا حقدار کون ہے؟
4:۔ Death grant کی رقم سندھ ورکرز ویلفیئر بورڈ ادا کرتی ہے، تو اس کا حقدار مرحوم کی والدہ ہے یا بیٹا،جبکہ وہ بھی EOBI کے قانون کے مطابق اولاً اس کی بیوی کو ملتی ہے، بیوی کے نہ ہونے کی صورت میں اس کے بچوں کو اور بچوں کے نہ ہونے کی صورت میں اس کی ماں ؟ جبکہ سائل سے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ ڈیتھ گرانٹ کے نام پر دی جانے والی رقم ملازم کی تنخواہ سے نہیں کاٹی جاتی ہے، بلکہ کمپنی حکومت کو جو ٹیکس ادا کرتی ہے، اس میں سے دو فیصد خود بخود (EOBI) میں جمع ہوجاتی ہے،جہاں سے کسی ملازم کے انتقال کی صورت میں اس کے زیرِ کفالت افراد کو بطورِ تبرع و احسان کے دیا جاتا ہے۔
نوٹ:۔ شوہر نے عدالت میں خلع دینے پر رضامندی ظاہر کردی تھی اور دستخط وغیرہ بھی کر دیے تھے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں مرحوم ملازم کی بیوی نے مرحوم کی وفات سے چار، پانچ ماہ قبل اگر واقعۃً اس کی رضامندی سے کورٹ سے خلع لی ہواور مرحوم شوہر نے باقاعدہ اس خلع کو قبول کرکے اس پر رضامندی سے دستخط بھی کر دیے ہوں، تو ایسی صورت میں یہ خلع درست ہوکر میاں بیوی کا نکاح ختم ہوچکا تھا اور ایامِ عدت ختم ہونے کے بعد اس کا پنے مرحوم شوہر سے چونکہ واسطہ اور تعلق ختم ہوچکا تھا، اس لئے وہ مرحوم کے ترکہ میں اپنے حصۂ شرعیہ اور مرحوم کی بیوہ ہونے کی حیثیت سے ملنے والےمختلف فنڈز/مراعات کی حقدار نہ ہوگی،جبکہ اس کے انتقال کے بعدکمپنی اور گورنمنٹ کی طرف سے گریجوٹی، انشورنس ، پنشن اور Death grant کی مد میں جو رقوم اور مراعات مرحوم کے واسطہ سے ان کے پسماندگان کو ملتی ہے ، ان کا حکم درج ذیل ہے:
گریجویٹی ،پنشن اورDeath grant :
گریجویٹی ،پنشن اورDeath grant کے نام سےملنے والی رقم حکومت یا متعلقہ ادارہ کی طرف سے مرحوم کے زیرِ کفالت افراد کے ساتھ تبرع اور احسان ہوتا ہے، اور اس نوعیت کے اموال کا ملازم چونکہ اپنی زندگی میں مالک بھی نہیں ہوتا،اس لئے اس کے مرنے کے بعد اس میں میراث کے احکام جاری نہیں ہوں گے ، بلکہ حکومت یا متعلقہ ادارہ جس فرد کو بھی اس کیلئے نامزد کرے ، وہی اس کا مستحق ہوگا، دیگر ورثاء کا اس میں کوئی حصہ نہ ہوگا،لہذا صورتِ مسئولہ میں (EOBI) کے قانون کے مطابق مرحوم ملازم کے گریجویٹی ،پنشن ورDeath grant کی مد میں ملنے والی رقم کا حقدار مرحوم کے بیوی نہ ہونے کی وجہ سےاس کابیٹا ہے،لہذا اگر مرحوم نے اپنے اس چھوٹے بچے کیلئے کوئی نگران اور وصی مقرر کیا ہو تو اس کا حصۂ میراث اور دیگر ملنے والی رقوم اس کے پاس بطورِ امانت رکھے رہیں گے،جوکہ اس کے کھانے پینے وغیرہ دیگر ضروری اخراجات پر عرف کے مطابق خرچ کرتا رہے گا، اور بچہ کے سمجھدار ہونے کی صورت میں ان کی رقوم ان کے حوالہ کیا جائے ،لیکن اگر کوئی نگران مقرر نہ ہو تو بذریعہ عدالت یا خاندان کے لوگوں کے مشاورت سے بچے کے سمجھدار ہونے تک ان کی حفاظت کیلئے کوئی دیانت دار شخص مقرر کیا جاسکتا ہے۔
گروپ انشورنس:۔
گروپ انشورنس کی مد میں جمع ہونے والی رقم بنیادی طور پر ملازم کی تنخواہ سے ہی کاٹی جاتی ہے اور اس کی دو صورتیں ہیں:
گروپ انشورنس جبری : اس میں ملازم سے اسکی رضامندی اور اختیار کے بغیر اسکی تنخواہ میں سے کچھ رقم کاٹی جاتی ہے۔ گروپ انشورنس کی جبری پالیسی کا حصہ بن جانے کی صورت میں اصل رقم مع اضافی پریمئم لینا شرعا ًجائز ہے
گروپ انشورنس اختیاری: اس میں ملازم کو پالیسی لینے پر مجبور نہیں کیا جاتا ہے، بلکہ ملازم اپنے اختیار سے اسکا حصہ بنتاہے، اورچونکہ گروپ انشورنس بھی باقی انشورنس کی طرح سود ، قمار، یا غرر پر مشتمل ہوتا ہے اس لئے ابتدائی طور پر اس پالیسی کا حصہ بننا شرعاً جائز نہیں ، البتہ اگر کوئی شخص گروپ انشورنس کا حصہ بنے تو ایسی صورت میں اگر یہ انشورنس جبری ہو اور مرحوم ملازم کے پسماندگان انشورنس کمپنی کے بجائے حکومتی ادارے سے ہی گروپ انشورنس کی مد میں رقم وصول کررہے ہوں تو اس رقم کے وصول کرنے میں کوئی حرج نہیں ، لیکن اگر یہ انشورنس اختیاری ہو تو ایسی صورت میں مرحوم ملازم کے پسماندگان کیلئے محکمہ سے صرف اتنی رقم وصول کرنی چاہیئے جو اسکی تنخواہ سے کاٹی گئی ہو، بہر دو صورت گروپ انشورنس کی مد میں ملنے والی رقم مرحوم کا ترکہ شمار ہوگی ، جوکہ اسکے تمام ورثاء میں اصولِ میراث (جس کی تفصیل ذیل میں آرہی ہے) کے مطابق تقسیم کی جائیگی۔
اس کے بعد واضح ہو کہ سائل کے والد مرحوم کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق ان کے ورثاء میں اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم کے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد، سونا ، چاندی ، زیورات، نقد رقم(گروپ انشورنس کی رقم سمیت ) اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے ، اس میں سےسب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض یا مطلقہ کا مہر واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو توبقیہ مال کے ایک تہائی(1/3) کی حد تک اس پرعمل کریں ، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل چھ (6)حصے بنائے جائیں جن میں سے مرحوم کی والدہ کو ایک (1) حصہ ،اور اس کے بیٹے کو بقیہ پانچ (5)حصے دیے جائیں، جبکہ مرحوم کے بیٹے کے موجود ہونے کی وجہ سے ان کے بھائی اور بہنوں کو شرعاً کوئی حصہ نہیں ملتا۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر: (يبدأ من تركة الميت الخالية عن تعلق حق الغير بعينها كالرهن والعبد الجاني)الخ۔
وفی الرد تحت: (قوله الخالية إلخ) صفة كاشفة لأن تركه الميت من الأموال صافيا عن تعلق حق الغير بعين من الأموال كما في شروح السراجية الخ۔ ( کتاب الفرائض، ج: ص: 759، ط: سعید)۔
وفی الھندیۃ: ثم الأجرة تستحق بأحد معان ثلاثة إما بشرط التعجيل أو بالتعجيل أو باستيفاء المعقود عليه فإذا وجد أحد هذه الأشياء الثلاثة فإنه يملكها، كذا في شرح الطحاوي. وكما يجب الأجر باستيفاء المنافع يجب بالتمكن من استيفاء المنافع إذا كانت الإجارة صحيحة حتى إن المستأجر دارا أو حانوتا مدة معلومة ولم يسكن فيها في تلك المدة مع تمكنه من ذلك تجب الأجرة، كذا في المحيط الخ۔ (کتاب الإجارۃ، الباب الثانی متى تجب الأجرة وما يتعلق به من الملك وغيره، ج: 4، ص: 413، ط: ماجدیہ)۔
وفیھا أیضاً: وإن كان الأب قد مات وترك أموالا، وترك أولادا صغارا كانت نفقة الأولاد من أنصبائهم، وكذا كل ما يكون وارثا فنفقته في نصيبه، وكذلك امرأة الميت تكون نفقتها في حصتها من الميراث حاملا كانت أو حائلا بعد هذا ينظر إن كان الميت قد أوصى إلى رجل فالوصي ينفق على الصغار من أنصبائهم، وإن كان لم يوص إلى أحد فالقاضي يفرض لكل واحد من الصغار في نصيبه بقدر ما يحتاج إليه من النفقة على قدر سعة أموالهم وضيقها ويشتري للصغير خادما إن كان يحتاج إلى الخادم(فصل في نفقة الأولاد،ج: 1، ص: 564، ط: ماجدیہ)۔
وفی الرد تحت: (قولہ كما بسطه الزيلعي) حيث قال لأنه كالمغصوب (إلی قولہ) وعلى هذا قالوا ‌لو ‌مات الرجل وكسبه من بيع الباذق أو الظلم أو أخذ الرشوة يتورع الورثة، ولا يأخذون منه شيئا وهو أولى بهم ويردونها على أربابها إن عرفوهم، وإلا تصدقوا بها لأن سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد على صاحبه الخ(کتاب الحضر و الإباحۃ، فصل في البيع، ج: 6، ص: 485، ط: سعید)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عمر فاروق شیر عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 88673کی تصدیق کریں
0     24
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • وراثت کی تقسیم کا شرعی طریقہ کار

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 6
  • باپ کی جائیداد میں اولاد کا حصہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 4
  • کسی وارث کا اپنا حصہ میراث معاف کرنے کا طریقہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 3
  • بھائیوں کا مرحوم والد کے ترکہ میں سے بہن کو حصہ نہ دینا

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 1
  • وفات کے بعد ملنے والی پینشن اورگریجویٹی کاحکم

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • ورثے میں انشورنس کمپنی سے پیسے ملیں تو ان کا کیا حکم ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • یتیم پوتوں کو دادا کی جائیدا میں حصہ کیوں نہیں ملتا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • وراثت کی تقیسم میں بلا وجہ تاخیر کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • بیٹوں کو ہبہ کردہ حصے میں بیٹیوں کا بعد از وفات حصہ مانگنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • نافرمان بیٹے کو جائیداد سے محروم کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • بیٹوں کے نام کی گئی زمین میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بیوہ ،سات بیٹوں اور تین بیٹیوں میں ترکے کی تقسیم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکے کے مکان سے کرایہ کی مد میں حاصل شدہ رقم میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بہنوں کا میراث میں حصہ اور اپنا حصہ معاف کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بڑے بیٹے کی کمائی میں , باپ کے انتقال کے بعد وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء=بیوہ,والد,والدہ,ایک بیٹا ایک بیٹی)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = 3 بیٹے 1 بیٹی 1 بہو 1 پوتا)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = ایک بیوہ ,دو بیٹے, ایک بیٹی, پانچ بھائی, پانچ بہنیں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بیٹے کی ذاتی کمائی میں وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بھائی کی موجودگی میں مرحومہ بہن کے ترکے میں بہن حصہ دار ہوگی یا نہیں ؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
Related Topics متعلقه موضوعات