والد صاحب (مرحوم) کی میراث میں ایک مکان بھی ہے،جس کی تقسیم عمل میں آنی ہے، وارثوں میں تین بیٹے اور ایک بیٹی شامل ہیں،شریعت کے مطابق بیٹوں کا حصہ بیٹی سے دوگنا ہوتا ہے، سوال یہ ہے کہ تقسیم کے عمل میں آنے والے اخراجات ( نام کی تبدیلی بروکر کی فیس) وغیرہ کی تقسیم بھی اسی شرح سے ہوگی ؟بیٹوں کی نسبت سے سے آدھے اخراجات بیٹی کے حصہ سے منہا کیے جائیں گے گے یابرابر تقسیم ہونگے؟
صورتِ مسئولہ میں تقسیم کے عمل میں آنے والے اخراجات تمام ورثاء (چاہیئے بیٹے ہو یا بیٹیاں) کےذمہ برابر لازم ہوں گے۔
کما فی الھدایۃ: قال: و اجرۃ القسمۃ علی عدد الرئوس عند أبی حنیفۃؒ الخ (کتاب القسمۃ، ج: 3-4، ص: 411، ط: ماجدیۃ)۔
و فی الدر المختار: (وإن نصب بأجر) المثل (صح) لأنها ليست بقضاء حقيقة فجاز له أخذ الأجرة عليها وإن لم يجز على القضاء ذكره أخي زاده (وهو على عدد الرءوس) مطلقا لا الأنصباء الخ (کتاب القسمۃ، ج: 6، ص: 556، ط: سعید)۔
و فی رد المحتار: تحت: (قوله مطلقا) أي سواء تساووا في الأنصباء أم لا، وسواء طلبوا جميعا أو أحدهم الخ (کتاب القسمۃ، ج: 6، ص: 556، ط: سعید)۔
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0