السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ،
میرا سوال وراثت سے متعلق ہے، میرے شوہر کی وفات ہو چکی ہے اور وہ وراثت میں تین کروڑ چھوڑ کے گئے ہیں ۔ ورثاءمیں ماں ،بیوہ ،ایک بیٹی ،دو بیٹے موجود ہیں ،الحمدللہ ۔اس لیے اسلامی قوانین کے مطابق وراثت کے حصے بتا دیے جائیں ،جزاک اللہ خیرا کثیرا۔
سائلہ کےمرحوم شوہر کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق اس کے موجود ورثاء میں اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا، چاندی، زیورات، نقدر قم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھر یلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑاہے ، اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض یا بیوہ کا حق مہر واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (3/1) کی حد تک اس پر عمل کریں ، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے، اس کے کل ایک سو بیس (120) حصے بنائے جائیں، جن میں سے مرحوم کی بیوہ کوپندرہ (15) حصے، ماں کو بیس (20) حصے، دونوں بیٹوں میں سے ہر ایک کو چونتیس(34) حصے، جبکہ ایک بیٹی کو سترہ(17) حصےدیئے جائیں،
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0