سوال ایک بیوہ جس کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں اس نے اپنے خاوند سے حاصل شدہ وراثت پانچ کنال 10 مرلہ میں سے 413 مرلہ چھوٹے بیٹے جس کے پاس وہ رہتی ہے اسے دے دیے 10 مرلہ بڑے بیٹے کو دے دیے اور سات مرلے مسجد کو دے دیے بیٹیوں کو محروم کر دیا بعد ازاں اس کا بڑا بیٹا اور چھوٹی بیٹی فوت ہو گئے فوت شدہ بیٹا بیٹی سے حاصل شدہ ترکہ بھی اپنی ملکیت میں لے کر اسی بیٹے کے تصرف میں دے دیا ہےجس کے پاس وہ رہتی ہے دریافت طلب امر یہ ہے کہ بیوہ کو اس طرح کی تقسیم کا اختیار حاصل ہے؟ اللہ کے ہاں اس کی باز پرس ہوگی؟ اگر اختیار حاصل نہیں تو تلافی کی صورت کیا ہوگی ؟
صورتِ مسئولہ میں اگر یہ تمام جائیداد واقعۃً مرحوم شوہر کی ملکیت ہو، تو ان کی وفات کے بعد اس تمام جائیداد میں ان کے تمام ورثاء حسبِ حصصِ شرعیہ شریک تھے، لہذا مرحوم کے انتقال کے بعد بیوہ کا تمام جائیداد اپنے ہاتھ میں لے کر اس میں اپنی مرضی سے سوال میں ذکر کر دہ تفصیل کے مطابق تصرف کرنا جائز نہیں ، اور نہ ہی اس کا شرعاً کوئی اعتبار ہے،بلکہ یہ تمام تر تصرفات باطل ہوں گے، لہذا بیوہ پر لازم ہے کہ وہ اس بابت تمام تفصیلات بتلا کر حکم شرعی معلوم کر کے اس پر عمل کرے ، وگرنہ مؤاخذۂ اخروی سے سبکدوشی حاصل نہ ہو سکے گی۔
کما فی مشکاۃ المصابیح: عن انس قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم: من قطع میراث وارثہ قطع اللہ میراثہ من الجنۃ یوم القیامۃ (باب الوصایا، ج: 1، ص: 266، ط: قدیمی)۔
و فی رد المحتار: لا یجوز لاحد من المسلمین اخذ مال احد بغیر سبب شرعی الخ (کتاب الحدود، ج: 4، ص: 61، ط: سعید)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0