السلام علیکم ورحمۃ اللہ
حضرات مفتیان کرام! مندرجہ ذیل اشعار سوشل میڈیا پر بہت دل چسپی سے سنی جاتے ہیں، دریافت طلب یہ ہے کہ اس میں کوئی جملہ کفریہ تو نہیں! بالخصوص ”مجھے مسجدوں کی خبر نہیں“! کیوں کہ اس میں مذہب اسلام سے بے زاری معلوم ہوتی ہے
کسی دردمند کے کام آ کسی ڈوبتے کو اچھال دے
یہ نگاہ مست کی مستیاں کسی بد نصیب پہ ڈال دے
مجھے مسجدوں کی خبر نہیں مجھے مندروں کا پتہ نہیں
مری عاجزی کو قبول کر مجھے اور درد و ملال دے
یہ میکشی کا غرور ہے یہ میرے دل کا سرور ہے
میرے مے کدہ کو دوام ہو میرے ساقیوں کو جمال دے
میں ترے وصال کو کیا کروں میری وحشتوں کی یہ موت ہے
ہو ترا جنوں مجھے پر عطا مجھے جنتوں سے نکال دے
واضح ہوکہ فقہاء کی تصریحات کے مطابق جب کسی کے کلام میں کفریہ مفہوم کےعلاوہ صحیح مفہوم کا بھی احتمال پایا جاتاہو تو ایسی صورت میں صاحبِ کلام کی تکفیر نہیں کی جائے گی البتہ اگر وہ کفریہ مفہوم ہی کا التزام اور تصریح کرے تو وہ بلا شبہ کافر ہوجائےگا,صورتِ مسئولہ میں مذکور جملہ" مجھے مسجدوں کی خبر نہیں الخ) سے بظاہر شاعر کا مقصد عملی کوتاہیوں کوبیان کرنا ہے اس لئے ان جملوں کو کفریہ تو قرار نہیں دیا جاسکتاہے, تاہم ایسے کلمات جس سےمذہب بیزاری کا وہم ہو ان سے بھی احتراز کرنا چاہئے۔
کما فی الھندیہ: سئل عن رجل قيل له: يا يكدرم بده تا بعمارت مسجد صرف كنم يا بمسجد حاضر شو بنماز، فقال: من نه مسجدا آيم ونه درهم دهم مرابا مسجد جه كار، وهو مصر على ذلك قال: لا يكفر، ولكن يعزر كذا في المحيط (ج :2 ،ص :280.
بدحواسی میں خدا تعالیٰ کو بُرا بَھلا کہنے اور قرآن کریم کو شہید کرنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1اللہ کی قسم ’’میں اسلام سے پیچھے ہٹ گیا، میں نہیں مانتا اب کسی چیز کو‘‘ کہنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 0اللہ تعالیٰ کی ذاتِ باری کے حق میں نازیبا الفاظ کہنے والے سے متعلق مختلف سوالات
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1