السلام علیکم، مفتی صاحب! الحمدللہ میں اہل سنت والجماعت احناف دیوبند سے تعلق رکھتا ہوں، یہ عقیدہ ركھنا کیسا ہے ؟ کفر؟ ، شرک؟ ، بدعت؟ کیا ہے ؟ عقیدہ (۱) اللہ عَزَّوَجَل نے انبیا عَلَیْہِمُ السَّلَام کو اپنے غیوب پر اطلاع دی زمین و آسمان کا ہر ذرّہ ہر نبی کے پیشِ نظر ہے، عقیدہ (۲) انبیا عَلَیْہِمُ السَّلَام اپنی اپنی قبروں میں اُسی طرح بحیاتِ حقیقی زندہ ہیں ، جیسے دنیا میں تھے، کھاتے پیتے ہیں جہاں چاہیں آتے جاتے ہیں ، عقیدہ (۳) حضور اقدس ﷺ اللہ کے نائبِ مطلق ہیں ، تمام جہان حضور ﷺ کے تحتِ تصرّف کر دیا گیا ہے، جو چاہیں کریں، جسے جو چاہیں دیں، جس سے جو چاہیں واپس لیں، تمام جہان میں اُن کے حکم کا پھیرنے والا کوئی نہیں، تمام جہان اُن کا محکوم ہے، اور وہ اپنے رب کے سوا کسی کے محکوم نہیں، تمام آدمیوں کےمالک ہیں ، جو اُنھیں اپنا مالک نہ جانے حلاوتِ سنّت سے محروم رہے ، تمام زمین اُن کی مِلک ہے، تمام جنت اُن کیجاگیر ہے، ملکوت السمٰواتِ والارض، حضور ﷺ جنت و نار کی کنجیاں دستِ اقدس میں دیدی گئیں، رزق وخیر اور ہر قسم کی عطائیں حضور ﷺ ہی کے دربار سے تقسیم ہوتی ہیں، دنیا و آخرت حضور ﷺ کی عطا کا ایک حصہ ہے، احکامِ تشریعی حضور ﷺ کے قبضہ میں کر دیے گئے، کہ جس پر جو چاہیں حرام فرما دیں ، اور جس کے لیے جو چاہیں حلال کر دیں، اور جو فرض چاہیں معاف فرما دیں۔ میری رہنمائی کرے۔
1۔غیب کے تمام امور کا علم تو اللہ تعالی کے ساتھ مخصوص ہے، یہ تخصیص آیات قرآنیہ سے اس صراحت کے ساتھ ثابت ہے کہ اس کے خلاف عقیدہ رکھنے کو فقہاء کرام نے کفر قرار دیا ہے، لہذا انبیاء کرام علیھم السلام کو عالم الغیب یا غیب داں یا غیب جاننے والا نہیں کہہ سکتے ، یہی وجہ ہے کہ حق تعالی نے قرآن مجید میں عالم الغیب کا لفظ صرف اپنے لیے مخصوص رکھا ہے، انبیاء علیہم السلام کے لیے اظہار اور اطلاع کا لفظ فرمایا " کماقال اللہ تعالی: عالم الغیب فلا یظھر علی غیبہ احداً۔
2۔ حیات انبیاء علیہم السلام سے متعلق اہل سنت والجماعت کا عقیدہ یہ ہے کہ آپ علیہ السلام اپنے روضہ اطہر میں حیات ہیں اور ان کی یہ حیات دنیاوی حیات سے بھی اعلیٰ وارفع ہے، اس لیے احادیث مبارکہ کی رو سے ’’جو شخص روضہ اطہر کے پاس آپﷺ پر درود پڑھتا ہے تو آپﷺ بذاتِ خود سنتے ہیں اور جواب بھی دیتے ہیں اور جو شخص دور سے درود پڑھتا ہے تو اللہ رب العزت فرشتوں کے ذریعے آپ ﷺ تک پہنچاتے ہیں‘‘۔ بایں ہمہ یہ حیات برزخی ہے۔ جبکہ عالم ميں بالارادہ تصرف کرنا،اپنا حکم جاری کرنا اپنی مرضی کے مطابق فیصلہ کرنا کسی کو روزی دینا یا لینا یہ سب اللہ رب العزت کی صفات خاصہ ہیں ان صفات کو غیر اللہ میں ماننا شرک فی الصفات و التصرفات ہے ،
لہذا انبیاء کرام علیھم السلام کو ان صفات کے متصف ماننا اور انہیں اس طرح کے تصرفات کا خود مختار قرار دینا یا جمیع ما کان و ما یکون کا عالم الغیب قرار دینا و غیرہ جملہ امور شرک فی الصفات کے زمرے میں آتے ہیں، اس لیے اس طرح کے تمام غلط اور باطل عقائد سے اجتناب لازم ہے۔
كما في القران المجيد: قُلْ لَا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعًا وَلَا ضَرًّا إِلَّا مَا شَاءَ اللَّهُ وَلَوْ كُنْتُ أَعْلَمُ الْغَيْبَ لَاسْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ وَمَا مَسَّنِيَ السُّوءُ إِنْ أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ وَبَشِيرٌ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ(سورة الاعراف ،رقم الاية:١٨٨)
وفيه أيضاً : قُلْ إِنِّي لَا أَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَلَا رَشَدًا قُلْ إِنِّي لَنْ يُجِيرَنِي مِنَ اللَّهِ أَحَدٌ وَلَنْ أَجِدَ مِنْ دُونِهِ مُلْتَحَدًا (سورة الجن ،رقم الاية : ٢١،٢٢)
وفيه أيضاً : وَلَا تَدْعُ مِنْ دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَنْفَعُكَ وَلَا يَضُرُّكَ فَإِنْ فَعَلْتَ فَإِنَّكَ إِذًا مِنَ الظَّالِمِينَ (سورة يونس، رقم الاية: ١٠٦)
وفي الترمذي: عن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "ليسأل أحدكم ربه حاجته كلها حتى يسأل شسع نعله إذا انقطع (كتاب الدعوات، رقم الحديث : ٣٦٢٨،)
وفي شرح فقه الاكبر: ذكر الحنفية تصريحا با التكفير باعتقاد ان النبي ﷺ يعلم الغيب لمعارضة قوله تعالى قل لا يعلم من في السموات و الارض الغيب الا الله ( ص: ٢٥٦، مط:قديمي كتب خانه)
وفي وفاء الوفاء في اخبار المصطفى : وأما أدلّة حياة الأنبياء فمقتضاها حياة الأبدان كحالة الدنيا، مع الاستغناء عن الغذاء،(ج : ٤، ص:١٨١ ، مط :دار الكتب العلمية)
بدحواسی میں خدا تعالیٰ کو بُرا بَھلا کہنے اور قرآن کریم کو شہید کرنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1اللہ کی قسم ’’میں اسلام سے پیچھے ہٹ گیا، میں نہیں مانتا اب کسی چیز کو‘‘ کہنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 0اللہ تعالیٰ کی ذاتِ باری کے حق میں نازیبا الفاظ کہنے والے سے متعلق مختلف سوالات
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1