کیافرماتےہیں علماءکرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ ہماری والدہ کے انتقال کےوقت ان کے ورثاء میں 3 بیٹے اور ایک بیٹی حیات تھی،اور سب کے سب شادی شدہ اور فیملی والے ہیں، براہ ِکرم قرآن وسنت کی روشنی میں تقسیمِ ترکہ کی تفصیلات تحریر کریں۔
واضح ہو کہ سائل کی مرحومہ والدہ کا ترکہ ان کےموجود ورثاء میں اصولِ میراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحومہ نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ اور غیرمنقولہ مال و جائیداد، سونا، چاندی ، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے، وہ سب مرحومہ کا ترکہ ہے، اس میں سے سب سے پہلے مرحومہ کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کر نے کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومہ کے ذمہ کچھ قرض واجب الادا ہو تو وہ کل ترکہ سے ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومہ نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (3 /1) کی حد تک اس پر عمل کریں، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے ، اس کے کل سات(7) حصے بنائے جائیں، جن میں سے مرحومہ کے ہر ایک بیٹے کو دو (2) حصے، جبکہ بیٹی کو ایک (1)حصہ دیدیں.
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0