السلام علیکم
بعد از سلام سوال یہ ہے کہ مرحوم .......نے اپنی کل جائیداد اپنے تین چھوٹے بیٹوں (.......) کے نام ہبہ کردی ہے، حالانکہ مرحوم کے مزید تین بیٹے (.........) اور تین بیٹیاں (.........) اور دو بیوائیں (......) اور ایک ہمشیرہ .......شامل ہیں۔ یہاں ایک سوال یہ بھی آتا ہے کہ مرحوم نے اپنی جو جائیداد اس میں سے اپنے ہمشیرہ کا حصہ نکالے بغیر تمام جائیداد ہبہ کرکے چھوٹے بیٹوں کو دے دیا ہے۔شریعت محمدیہ اس بارے میں کیا کہتی ہے اور تمام پسمندگان کو حق ملتا ہے یا نہیں؟ فتویٰ جاری فرما کر احسانِ عظیم فرمائیں، تاکہ یہ مسئلہ بطریقِ احسن سلجھ سکے۔ شکریہ
سوال میں ذکر کردہ وضاحت کے مطابق اگر مرحوم ....... نے اپنی بہن کو اس کا شرعی حصہ دیے بغیر والدین کے ترکہ میں ملنے والی جائیداد اپنے تین بیٹوں(.........) کو ہبہ کردی ہو تو چونکہ اس میں مرحوم کی ہمشیرہ مسماۃ........کا حصہ بھی شامل تھا، لہٰذا یہ ہبہ درست تام نہیں ہوا۔ لہٰذا مرحوم کے انتقال کے بعد اس جائیداد میں سے ہمشیرہ کا شرعی حصہ نکالنے کے بعد بقیہ جائیداد مرحوم کے تمام ورثاء میں بقدرِ حصصِ شرعیہ تقسیم ہوگی۔
اس کے بعد واضح ہو کہ صورتِ مسؤلہ میں مرحوم.....کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق ان کے موجودہ ورثاء میں اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد، سونا چاندی، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو سازوسامان چھوڑا ہو، وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے۔ جس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض یا بیواؤں کا حق مہر واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کی ایک تہائی ( 1/3) کی حد تک اس پر عمل کریں۔ اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل دو سو چالیس (240)حصے بنائے جائیں، جس میں سے مرحوم کی ہر ایک بیوہ کو پندرہ(15) حصے،ہر ایک بیٹے کو اٹھائیس (28)حصے، اور ہر ایک بیٹی کو چودہ (14) حصے دیے جائیں.
کما فی الدر المختار: و شرائط صحتھا فی الواھب العقل و البلوغ و الملک (إلی قولہ) لا تتم إلا بالقبض فیما یقسم و لو وھبہ لشریکہ أو لأجنبی لعدم تصور القبض الکامل (إلی قولہ) و لو سلمہ شائعا لا یملکہ فلا ینعقد تصرفہ فیہ إلخ۔ (کتاب الھبۃ، ج 5، ص 690۔691، ط: سعید)۔
و فی بدائع الصنائع: (و منھا) أن یکون مملوکا للواھب فلا تجوز ھبۃ مال الغیر بغیر إذنہ لاستحالۃ تملیک ما لیس بمملوک و إن شئت رددت ھذا الشرط إلی الواھب إلخ۔ (کتاب الھبۃ، ج 6، ص 119، ط: سعید)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0