کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ”ندیم انصاری“ کا انتقال ہوگیا ہے جوکہ غیر شادی شدہ تھا، اس کے ورثاء میں ذوی الفروض(والدین ،اور بہنوں وغیرہ) میں سے کوئی نہیں ہے اور نہ ہی عصبات (بھائی ، بھتیجے،چچا اور چچاکی اولاد وغیرہ) میں سے کوئی ہے،جبکہ مرحوم کی خالہ کی صرف ایک بیٹی ”شاہینہ سلطانہ“ زندہ ہے اور ماموں”انوار الحق“کی بیوہ”رشیدہ“ بھی حیات ہے۔
اس کے بعد ”محلقہ وقار “کا انتقال ہوگیا ہے ،اس کے ورثاء میں نہ ذوی الفروض (والد ،والدہ ، شوہر،وغیرہ ) میں سے اور نہ ہی عصبات( اولاد، بہن ،بھائی ، بھتیجے،چچا اور چچاکی اولاد وغیرہ) میں سے کوئی ہے، سب کے سب مرحومہ کی زندگی میں انتقال کرچکے ہیں ،محض مرحومہ کی بہن مسماۃ”قدسیہ بانو“کی بیٹی ”شاہینہ سلطانہ“ ہے، اور بھائی کی بیوہ ”رشیدہ“ بھی حیات ہے۔
جبکہ مرحومین نےاپنی زندگی میں ملکر مبلغ تیرہ لاکھ 1300000 کے عوض میں ایک سیونگ خریدا تھا،اب سوال یہ ہےکہ مرحومین کے شرعی ورثاء کون بنیں گے؟
صورت مسئولہ میں واقعۃ اگر دونوں مرحومین کے ورثاء میں کوئی بھی نہ ہوسوائے مرحومہ ”محلقہ وقار“کی بھانجی اور مرحوم ”ندیم احمد انصاری“کی خالہ کی بیٹی”سلطانہ شاہین “کے،تو دونوں مرحومین کے ترکہ میں سے حقوق متقدمہ علی المیراث (کفن دفن کے متوسط مصارف ،واجب الاداءقرض کی ادائیگی ،اورا یک تہائی کی حد تک جائز وصیت پر عمل کرنے کے بعد)جو کچھ بچ جائے وہ مرحومین کا ترکہ ہے جو ”سلطانہ شاہین“ کو بوجۂ مرحومین کے ذوی الارحام میں ہونے کے دیا جائیگا،جبکہ مرحوم ”ندیم انصاری“ کی مامی مسماۃ ”رشیدہ “اور ”محلقہ وقار“ مرحومہ کی بھابھی مسماۃ ”رشیدہ“ شرعاً ترکے میں حصہ دار نہ ہونگے ۔
کمافی الھندیۃ: وذوو الأرحام كل قريب ليس بذي سهم ولا عصبة وهم كالعصبات من انفرد منهم أخذ جميع المال، كذا في الاختيار شرح المختار وذوو الأرحام أربعة أصناف: صنف ينتمي إلى الميت وهم أولاد البنات وأولاد بنات الابن، وصنف ينتمي إليهم الميت وهم الأجداد الفاسدون والجدات الفاسدات، وصنف ينتمي إلى أبوي الميت كبنات الإخوة لأب وأم أو لأب وأولاد الإخوة لأم وأولاد الأخوات كلها، وصنف ينتمي إلى جدي الميت كالأعمام لأم وأولادهم والعمات وأولادهن والأخوال والخالات وأولادهم وبنات الأعمام لأب وأم أو لأب - فهٰؤلاء وكل من يدلي بهم ذوو الأرحام الأولى الصنف الأول وإن كان أبعد ثم الثاني ثم الثالث ثم الرابع على ترتيب العصبات الخ(کتاب الفرائض، الباب العاشر فی ذوی الارحام،ج6،ص459،ط: ماجدیۃ)۔
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0