احکام وراثت

وراثتی مکان پر خرچ کردہ رقم کا حکم

فتوی نمبر :
88977
| تاریخ :
2025-11-19
معاملات / ترکات / احکام وراثت

وراثتی مکان پر خرچ کردہ رقم کا حکم

السلام علیکم، میری والدہ نے ایک پلاٹ خریدا تھا ، اس وقت میں اور میری ایک بہن والدہ کے ساتھ رہتے تھے، ایک بھائی سعودی عرب میں تھا ،جبکہ دوسری بہن کی شادی ہوچکی تھی۔ بعد ازاں دوسری بہن کی بھی شادی ہوگئی۔ اس کے بعد میں والدہ کے ساتھ اکیلا اپنے بیوی بچوں کے ساتھ اس مکان میں رہائش پذیر رہا اور وقتاً فوقتاً گھر کی تعمیر اپنے پیسوں سے کرتا رہا۔ 2021 میں والدہ کا بھی انتقال ہوگیا، وہ اپنی زندگی میں کہہ چکی تھیں کہ یہ گھر میرا ہوگا، البتہ پلاٹ تا حال والدہ کے نام پر ہی ہے۔ اس گھر کی تعمیر میں سارا پیسہ میرا ہی خرچ ہوا ہے۔ اب اس پر وراثت کی تقیسم کیسے ہوگی؟ کیا جو رقم میں نے مکان پر خرچ کی ہے ،وہ مجھے حصے کے علاوہ الگ سے ملے گی؟ یہ بھی بتادیں کہ اگر بھائی حصہ لینے سے انکار کرتا ہےتو اس کے حصے کے پیسے کا کیا کریں ،کیوں کہ اس نے ہر طرح کے تعلقات منقطع کیے ہوئے ہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ سائل کی طرف سے والدہ کےمکان پر تعمیر ی اخراجات کرتے وقت رقم کی واپسی کا معاہدہ نہ ہوا ہو ، تو ایسی صورت میں سائل تقسیم میراث کے وقت اس رقم کوترکہ سے منہاکرنےکا مطالبہ نہیں کرسکتا،مذکورہ مکان سارا کا سارا سائل کی والدہ کی ملکیت شمار ہوکراب ان کے انتقال کے بعد ان کے تمام ورثاء میں حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم ہوگا ۔
جبکہ وارث کے حق میں وصیت شرعاً معتبر نہیں ، لہذا سائل کےلیے مرحومہ والد ہ کی وصیت (کہ مذکور پلاٹ والدہ کی وفات کے بعد آپ کا ہے) کے باوجودمذکور مکان سائل کی والدہ مرحومہ کا ترکہ شمارکرکے ان کے موجودہ ورثاء میں اصولِ میراث کے مطابق تقسیم کرنا لازم ہے۔ ( جس کی تفصیل ذیل میں درج ہے)
نیزکسی بھائی کے وراثت میں حصہ لینے سے انکار یاترک تعلق کی وجہ سے میراث میں اس کاحق شرعی ختم نہیں ہوتا،بلکہ بدستور اس کا حق ترکہ میں باقی رہتاہے ؛لہذا اس بھائی کا حصہ بھی دیگر ورثاء کی طرح تقسیمِ کرکے اس کے سپردکرنالازم وضروری ہے، البتہ مذکور بھائی کو اپنا حصہ لینے اور اس پر قبضہ کرنے کے بعد اختیار ہے کہ وہ خودرکھے یا بہن ،بھائیوں میں سے جس کو چاہے، اپنے حصہ کا مالک بنادے یا سب میں تقسیم کردے۔
اس کے بعد واضح ہوکہ سائل کی مرحومہ والدہ کے انتقال کے بعد انکا ترکہ ان کےموجود ورثاء میں اصولِ میراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحومہ نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ اور غیرمنقولہ مال و جائیداد، سونا، چاندی ، زیورات ، نقدی رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے، وہ سب مرحومہ کا ترکہ ہے، اس میں سے سب سے پہلے مرحومہ کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کر نے کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومہ کے ذمہ کچھ قرض واجب الأدا ہو تو وہ ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومہ نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (3 /1) کی حد تک اس پر عمل کریں، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے، اس کے کل چھ (6) حصے بنائے جائیں، جن میں سے ہرایک بیٹے کو دو(2) حصے، جبکہ بیٹیوں میں سے ہر ایک کو ایک (1) حصہ دےدیاجائے.

مأخَذُ الفَتوی

کمافی البحر: قالؒ (يبدأ من تركة الميت بتجهيزه) المراد من التركة ما تركه الميت خاليا عن تعلق حق الغير بعينه، الخ (کتاب الفرائض، يبدأ من تركة الميت بتجهيزه، ج 8، ص 557، ط: دار الکتاب الإسلامی)-
وفی الدر المختار: (وما حصله أحدهما فله، وما حصلاه معا فلهما) نصفين إن لم يعلم ما لكل (وما حصله أحدهما بإعانة صاحبه فله ولصاحبه أجر مثله بالغا ما بلغ عند محمدؒ،وعند أبی يوسفؒ لا يجاوز به نصف ثمن ذلك) الخ
وفی رد المحتار: تحت (قوله: وما حصله أحدهما) أي بدون عمل من الآخر،الخ (کتاب الشرکۃ، ‌‌فصل فی الشركة الفاسدة، ج 4، ص 325، ط: ایچ ایم سعید)-
وفی درر الحکام: الاحتمال الثالث إذا عمر أحد الشريكين المال المشترك بإذن الشريك الآخر أی أن تكون التعميرات الواقعة للمعمر وملكا له فتكون التعميرات المذكورة ملكا للمعمر ويكون الشريك الآخر قد أعار حصته لشريكه،الخ (الكتاب العاشر الشركات، الباب الخامس فی بيان النفقات المشتركة، ‌‌الفصل الأول فی بيان تعمير الأموال المشتركة وبعض مصروفاتها الأخرى، عمر أحد الشريكين الملك المشترك بإذن الآخر وصرف من ماله قدرا معروفا، ج 3، ص 315، المادۃ 3109، ط: دار الجیل)-
وفی العقود الدریۃ فی تنقیح الحامدیۃ: (سئل) فی رجل بنى بماله لنفسه قصرا فی دار أبيه بإذنه ثم مات أبوه عنه وعن ورثة غيره فهل يكون القصر لبانيه ويكون كالمستعير؟ (الجواب) : نعم كما صرح بذلك فی حاشية الأشباه من الوقف عند قوله كل من بنى فی أرض غيره بأمره فهو لمالكها إلخ ومسألة العمارة كثيرة ذكرها فی الفصول العمادية والفصولين وغيرها وعبارة المحشی بعد قوله ويكون كالمستعير فيكلف قلعه متى شاء،إلخ (کتاب العاریات، ج 2، ص 81، ط: دار المعرفۃ)-
وفی الدر المختار: (ولا لوارثه وقاتله مباشرة) لا تسبيبا كما مر (إلا بإجازة ورثته) لقوله عليه الصلاة والسلام "لا وصية لوارث إلا أن يجيزها الورثة" يعنی عند وجود وارث آخر كما يفيده آخر الحديث وسنحققه (وهم كبار) عقلاء فلم تجز إجازة صغير ومجنون وإجازة المريض كابتداء وصية ولو أجاز البعض ورد البعض جاز على المجيز بقدر حصته، الخ (کتاب الوصایا، ج 6، ص 655، ط: ایچ ایم سعید)-
وفی البحر الرائق: وصرح في جامع الفصولين من الفصل الثامن والعشرين لو قال وارث تركت حقي لا يبطل حقه إذ الملك لا يبطل بالترك، الخ (کتاب الوقف، جعل الواقف غلة الوقف لنفسه أو جعل الولاية إليه، ج 5، ص 243، ط: دار الکتاب الإسلامی)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبداللہ اسد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 88977کی تصدیق کریں
0     17
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • وراثت کی تقسیم کا شرعی طریقہ کار

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 6
  • باپ کی جائیداد میں اولاد کا حصہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 4
  • کسی وارث کا اپنا حصہ میراث معاف کرنے کا طریقہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 3
  • بھائیوں کا مرحوم والد کے ترکہ میں سے بہن کو حصہ نہ دینا

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 1
  • وفات کے بعد ملنے والی پینشن اورگریجویٹی کاحکم

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • ورثے میں انشورنس کمپنی سے پیسے ملیں تو ان کا کیا حکم ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • یتیم پوتوں کو دادا کی جائیدا میں حصہ کیوں نہیں ملتا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • وراثت کی تقیسم میں بلا وجہ تاخیر کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • بیٹوں کو ہبہ کردہ حصے میں بیٹیوں کا بعد از وفات حصہ مانگنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • نافرمان بیٹے کو جائیداد سے محروم کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • بیٹوں کے نام کی گئی زمین میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بیوہ ،سات بیٹوں اور تین بیٹیوں میں ترکے کی تقسیم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکے کے مکان سے کرایہ کی مد میں حاصل شدہ رقم میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بہنوں کا میراث میں حصہ اور اپنا حصہ معاف کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بڑے بیٹے کی کمائی میں , باپ کے انتقال کے بعد وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء=بیوہ,والد,والدہ,ایک بیٹا ایک بیٹی)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = 3 بیٹے 1 بیٹی 1 بہو 1 پوتا)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = ایک بیوہ ,دو بیٹے, ایک بیٹی, پانچ بھائی, پانچ بہنیں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بیٹے کی ذاتی کمائی میں وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بھائی کی موجودگی میں مرحومہ بہن کے ترکے میں بہن حصہ دار ہوگی یا نہیں ؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
Related Topics متعلقه موضوعات