احکام وراثت

وراثت سے متعلق ثالث کے فیصلے پر عملدرآمد کا حکم

فتوی نمبر :
88996
| تاریخ :
2025-11-20
معاملات / ترکات / احکام وراثت

وراثت سے متعلق ثالث کے فیصلے پر عملدرآمد کا حکم

السلام علیکم
حضرت آپ کیسے ہیں؟ امید ہے آپ خیریت سے ہوں گےمیں کچھ دن پہلے آپ کے پاس آئی تھی، اور آپ کو اپنے تمام معاملات بتائے تھے زبانی طور پر، اب میں تحریری طور بھی آپ کو تمام باتیں بتانا چاہ رہی ہوں تاکہ آپ مجھے تحریری طور پر طور پر اس کا مشورہ بھی دیں،اور میری رہنمائی بھی فرمائیں شریعت کی روشنی میں اور مجھے فتوی بھی چاہیئے۔

ہم چار بہن بھائی ہیں، دو سگے اور دو سو تیلے، میرا بھائی اور میں ہم سگے ہیں، میری پیدائش کے وقت میری والدہ کا انتقال ہو گیا تھا میرے والد نے دو شادیاں کی ہیں ،پھر دوسری شادی کی اور اس سے دوبیٹے ہیں تو اس طرح ہم دو سگے بھائی بہن اور دو سوتیلے بھائی ہیں، تو ہم چار بھائی بہن ہیں، میرے والد صاحب کا انتقال ہو گیا ہے اور میری سوتیلی والدہ ابھی حیات ہے،والد صاحب کی طبعیت خراب ہو گئی 2018میں ، اس وقت میری شادی کو 4سال ہو چکے تھے ، ان چار سالوں میں میرے والد صاحب مجھ سے کافی خفا رہا کرتے تھے جب میری والد صاحب کی طبعیت خراب ہو گئی، تو میرے جو بڑے بھائی تھے جو کہ میرے سگے ہیں وہ تو شادی سے پہلے امریکہ موو ہو گئے تھے، اور شادی کے بعد اپنی بیوی کو بھی امریکا لے گئے تھے ، میرے دو جو سوتیلے بھائی ہیں ان میں سے ایک بھائی بھی پڑھنے کے لیے امریکہ چلا گیا ، تو جب 2018میں میرے والد کی طبیعت خراب ہوئی تو میری والدہ کا اور میرے سگے بھائی کا بہت جھگڑا رہنے لگا،تو میری والدہ نے میرے متعلق جو میرا بھائی میرے والد صاحب سے غلط بات کیا کرتا تھا اس کا جھوٹ والد صاحب کو بتایا تو ہماری بہت ساری پرانی باتیں جو ہیں وہ کھل کر سامنے آنے لگی تو کلیریفکیشن ہونے لگی تو بہت ساری باتوں کا خلاصہ ہو گیا، جب خلاصہ ہوا تو میرے والد صاحب کے سامنے بالکل سچ عیاں ہو گیا اور جب سچ عیاں ہوا تو انہوں نے بڑے بھائی سے کہا کہ تم نے مجھے اتنی غلط باتیں بتائیں، بھائی نے بھی اس وقت اس بات کو تسلیم کر لیا کہ جیسا ..... بتا رہی ہے وہی سچ ہے، اس کے بعد والد صاحب مجھ سے بہت کلوز ہو گئے اور والد صاحب بھائی سے ناراض ہو گئے کہ تم نے مجھے اتنے سال اندھیرے میں رکھا اور اس بات کی میری والدہ بھی گواہ ہیں،اس کے بعد میرے والد صاحب نے ایک دفعہ غصے میں میرے بھائیوں کو کہا کہ میں ساری جائید اور پراپرٹی اپنی بیٹی کے نام کر دوں گا ،تو وہ گھبرا کے ایک دن میں امریکہ سے آگئے اور انہوں نے سارے ڈاکومنٹس دیکھے، سارے پیپرز دیکھے، تو والدصاحب اس پر بھی ناراض ہوئے کہ بھائی میں ایسا کرنے والا نہیں تھا میں نے غصہ میں یہ بات کہی تھی لیکن تم میرے ساتھ کبھی میرے پاس رہنے، میری سپورٹ کے لئے نہیں آئے لیکن جب جائیداد کا ذکر ہوا تو تم سب ایک دن میں یہاں آگئے ۔

خیروالد صاحب کا 2019 میں انتقال ہو گیا، انتقال کے سے پہلے میرے تایا جو کہ امریکہ میں رہتے ہیں وہ بھی کراچی آگئے تھے، ان کے سامنے انہوں نے وصیت لکھی اور وصیت میں یہ لکھا کہ تمام میری پراپرٹی جو ہے وہ شریعت کے مطابق اس کا فیصلہ ہو لیکن جس گھر میں ہم سب رہتے تھے جو میرے والد صاحب کا گھر تھا وہ گھر نہ بیچا جائے جب تک میری سوتیلی والدہ حیات ہیں، یہ میری خواہش ہے،میری والدہ نے اس وقت نیا انکشاف کیا کہ مجھے والد صاحب نے یہ کہا تھا کہ ..... کو جو گھر شادی کے وقت دلایا تھا اس کے پیسے کاٹ کر ... کو ..... کا حصہ دے دیا جائے، میرے تایا جن کے سامنے وصیت لکھی والد صاحب نے انہوں نے کہا کہ مجھے والد صاحب نے کوئی ایسی بات نہیں کہی. کیا کسی اور سے والد صاحب نے یہ بات کی یا کوئی اور گواہ ہے اس بات کا؟ تو پھر میرے بڑے بھائی نے بھی اسی وقت یہ بات کی کہ مجھ سے والد صاحب نے شادی کے وقت یہی بات کہی تھی جب میں نے یعنی بھائی نے میرے گھر دلانے پر اعتراض کیا تھا اور اعتراض گھر کی قیمت کے اوپر تھا جیسا میں نے اوپر بتایا کہ ہماری لڑکے والوں سے جتنی رقم کی بات ہوئی تھی والد نے اس سے زیادہ رقم کا گھر دلایا ، مجھے یعنی ..... کو کبھی والد صاحب نے ایسی نہ بات کی نہ کبھی ہمارا ایسا ذکر ہوا تو مجھے اس بات کا علم نہیں تھا میں نے یہ والی بات بھی سب کے سامنے کی۔

میرے والد کے انتقال کے بعد میرے سگے بھائی بڑےبنے اس وقت انہوں نے کہا کہ اب سب کچھ میں سنبھالوں گا میں باپ کی جگہ پہ ہوں، ہم سب نے کہا ٹھیک ہے آپ بڑے ہیں آپ چلائیں، میں نے اس وقت کوئی ایسی بات نہیں کی حصے کے حوالے سے، کوئی میراث کےحوالے سے انہوں نے خود مجھے کچھ دن بعد کہا کیونکہ میرے کلفٹن والے گھر میں پانی کے کچھ مسائل تھے ، کچھ روحانی مسائل تھے جس کا انہیں بھی علم تھا، تو انہوں نے مجھے خود ہی کہا کہ یہ جو بنگلہ ہے جس میں ہم سب رہتے ہیں کیونکہ اس میں ہم ہی رہیں گے اور آپ کی شادی ہو گئی ہے اس لیے بنگلے کی جائیداد میں آپ کا جو بھی حصہ ہے، وہ حصہ آپ کو والد کی کوئی اور جائیداد بیچ کر دیا جائے گا اور پھر حساب بعد میں کیا جائے گا،مجھے یہ بات سن کر خوشی ہوئی اور میں نے سوچا کہ بھائی اب ٹھیک ہو گئے ہیں ہیں ،پرانی باتیں بھول گئے اور میں نے یہ سوچا کہ شاید والد صاحب کے انتقال کے بعد ان کے اوپر ذمہ داری آگئی ہے تو وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے اب تھوڑا سا اعتدال پسند ہو گئے ہیں، پھر بھائی امریکہ چلے گئے وہاں جا کر انہو نے مجھے گھر کے پیسے دینے کا منع کردیا اور الٹا مجھ سے کہا کہ یہ جو گھر آپ کو دیا تھا میرے والد صاحب نے جس میں آپ شادی کے بعد رہ رہی ہے وہ گھر آپ کا نہیں ہے وہ ہماری جا ئیداد کا حصہ ہے اور آپ اس کا کرایہ دیں ہمیں ہر مہینے،انہوں نے یہ بھی کہا کہ میں نے وکیل سے بھی بات کی ہے، وکیل نے یہ بھی کہا کہ آپ کو اس گھر کا کرایہ ادا کرنا پڑے گا،میں نے ان سے کہا کہ ہم گھر میں آپس میں بات کر رہے ہیں لیکن جب آپ نے وکیل کی بات کر ہی لی ہے تو اب میں بھی وکیل اور مفتی حضرات سے مشورہ کر کے بات کروں گی ۔

پھر میں نے قانونی مشاورت شروع کردی اور علماءِ کرام سے بھی مشورہ کیا تو مجھے مشورہ اور فتوی یہ ملا کہ یہ جو گھر میرے والد صاحب نے مجھے دیا ہے یہ گھر میرا ہے اسکا سب کی جائیداد میں حصہ نہیں اور والد صاحب کی خواہش اپنی جگہ ہے ان کے گھر کے حوالے سے، پر میں چاہو ں تو اس بنگلہ میں حصہ لے سکتی ہوں،جب یہ دو مشورے ہو گئے یعنی ایک والد کے بنگلے کے حوالے سے دوسرا میرے اپنے گھر کے حوالے سے، تو میں نے یہ بات سب کے سامنے رکھی تو سب نے کہا ایسا نہیں ہے اور نہ ہو سکتا ہے تو میں نے بھائی اور امی دونوں کو یہ بات یاد ولائی کہ آپ نے ہی مجھے والد کے گھر سے حصہ دینے کی بات کی تھی جس کی امی بھی گواہ ہے تو بھائی نے کہا کہ میں نے ایسی کوئی بات نہیں کی اور اگر کی بھی تھی تو میں ایسا نہیں کر رہا اور امی نے بھی کہا کہ مجھے بھی ایسی کوئی بات یاد نہیں ،میں نے بھائی سے کہا کہ تم حافظ قرآن ہو تراویح پڑھاتے ہو اللہ کے خوف کا کہا تو بھائی نے کہا کے میں اللہ کو جواب دے دونگا، (ہم چاروں بھائی بہن حافظ قرآن ہیں )۔

میں نے اپنے تایا کو جو کہ والد صاحب کے انتقال سے ایک مہینہ پہلے کراچی آگئے تھے اور انہیں کے سامنے میرے والد کا انتقال ہوا اور وصیت کے گواہ بھی تھے میں نے یہ ساری باتیں جب انہیں کی، انہوں نے کہا کہ اگر آپ اپنا حق مانگنا چاہتی ہو تو بالکل ایسا ہی ہے، ہم نے آپ کو دینا ہوگا میں درمیان میں رہ کے یہ سارے فیصلہ کروا دیتا ہوں،بہر حال انہوں نے فیصلہ کرنے کے لئے ہم سب سے لکھوا لیا کہ وہ جو فیصلہ کریں گے ہم سب کو قبول ہوگا اور انہوں نے اپنے امریکہ کے حساب سے وہاں کے قانون کے حساب سے وہاں کے مفتی حضرات کو لے کر اس حصے کو کرنے کی کوشش شروع کر دی، اچھا ہم نے بھی لکھ کر دے دیا تھا تو بہت ساری باتوں پہ میں اختلاف ہونے کے با وجود بھی ہم نے اس وقت کچھ نہیں کہا کیونکہ ہم نے ان کو بڑا بنایا تھا ثالثی کا کردارادا کرنے کے لئے تو پھر ہم نے ان کی مانی بھی تھی،لیکن بھائیوں نے اس وقت جو پراپرٹی کی جو ویلیویشن تھی اس ویلیویشن کے اندر انہوں نے غلط بیانی کی جو ویلیوشن پراپرٹی کی تھی وہ مارکیٹ سے بہت کم لگائی انہوں نے مارکیٹ میں اس پراپرٹی کو اس حساب سے ویلیوشن لگائی کہ جب کسی کا انتقال ہو جاتا ہے اور لیگل ہیرز کے ایشو کی وجہ سے پراپرٹی میں جب کوئی جھگڑے آجاتے ہیں تو مارکیٹ میں اس کی کم قیمت لگتی ہے تو انہوں نے اس قیمت کے حساب سے ان کا تعین کیا، میں نے اس وقت بہت اختلاف کیا ،پر تایا نے اپنے حساب سے درمیان کا فیصلہ کرا دیا ،مجھے اس وقت پراپرٹی کی قیمت پر اختلاف تھا لیکن معاملہ کے حل کے لئے میں نے رضا مندی ظاہر کر دی،ساری پر اپرٹی میں ویلیوشن ہو کے ایک حصے کا تعین ہو گیا، اچھا اس میں جو میرا گھر میرے نام پہ تھا چچا نے وہ فیصلہ یہ کر لیا کہ امریکا کے مفتی کہتے ہیں کہ جس کے نام پر پراپرٹی ہوتی ہے اسی کی ملکیت ہوتی ہے تو جو گھر ایمن کے نام ہے وہ ایمن کا رہیگا۔

بہر حال ساری پراپرٹی جو ہیں وہ والد صاحب کے نام پہ تھی، تو وہ ڈسٹریبیوشن بن گیا والدصاحب ہمارے نام پہ اکثر پراپرٹیز لیتے رہتے تھے ہمارے نام پہ کرتے تھے اور پھر اس کو سیل کر دیتے تھے اسی طرح ایک شوروم جو ہے وہ والدہ کے نام پہ رہ گیا تھا وہ والد صاحب نے والدہ کے نام پہ کیا تھا،اسی طرح پھر تایانے یہ فیصلہ کیا کہ جو گھر آپ کے نام یہ تھا وہ آپ کی ملکیت ہے، یعنی کہ میرا گھر جو مجھے شادی کے ٹائم ملا تھا اور اسی طرح جو والدہ کی دکان والد صاحب والدہ کے نام پہ کر کے گئے تھے وہ والدہ کی ہے، ہم میراث کی تقسیم میں دکان کی ملکیت کو ابھی شامل نہیں کریں گے، تو تایا نے اس فیصلے کے مطابق حصہ کرا دیا،ہم نے فیصلہ کے بعد جب فتوی لیا تو جواب یہ آیا کے والدہ کی دکان کے حوالے سے فیصلہ ٹھیک نہیں ہوا اس وکان کو بھی میراث میں شامل ہونا چاہیئے،پھر میرے حصے کی مالیت کی مجھے ایک دکان می جس میں میرا 80%شئیرز آئے اور باقی سب 20%شئیرز کے مالک بنے، میرے اتنے پیسے نہیں بنے کہ پوری ملکیت کی مجھے 100%دکان ملتی لیکن فیصلہ کے وقت یہ بات فائنل ہوئی کہ یہ وکان100%ایمن کے نام ہوگی لیکن اس میں 20%سب کا حصہ ہے،میری دکان کو میں نے کرائے پہ چڑھایا اور اس میں 20 فیصدسب کا حصہ تھا، میں نے ان کو ایمانداری سے پچھلے پانچ سال تک بیس پر سینٹ کے حساب سے ہر مہینہ ان کو کرایہ پہنچاتی رہی ،میری والدہ کے نام پہ جو دکان تھی وہ والدہ کے نام پہ دکان انہوں نے کرائے پہ نہیں چڑھائی اور انہوں نے اور میرے بھائیوں نے کہا کہ دکان کی ویلیو خراب ہو جائے گی جبکہ اس کی قیمت اس وقت سولہ کروڑ روپے تھی اور تقسیمِ میراث کے وقت بھی سولہ کروڑ کی مالیت طےہوئی تھی، پر اس کو حصے میں شامل نہیں گیا گیا تھا ۔

آج پانچ سال بعد انہوں نے وہ دکان ساڑھے بارہ کروڑ روپے کی سیل کر دی، اب میرا مسئلہ یہ آرہا ہے کہ میں ان سے یہ کہتی ہوں کہ بھائی اس دکان کو کیونکہ آپ نے اب بیچ دیا ہے تو آپ اس میں سے میرا حصہ دے دو میرے تینوں بھائی اور میری والدہ اس چیز کے لیے مجھے منع کر رہے ہیں، اچھا میری جو دکان تھی میں نے اس کو بھی سیل کر دیا تو مجھے 20 فیصد جو سیل کا اماؤنٹ ہے وہ مجھے ان سب کو واپس کرنا ہے،اب مجھے آپ سے اوپر دی ہوئی تمام تفصیل کے حوالے سے سوال کرنے ہیں:

(1)میرا پہلا سوال یہ ہے کہ میں اگر والدہ کو جو دکان والدہ کی تھی، والدہ نے بیچ دی ہے، کیا میں ابھی جو پیسے مجھے اپنی دکان کے بیس فیصد والے دینے ہیں والدہ کو، کیامیں اپنے حصے کے لیے اس میں سے کاٹ کے ان کو واپس ادا کر سکتی ہوں؟

(2) دوسرا سوال میرا یہ ہے کہ اگر میں یہ پیسے کاٹ کے والدہ کو دے سکتی ہوں تو کیا میں اس وقت جو ویلیو سیٹ ہوئی تھی سولہ کروڑ کی وہ اس سے کاٹوں گی یا جو ساڑھے بارہ کروڑ روپے میں جو اب سیل ہوئی ہے اس سے کاٹوں گی ؟ کیونکہ انہوں نے تو اس دکان کے استعمال میں مجھے کبھی شامل نہیں کیا، نہ کرائے پہ چڑھایا، نہ فیصلے میں شامل کیا۔

(3) میرا تیسرا سوال یہ ہےکہ جب یہ سارا فیصلہ ہوا تھا تو میں نے تایا کے فیصلے کو قبول بھی کیا تھا اور اس بات پر بھی راضی ہوئی تھی کہ امی کی دکان میں میرا حصہ نہیں ہے اور یہ دکان امی کی ہے ،جب بعد میں فتوی لیا تو مجھے احساس ہوا کہ مجھ سے غلط فیصلہ ہوا تو اس وقت میں کچھ کر نہیں سکتی تھی کیوں کہ فیصلہ ہو چکا تھا تو اب اس معاملہ میں مجھے کیا کرنا چاہیے ؟



والدہ کا کردار اور سب معمولات جو میں سمجھتی ہوں کہ آپ کو علم ہونا چاہیے:

جب بھائیوں کا اور والدہ کا آپس میں جھگڑا رہنے لگا والد کے انتقال سے پہلے، اور بھائی جب امریکہ میں رہتے تھے تو والد صاحب سے میں نے والدہ کیلئے بات کی کہ آپ کے بعد ہماری والدہ کا کیا ہوگا،تو والد کے سامنے والدہ اس وقت رویا کرتی تھی کہ میرے ساتھ زیادتی ہوگی تو میری بات کرنے کی وجہ سے والد صاحب نے یہ وصیت کے اندر گھر کی بات لکھی کہ گھر جب تک سیل نہ کیا جائے جب تک میری بیوی حیات ہے یا یوں کہہ لے کہ اپنی خواہش کا اظہار کیا لیکن جب میراث کی تقسیم کا وقت آیا تو والدہ نے کہا کہ مجھے نہیں پتا کہ تم نے میرے لئے یہ بات کی ہے مجھے یاد نہیں۔
والد کے انتقال سے پہلے جب بھائیوں کا والدہ سے جھگڑا چلتا رہا تو وہ میرے ساتھ کھڑی رہی اور اسی دوران میں نے والد سے امی کی سیکورٹی کے حوالے سے بات کی ، لیکن انتقال کے بعد والدہ بھائیوں کی سائیڈ ہو گئی اور اچانک میری مخالف ہو گئی اور ان کی طرف کھڑی ہو گئی، جب تقسیم میراث ہو گیا اس کے کچھ ٹائم بعد والدہ نے خود مجھ سے تعلقات بہتر کرنا شروع کر دیے اور بڑے بھائی کے دوبارہ خلاف ہو گئی اور مجھ سے کہا کے مجھے تو پتا ہی نہیں کہ بڑے بھائی تمہارے ساتھ اتنی زیادتی کر رہے تھے، تب میں نے ان سے یہ کہا کہ ایسا نہیں ہے سب آپ کے سامنے تھا سب آپکے رہتے ہوئے ہی ہو رہا تھا اور میں نے آپکو بار بار بتایا بھی لیکن اس وقت آپ نے میرا ساتھ نہیں دیا اور آپ ان کی طرف ہو گئی تھی، وہ کہتی تھی کہ میں مجبور تھی، مجھے بھائیوں کے ساتھ رہنا ہے ،تو میں اس وقت تمہارا ساتھ نہیں دے سکتی تھی،اس کے بعد والدہ نے مجھے کہا کہ میرے بیٹے یعنی میرے جو سوتیلے بھائی ہیں وہ کہہ رہے ہیں کہ بڑے بھائی جو میرا سگاہے اسے اپ نے اپنی دکان میں حصہ دینا ہوگا ،تو میں نے کہا کہ آپ تایا سے مشورہ کرلے ، بعد میں امی نے مجھے بتایا کہ انہونے مشورہ کیا تھا اور تایا نے کہا کہ آپ کو بڑے بیٹے کو بھی دینا چاہیے اور بیٹی کو بھی دینا چاہیے، تو ایمن یعنی مجھے بھی دےگی خود سے کہا انہو نے ، اب جب مکان فروخت ہو چکی ہے تو امی اس بات سے بھی منع کر رہی ہے کہ میں نے ایسی کوئی بات نہیں کہی تھی ۔


مجھے نیچے دیے ہوئے سوال کے حوالے سے بھی فتوی چاہیے:

میری والدہ جو ہیں وہ سوتیلی ہے،تو کیا مجھے ابھی یہ بات ان سب ڈیٹیل کے بیچ میں کرنی چاہیئے کہ آپ کے جانے کے بعد کیا آپ کی جائیداد میں میرا حصہ ہے؟ تو وہ بھی ابھی آپ لکھ کے جاؤ کیونکہ میرے بھائی تو پھر مجھے کبھی نہیں دیں گے ،یا پھر جو ہے وہ اس میں میرےسوتیلےہونے کی وجہ سے میرا مانگنا شرعاً بنتا ہی نہیں وہ میرے دو سوتیلے بھائیوں کا بنتا ہے؟ اس کی رہنمائی فرمائے اگر میرا حصہ بنتا ہے تو میں اس معاملہ کو کیسے ڈیل کروں؟ کیونکہ وہ تو ابھی لکھ کر مجھے دیں گے ہی نہیں ۔

نوٹ: میں نے تمام پراپرٹی کے پیرز جب چیک کرائے تو مجھے یہ معلوم ہواکہ بھائیوں نے تمام پراپرٹی میں والدہ کو بھی انکال دیا ہے ، ساری پراپرٹی بھائیوں نے صرف اپنے نام کرالی ہے لیکن جب میں نے والدہ کو اس کا ذکر کیا تو والدہ بھائیوں سے کہہ نہیں سکتی اور جب میں نے تایا سے ذکر کیا تو تایا نے کہا کہ والدہ کو خود اسٹینڈ لینا پڑے گا ،میں اس میں خود سے کیسے کہوں، بہر حال وہ میرا مسئلہ نہیں تھا میں نے تو ایک چیز دیکھی اور والدہ کی سیکیورٹی کے لیے والدہ کو اس کی اطلاع دی۔

تنقیحات:۔السلام علیکم!سوال کے جواب سے قبل چند امور ایسے سامنے آئے جن کی مزید وضاحت ضروری ہے،لہذا درج ذیل امور کی وضاحت مطلوب ہے:

(1) سائلہ نے اب تک وراثت کے بارے میں جتنے بھی فتادی حاصل کیے ہیں، ان کی نقول۔

(2)وراثت کی تقسیم کے لیے چچا کو ثالث مقرر کر کے جس دستاویز پر دستخط کیے گئے، اس کی کاپی۔

(3) چچا نے تقسیم سے قبل جن مفتیانِ کرام سے شرعی حکم دریافت کیا، اگر وہ تحریری صورت میں موجودہے تو اس کی کاپی ارسال کریں۔

جواباتِ تنقیحات:۔و علیکم السلام!حضرت ، میں ملک سے باہر ہوں اسی وجہ سے میرا فون نہیں لگ رہا۔

پہلے سوال کا جواب یہ ہے کہ ابھی تک کوئی بھی فتوی موصول نہیں ہوا، لکھنے کا مقصد صرف یہ تھا کہ مفتی صاحب سے زبانی طور پر پوچھا، تحریری طور پر ابھی کچھ بھی نہیں آیا۔

دوسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ وہ دستاویز ہمارے پاس نہیں ہے ، لیکن اس میں اس شوروم کو ہر گز شامل نہیں کیا گیا تھا جس کا میں نے سوال میں ذکر کیا ہے ، اور نہ ہی اس کے بارے میں کچھ لکھا گیا تھا۔ باتی جائیدادیں جن کی تقسیم ہو چکی ہے، اُن کے بارے میں لکھا گیا تھا اور سب کے دستخط موجود ہے۔

تیسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ چچا نے امریکہ میں کچھ مفتیانِ کرام سے مشورہ کیا تھا جن کے بارے میں ہمیں علم نہیں ہے، ہم نے اس وقت بھی کہا تھا کہ پاکستان کے علما ءسے پوچھ لیں، تو انہوں نے کہا کہ پاکستان کا طریقہ الگ ہے، امریکہ میں صحیح مفتی مل جاتے ہیں،لیکن جب تقسیم کے وقت اس بات کا ذکر ہوا تھا کہ یہ شوروم جس کا میں نے سوال میں ذکر کیا ہے،والدہ کا ہے، تو میں نے اس وقت اس بات پر رضامندی ظاہر کردی تھی کہ ٹھیک ہے، بعد میں مجھے مفتیان کرام سے معلوم ہوا کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا،یہ والد کے ترکے میں شامل ہونا چاہیے تھا، لیکن اس وقت سب کچھ زبانی پو چھا تھا، کوئی باقاعدہ فتوی نہیں لیا گیا تھا۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سوال میں ذکرکردہ تفصیل کے تناظر میں سائلہ مسماۃ ”....“ سے اس مسئلہ سے متعلق حاصل کردہ فتاوی جات کے نقول اور چچا کو ثالث مقرر کرنے کے لئے دستخط شدہ دستاویز کی کاپی وغیرہ طلب کی گئی تھی تا کہ ان کی روشنی میں سائلہ کے چچا کے مذکور تقسیم و فیصلہ سےمتعلق حکمِ شرعی سے آگاہ کیا جائے، لیکن سائلہ نےچونکہ یہ دستاویزات ارسال نہیں کیے اس لئے اس کے چچا کے مذکورتقسیم اور فیصلہ کے متعلق کوئی یقینی حکم تو بیان نہیں کیا جاسکتا۔
تاہم اصولی جواب ذکر کیا جاتا ہےکہ جب سائلہ اور دیگر ورثانے باہمی رضامندی سےاپنے والدِ مرحوم کے ترکہ کی تقسیم کیلئے اپنے چچا کو حَکم(ثالث) بنادیا تھااور انہوں نے اس پورے معاملہ کی تفصیلات جاننے کے بعد مختلف علماء اور مفتیانِ کرام سے مشورہ کرنے کے بعد اس نتیجہ پر پہنچے ہوں کہ سائلہ کے نام پر موجود گھر سائلہ کی ملکیت اور سائلہ کی سوتیلی والدہ کے نام پر مذکور دکان/ شوروم اس کی ملکیت شمار ہوگی، اوراس وقت اس فیصلہ و تقسیم پر سائلہ سمیت دیگر ورثاء نے رضامندی بھی ظاہر کردی تھی، تو یہ فیصلہ شرعاً بھی نافذ ہوچکا ہے، اور اب سائلہ سمیت تمام ورثاء کو اس فیصلہ پر عمل کرنا لازم و ضروری ہے،لہذا اب سائلہ کیلئے اس دکان/شوروم کے فروخت کرنے کی صورت میں اپنی سوتیلی والدہ سے اپنے حصہ کا مطالبہ کرنا یا پھر سائلہ کے حصہ میں آنے والی دکان میں سائلہ کی سوتیلی والدہ و دیگر ورثاء کے بیس(20) فیصد حصہ میں سے اس رقم کے عوض کٹوتی کرنا شرعاًجائز نہیں، جس سے اجتناب لازم ہے۔
جبکہ سائلہ کے سوتیلی والدہ کے انتقال کی صورت میں اس کی حقیقی اولاد (سائلہ کے سوتیلے بھائی) ہی اپنی والدہ کے ترکے کی شرعاً حقدار ہوگی اور سائلہ کا اس کے ترکہ میں شرعاً کوئی حصہ نہ ہوگا، اس لئے سائلہ کو حصہ نہ ملنے کے خوف سے اس کی زندگی میں اس کے مال و جائیداد میں حصہ طلب کرناشرعاً جائز نہیں، جس سے اجتناب چاہیئے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الھدایۃ: وإذا حكم رجلان رجلا فحكم بينهما ورضيا بحكمه جاز لأن لهما ولاية على أنفسهما فصح تحكيمهما وينفذ حكمه عليهما، وهذا إذا كان المحكم بصفة الحاكم لأنه بمنزلة القاضي فيما بينهما فيشترط أهلية القضاء (إلی قولہ) ولكل واحد من المحكمين أن يرجع ما لم يحكم عليهما لأنه مقلد من جهتهما فلا يحكم إلا برضاهما جميعا "وإذا حكم لزمهما" لصدور حكمه عن ولاية عليهما إلخ(کتاب أدب القاضی، باب التحکیم، ج: 3، ص: 151، ط: رحمانیۃ)۔
وفی الدر المختار: (حكما رجلا) معلوما إذ لو حكما أول من يدخل المسجد لم يجز إجماعا للجهالة (فحكم بينهما ببينة أو إقرار أو نكول) ورضيا بحكمه (صح لو في غير حد وقود ودية على عاقلة) الأصل أن حكم المحكم بمنزلة الصلح وهذه لا تجوز بالصلح فلا تجوز بالتحكيم (وينفرد أحدهما بنقضه) أي التحكيم بعد وقوعه (كما) ينفرد أحد العاقدين (في مضاربة وشركة ووكالة) بلا التماس طالب (فإن حكم لزمهما) ولا يبطل حكمه بعزلهما لصدوره عن ولاية شرعية إلخ(باب التحکیم، ج: 5، ص: 428۔429، ط: سعید)۔
وفی الھندیۃ: ویستحق الإرث باحدی خصال ثلاث بالنسب وھو القرابۃ والسبب وھو الزوجیۃ والولاء إلخ( کتاب الفرائض، الباب الأول فی تعریفھا و فیما یتعلق بالترکۃ، ج: 6، ص: 447، ط: ماجدیۃ )۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عمر فاروق شیر عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 88996کی تصدیق کریں
0     4
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • وراثت کی تقسیم کا شرعی طریقہ کار

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 6
  • باپ کی جائیداد میں اولاد کا حصہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 4
  • کسی وارث کا اپنا حصہ میراث معاف کرنے کا طریقہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 3
  • بھائیوں کا مرحوم والد کے ترکہ میں سے بہن کو حصہ نہ دینا

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 1
  • وفات کے بعد ملنے والی پینشن اورگریجویٹی کاحکم

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • ورثے میں انشورنس کمپنی سے پیسے ملیں تو ان کا کیا حکم ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • یتیم پوتوں کو دادا کی جائیدا میں حصہ کیوں نہیں ملتا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • وراثت کی تقیسم میں بلا وجہ تاخیر کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • بیٹوں کو ہبہ کردہ حصے میں بیٹیوں کا بعد از وفات حصہ مانگنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • نافرمان بیٹے کو جائیداد سے محروم کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • بیٹوں کے نام کی گئی زمین میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بیوہ ،سات بیٹوں اور تین بیٹیوں میں ترکے کی تقسیم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکے کے مکان سے کرایہ کی مد میں حاصل شدہ رقم میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بہنوں کا میراث میں حصہ اور اپنا حصہ معاف کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بڑے بیٹے کی کمائی میں , باپ کے انتقال کے بعد وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء=بیوہ,والد,والدہ,ایک بیٹا ایک بیٹی)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = 3 بیٹے 1 بیٹی 1 بہو 1 پوتا)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = ایک بیوہ ,دو بیٹے, ایک بیٹی, پانچ بھائی, پانچ بہنیں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بیٹے کی ذاتی کمائی میں وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بھائی کی موجودگی میں مرحومہ بہن کے ترکے میں بہن حصہ دار ہوگی یا نہیں ؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
Related Topics متعلقه موضوعات