ایک شخص نے اپنی زندگی میں اپنی دو بیٹیوں کو اور یتیم پوتوں کو وراثت میں حصہ نہیں دیا۔ بلکہ ایک بیٹا جو زندہ ہے سب اسی کو دے دیا ہے۔اس پر گناہ کیسا ہوگا اور کیا أس شخص کی وفات پر اس کا جنازہ پڑھنا جائز ہوگا؟
واضح ہو کہ ہر شخص اپنی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلا ہونے سے قبل اپنی تمام مال و جائیداد کا تنہا مالک ہوتا ہے، وہ جس طرح چاہے اس میں تصرف کر سکتا ہے، اولاد میں سے کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اس کو اس تقسیم پر مجبور کرے، البتہ اگر کوئی شخص بلا جبر و اکراہ محض اپنی مرضی و خوشی سے اپنا مال و جائیداد اپنی اولاد میں تقسیم کرنا چاہے تو اسے اس کا اختیار ہے، اور یہ تقسیم شرعاً ترکہ کی تقسیم نہیں بلکہ ہبہ ( گفٹ ) کہلاتا ہے پھر بہتر یہ ہے کہ اس ہبہ اور اعطاء میں سب کو برابر کرے ، کہ سب ہی اس کی اولاد ہیں کسی کو زیادہ کسی کو کم نہ دے ، البتہ کسی کی خدمت گزاری ، محتاجی ، یا دین داری وغیرہ امور کی بناء پر اسے دوسرے ورثاء کے مقابلہ میں کچھ زیادہ دینا چاہے تو اس کا اسے اختیار ہے مگر بلا وجہ شرعی کسی وارث کو اپنی جائیداد سے بالکل محروم نہ کرے کہ یہ گناہ کی بات ہے، لہذا سوال میں مذکور شخص کا اپنی زندگی میں کل جائیداد بیٹے کو دیگر بیٹیوں کو کچھ نہ دینا اگرچہ نامناسب طرز عمل ہے لیکن اس کی وجہ سے وہ دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوا کہ جس وجہ سے اس کے نماز جنازہ پڑھنے کے جواز اور عدم جواز کا مسئلہ بنے لہذا کسی بھی شخص کے ایمان کے بارے میں بغیر تحقیق اور معلومات کے اس قدر غیر محتاط تاثر رکھنا انتہائی درجہ سے نا مناسب طرز عمل ہے جس سے احتراز لازم ہے۔
کما فی مشکاۃ المصابیح: عن النعمان بن بشیر أن أباہ أتی بہ الی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم فقال: إنی نحلت ابنی ھذا غلاماً، فقال: أ کل ولدک نحلت مثلہ؟ قال: لا قال: فأرجعہ و فی روایۃ قال: فاتقوا اللہ واعدلوا بین أولادکم الخ ( باب العطایا، ج: 1، ص: 261، ط: قدیمی )۔
و فی البدائع: و ینبغی للرجل أن یعدل بین اولادہ فی النحلی لقولہ تعالی "إن اللہ یأمر بالعدل و الإحسان " الایۃ ( الی قولہ) و لان التسویۃ تألیف القلوب و التفضیل یورث الوحشۃ بینھم فکانت التسویۃ أولی و لو نحل بعضاً و حرم بعضاً جاز من طریق الحکم لأنہ تصرف فی ملکہ لا حق لأحد فیہ إلا أنہ لا یکون عدلاً الخ ( کتاب الھبۃ، ج: 6، ص: 127، ط: سعید )۔
و فی شرح المجلۃ: کل یتصرف فی ملکہ کیف شاء( الی قولہ) لأن کون الشیئ ملکاً لرجل یقتضی ان یکون مطلقاً فی التصرف فیہ کیف شاء الخ ( الفصل الاول فی بیان بعض قواعد فی احکام الاملاک، ج: 4، ص: 132، ط: مکتبۃ اسلامیۃ)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0