کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام ا س مسئلے کے بارے میں: کہ میں 20 سال سے والدین اور بہن بھائیوں سے الگ رہ رہا ہوں ، 15 سال پہلے والدہ محترمہ کا انتقال ہوا ، اور ایک سال قبل والد صاحب کا انتقال ہوا۔
پہلا مسئلہ یہ ہے کہ الگ ہونے کے بعد جو مال و دولت میں نے کمایا ہے ، اس میں دوسرے بہن بھائیوں کا حصہ ہے یا نہیں؟
دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ والدین کے انتقال کے بعد ان کی میراث میں میرا حصہ ہوگا یا نہیں ؟
تیسرا مسئلہ یہ ہےکہ والدین کے چھوڑے ہوئے مال میں ہمارے پاس دو ( 2 ) مکان ہیں، ایک میرے والد صاحب کا تھا، اور دوسرا میرے داد ا کا تھا، ہم لوگ چار بھائی اور تین ہماری بہنیں ہیں، سب شادی شدہ ہیں، اور اس میں ہمارے ساتھ ہماری پھوپھی بھی شامل ہےجس کو میراث میں کچھ نہیں دیا گیا ہے، اب اس موجودہ مالیت کو کس طرح تقسیم کردیا جائے جس میں سب کے حصے ان کو دیدیے جائیں مکمل تفصیل کے ساتھ ہماری رہنمائی فرمائیں۔ آپ کی عین نوازش ہوگی ۔
نوٹ: دادا کے ورثاء میں بوقتِ انتقال بیوہ ( دادی ) ایک بیٹا اور ایک بیٹی موجود تھی، پھر دادی کا انتقال ہوا ،اس کے بعد میرے والد کا ( یعنی بیٹے کا انتقال ہوا، ورثاء مذکور بالا ہیں )
صورتِ مسئولہ میں والدین سے علیحدگی کے بعد سائل نے جو مال و دولت خود کمایا ہے ، اگر اس میں اس کے دیگر بھائیوں کی کوئی محنت یا عمل شامل نہ ہو، تو وہ تمام جائیداد وغیرہ سائل کی ذاتی ملکیت شمار ہوگی، جس میں اس کے دیگر بہن بھائیوں کا شرعاً کوئی حق نہیں ہے ۔ جہاں تک والد کے ترکہ کا تعلق ہے تو اس میں سائل بھی دیگر بھائی بہنوں کی طرح اپنے شرعی حصے کا حقدار ہے، الگ رہائش اختیار کرنے کی وجہ سے سائل اپنے حصہ سے محروم نہ ہوگا۔
سائل کے دادا دادی کے ورثاءمیں اگر صرف ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہی وارث ہوں ، ان کے علاوہ اور کوئی وارث نہ ہوتو ایسی صورت میں حقوقِ متقدمہ علی المیراث کفن دفن کے متوسط مصارف، واجب الأداء قرض اور بیوہ کی مہر کی ادائیگی اور اگر وصیت کی ہو تو ایک تہائی (3/1) کی حد تک وصیت پر عمل کرنے کے بعد بقیہ مال کے تین برابر حصے کرکے ایک حصہ بیٹی ( سائل کی پھوپھی) کو دیدیا جائے ، اور بقیہ دو حصے سائل کے والد مرحوم کا ترکہ ہوگا جو دیگر ترکہ ساتھ ملاکر تمام ورثاء میں حسبِ حصصِ شرعی تقسیم ہوگا۔ اس کے بعد واضح ہوکہ سائل کے والد مرحومین کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہوگاکہ مرحومین نے بوقتِ انتقال جو کچھ مال و جائیداد، سونا چاندی، زیورات، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے جو سب مرحومین کا ترکہ ہے اس میں سے سب سے پہلے مرحومین کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں اگر مرحومین کے ذمہ کچھ قرض واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں اگرمرحومین نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کی ایک تہائی (1/3) کی حد تک اس پر عمل کریں، اس کے بعد کچھ بچ جائےاس کے کل گیارہ ( 11 ) حصے بنائے جائیں ، جن میں سے مرحومین کے ہرہر بیٹے کو دو دو ( 2 ) حصے، جبکہ ہرہر بیٹی کو ایک ایک ( 1 ) حصہ دیے جائیں ۔ جیسا کہ ذیل کے نقشے سے معلوم ہورہا ہے۔مزید سہولت کے لئے فیصدی حصے بھی لکھ دئیے گئے ہیں، ملاحظہ فرمائیں ۔
کما فی شرح المجلۃ: المادۃ 1092- کما أن أعیان المتوفی المتروکۃ مشترکۃ بین الورثۃ علی حسب حصصھم کذلک یکون الدین الذی لہ فی ذمۃ شخص مشترکاً بینھم علی حسب حصصھم إلخ (الکتاب العاشر: فی انواع الشرکات، ج 4، ص 27، ط: دار الکتب العلمیۃ)-
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0