محترم جناب مفتی صاحب
رہنمائی فرمائیں کہ میں مسمات ش زوجہ نون مرحوم شہر ِسکھر میں رہتی ہوں، میں شادی سے پہلے سے ہی گورمنٹ جاب کرتی تھی ،جو آج تک کر رہی ہوں ،میری جاب کو (35) سال ہو گئے ہیں،
تقریباً دو سال مکان کرائے پر رہا ،بجلی ، گیس پانی کے پیسے کرائے دار سے لیے جاتے، پر میرے شوہر بل نہ بھرتے لاکھوں روپے بل کے چڑھ گئے تھے، سن دو ہزار تیرہ سے میرے شوہر نے گھر کا خرچہ دینا بالکل بند کردیا تھا ،اس دوران میرے شوہر نے سکھر اپنی بیوی بچوں کے پاس آنا بالکل بند کر دیا تھا ،عید تہوار پر بھی بچوں کا خرچہ وغیرہ نہیں دیتے تھے اور نہ آتے تھے مکان پر لاکھوں روپے بل چڑھ گئے تھے تو میرے شوہر نے مجھ پر دوبارہ سے دباؤ ڈالنا شروع کر دیا کہ س مکان بیچو اور نہ بیچنے کی صورت میں مجھے فون پر دھمکیاں دیتے تھے ،مجبوراً مجھے مکان بیچنے پر رضامندی دینی پڑھی اور میرے شوہر نے مکان سیل کر دیا ،اس مکان کے پیسوں سے گیس، بجلی اور پانی کے لاکھوں کے بل کے پیسے کاٹے گئے ،گھر کے ڈاکومنٹس بنوانے کے پیسے بھی انھی پیسوں سے ادا کیے گئے ،بروکر کے پیسے بھی انھی پیسوں سے دیے گئے اور اس کے علاوہ میرے شوہر نے کچھ رقم کے چیک مجھ سے سائن کروائیں ،وہ رقم انھی پیسوں سے لی گئی۔
پھر اس رقم سے بچے کچے پیسے لے کر میں سکھر آگئی اور جو میرے گھر کا فرنیچر تھا ،وہ بھی میرے شوہر اٹھا کر لے گئے ،سات سال سے زیادہ کا عرصہ اس کے بعد گزر گیا ،نہ میرے شوہر میرے بچوں کے پاس آئے، نہ کوئی خرچہ وغیرہ دیا، یہاں تک کہ اتنے سال ہم ایک دوسرے کی شکل تک نہیں دیکھ پائے، سن دو ہزار بیس میں میرے شوہر سکھر ہم سے ملنے آئےتو پتہ چلا کہ میرے شوہر نے ایک اور شادی کرلی تھی، جس کی وجہ سے ہمارے ساتھ اتنے برے رویے ان کے رہے، میرے شوہر اپنی غلطی پر نادم تھے اور وہ چا رہے تھے کہ میں اپنی دوسری بیوی کو بھی سکھر لا کر ساتھ میں رکھوں، جس کی میں نے انھیں اجازت دے دی تھی۔ جب میرے شوہر مجھے کراچی اپنی دوسری بیوی سے ملوانے لیکر گئے تو میرے گھر کا سارا سامان، میرے جہیز کا سامان ہر چھوٹی بڑی چیز اس گھر میں موجود تھی اور وہ لوگ اسے استعمال کر رہے تھے ،جو میری ملکیت تھی۔ میرے شوہر نے سن دو ہزار بیس کے پانچ چھ ماہ بچوں کو ہر ماہ بیس ہزار روپے دیے ،اس کے بعد وہ خرچہ بھی بند کر دیا اور سکھر آنا بھی بند کر دیا۔
میرے شوہر جب جاب سے ریٹائر ہوئے تھے تو اس رقم سے انھوں نے مکان خریدا ،جس میں وہ اپنی کراچی والی بیوی اور اس کے تین بچوں ( دو بیٹے، ایک بیٹی) کے ساتھ رہتے تھے، سن دو ہزار تیئیس میں میرے شوہر کا انتقال ہو گیا، شریعت کی روسے آپ میری رہنمائی فرمائیں کہ میرے شوہر کی ملکیت اور وہ تمام سامان جو میرے گھر سے گیا، اس میں میرا اور میرے بچوں کا کیا حصہ ہے؟ اس وقت ہم مسمی نو ن کی دو بیوائیں ہیں، تین بچے جن میں ایک بیٹی اور دو بیٹے میرے اور دوسری بیوہ سے بھی ایک بیٹی اور دو بیٹے ہیں، آپ کو یاد رہے جس مکان میں میں رہتی ہوں، وہ میرے والد صاحب نے دیا تھا اور ان دس سالوں میں میرے شوہر نے مجھے کچھ خرچہ وغیرہ نہیں دیا اور مکان سیل کر کے جو بچے کچے پیسے تھے، وہ بھی بچوں کا خرچہ اٹھانے میں خرچ ہوئی،ا ور یہ جو کچھ بھی میں نے لکھا ،اللہ کو حاضر ناظر جان کر سچ لکھا ہے۔
واضح ہو کہ بیوی کا جو سامان اس کی ذاتی ملکیت ہو،چاہے اس نے خود خریدا ہویا اسے بطورِ جہیز ملا ہویا بطورِ تحفہ ملا ہو، وہ شرعاً بیوی ہی کی ملکیت ہے،شوہر کو اس سامان میں تصرف کرنے یا اسے اٹھا کر لےجانے کا شرعاً کوئی حق نہیں۔چنانچہ صورتِ مسئولہ میں سائلہ کا بیان اگرحقیقت پرمبنی ہواوراس میں کسی قسم خلاف حقیقت اورغلط بیانی سے کام نہ لیاگیاہو تواس کے شوہرکا اس کی رضامندی کے بغیر اس کا سامان اٹھا کرکسی اورکودیدناناجائزاورسراسرزیادتی ہے ،جوشرعاً غصب کے زمرے میں آتا ہے، لہذا سائلہ کواس کے انتقال کے بعد اپنا ذاتی سامان اگربعینہ موجودہوتواسے واپس لینے کا حق حاصل ہےاوروہ مرحوم کاترکہ شمارکرکے اس کے ورثاء کے درمیان تقسیم نہ ہوگا،جبکہ سائلہ کے مرحوم شوہر کا ذاتی مال و جائیداد اس کاترکہ ہےجس میں اسکی دونوں بیواؤں اوراولاد سمیت تمام ورثاء کا حق متعلق ہے، ا س لئےوہ ان سب کے درمیان ان کےحصص شرعیہ کے بقدرتقسیم کیا جائےگا۔
کمافی الشامیۃ: لا يجوز التصرف في مال غيره بلا إذنه ولا ولايته الخ(كتاب الغصب،مطلب فيما يجوز من التصرف بمال الغير بدون إذن صريح، ج:6، ص:200، ط: سعید)۔
وفیہ ایضاً: كل أحد يعلم الجهاز للمرأة إذا طلقها تأخذه كله، وإذا ماتت يورث عنها الخ(باب المھر،ج:3،ص:158، ط:سعید)
وفی شرح المجلۃ: لایجوز لأحد أن یاخذ مال أحد بلا سبب شرعي و إن أخذ ولو علی ظن أنہ ملکه وجب علیه ردہ عینا إن کان قائما وإلا فیضمن قیمته إن کان قیمیا الخ(المقالة الثانية في بيان القواعد الكلية الفقهية، المادۃ:97، ج:1، ص:51 ، ط: رشدیه)
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0