محترم و مکرم جناب مفتیان کرام! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، سوال: ہمارے تعلق والے ایک بھائی کی رہنمائی کے لیے کہ کیا خراب قبر میں جس کا علم بھی ہے کہ مرد یا عورت کی قبر ہے اس میں باقيات نہیں اس میں دوسری قبر مطلب بہن کی قبر میں بھائی کی قبر یا بیٹے کی قبر میں ماں کی قبر کر سکتے ہیں؟ اور اگر کر چکے ہیں تو اس کا دین اور شریعت میں کیا حکم ہے ؟
اگر قبرستان میں نئے مردوں کی تدفین کیلئے خالی جگہ میسر ہو، یاقرب و جوار میں تدفین کیلئے کوئی اور مناسب جگہ موجود ہو،تو بلا کسی عذر کے پرانی قبروں کو اکھاڑ کر وہاں نئے مردے دفن کردینے سے اجتناب کرنا چاہیے،البتہ اگر جگہ کی تنگی وغیرہ کے عذر کی وجہ سے ایسا کیا جائے اور پرانی قبر میں موجود میت بوسیدہ ہوکر مٹی بن چکی ہو ،تو ایسی صورت میں پرانی قبر میں نئے مردے کودفن کرنا بھی درست ہے ، تاہم اگر مردے پراس قدر عرصہ نہ گزراہوکہ جس میں اس کا جسم بوسیدہ ہوکر مٹی بن جائے تو ایسی صورت میں پرانی قبروں میں نئے مردے دفن کرنا شرعاً جائز نہیں ، جس سے اجتناب لازم ہے ۔
وفي الفتاوى الهندية: ولا يدفن اثنان أو ثلاثة في قبر واحد إلا عند الحاجة … ولو بلى الميت وصار ترابا جاز دفن غيره في قبره وزرعه والبناء عليه، كذا في التبيين. [(1/ 167)]
وفي رد المحتار: لا يدفن اثنان في قبر إلا لضرورة، وهذا في الابتداء، وكذا بعده. قال في الفتح، ولا يحفر قبر لدفن آخر إلا إن بلي الأول فلم يبق له عظم إلا أن لا يوجد فتضم عظام الأول ويجعل بينهما حاجز من تراب … وقال الزيلعي: ولو بلي الميت وصار ترابا جاز دفن غيره في قبره وزرعه والبناء عليه اهـ. قال في الإمداد: ويخالفه ما في التتارخانية إذا صار الميت ترابا في القبر يكره دفن غيره في قبره لأن الحرمة باقية، وإن جمعوا عظامه في ناحية ثم دفن غيره فيه تبركا بالجيران الصالحين، ويوجد موضع فارغ يكره ذلك. اهـ. (باب صلاة الجنازة، مطلب في دفن الميت، ط: ايچ ايم سعید) [(2/ 233)]