کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک کمپنی میں ایک ٹھیکیدار کام کرتا ہے، جس کے ماتحت چند مزدور ہوتے ہیں، بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ٹھیکیدار اپنی جیب سے ان مزدوروں کوخرچہ دیتا ہے،اور بعد میں کمپنی یا سیٹھ سے وہ رقم وصول کرلیتا ہے،لیکن کبھی کبھار ٹھیکیدار کے پاس رقم موجود نہیں ہوتی ،تو وہ کسی تیسرے شخص سے ایک لاکھ روپے لیتا ہے ، اس شرط پر کہ مہینے کے آخر میں وہ ایک لاکھ روپے کے ساتھ دس ہزار زائد ادا کرے گا، ٹھیکیدار کا کہنا یہ ہوتا ہے کہ میں یہ دس ہزار روپے اس لئے دیتا ہوں کہ جس شخص سے میں نے ایک لاکھ روپے لیے ہیں، وہ میرے ساتھ اس کمیشن میں شریک ہوجاتا ہے ، جومیں کمپنی یا سیٹھ سےکام کرنے پر حاصل کرتا ہوں ۔
اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس طرح کی صورت میں یہ معاملہ شرعاً کس نوعیت کا شمار ہوگا؟اور آیا یہ صورت جائز ہے یا نہیں؟ والسلام
واضح ہو کہ قرض پر کسی بھی قسم کا مشروط، یا معروف نفع لینا شرعاً سود ہے، اور سود کا لینا دینا قرآن و حدیث کی رو سے سخت حرام اور گناہِ کبیرہ ہے، احادیثِ مبارکہ میں سود کے بارے میں انتہائی سخت وعیدیں بھی وارد ہوئی ہیں، یہاں تک کہ نبی کریم ﷺ نے سود لینے والے، سود دینے والے، سود کے لکھنے والے اور اس پر گواہ بننے والے سب پر لعنت فرمائی، اور سب کو گناہ میں برابر قرار دیا،اوراسی لیے فقہاء کرام نے واضح طور پر لکھا ہے کہ قرض کا کوئی بھی مشروط اضافہ، خواہ کم ہو یا زیادہ، نفع کی کسی بھی شکل میں ہو، یا کسی بھی نام سے ہو،شرعاً سود ہی شمار ہوتا ہے،اور سخت ناجائز و حرام ہے،لہٰذا قرض کے معاملے میں ہر طرح کے نفع سے مکمل بچنا واجب اور ضروری ہے۔
لہذا سوال میں بیان کردہ صورت میں ٹھیکیدار کا کسی تیسرے شخص سے ایک لاکھ روپے اس شرط پر لینا کہ وہ مہینے کے آخر میں ایک لاکھ کے ساتھ دس ہزار روپے زائد ادا کرے گا،یہ سودی معاملہ ہے، جوکہ شرعاً ناجائز و حرام ہے،لہذا اس سے احتراز لازم ہے۔
قال اللّٰہ تعالی:وأحل اللہ البیع وحرم الربا الآیة الی قولہ(سورۃ البقرة: ۲۷۵)۔
وفی صحیح مسلم:عن جابر بن عبد اللّٰہ رضي اللّٰہ عنہما قال: لعن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم آکل الربوا وموٴکلہ وکاتبہ وشاھدیه، وقال: ھم سواء (72/2)۔
وفي الدر المختار:القرض بالشرط حرام والشرط لغو بأن يقرض على أن يكتب به إلى بلد كذا ليوفي دينه. وفي الأشباه كل قرض جر نفعا حرام اھ(166/5)۔
وفی الدرالمختار:(ھو) لغة :مطلق الزيادة وشرعا (فضل) ولو حكما فدخل ربا النسيئة(الی قوله) (خال عن عوض) خرج مسألة صرف الجنس بخلاف جنسه (بمعيار شرعي مشروط) ذلك الفضل (لأحد المتعاقدين) أي بائع أو مشتر الخ(170/5)۔
وفی الشامیة:(قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به ويأتي تمامه اھ(166/5) ۔
وفی بدائع الصنائع: (وأما) الذي يرجع إلى نفس القرض: فهو أن لا يكون فيه جر منفعة، فإن كان لم يجز، نحو ما إذا أقرضه دراهم غلة، على أن يرد عليه صحاحا، أو أقرضه وشرط شرطا له فيه منفعة؛ لما روي عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أنه «نهى عن قرض جر نفعا» ؛ ولأن الزيادة المشروطة تشبه الربا؛ لأنها فضل لا يقابله عوض، والتحرز عن حقيقة الربا، وعن شبهة الربا واجب الخ(کتاب القرض7/ 395)۔
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0