محترم مفتی صاحب !ہماری والدہ کے انتقال کے بعد مرحوم والد صاحب نے عقد ثانی کیا ۔ وہ 1986 میں انتقال فرما گئے ۔ والد صاحب نے ایک مکان اور زرعی زمین ترکہ میں چھوڑی ۔ ہماری دوسری والدہ آخری وقت تک ہمارے ساتھ رہیں ۔ دوسری والدہ اپنی زندگی میں بارہا وصیت کر چکی تھیں "کہ میرا سب کچھ میری زندگی میں تمہارا اور میرے مرنے کے بعد بھی آپ لوگوں کا ہے " 2020 میں امی (دوسری والدہ) بھی فوت ہو گئی۔ ان کی نہ تو کوئی اولاد ہے اور نہ ہی بہن بھائی ۔ ان کے والدین بھی وفات پاچکے تھے ۔ البتہ ان کے تایا زاد بھائی (جو امی کی زندگی میں فوت ہو گئے تھے) ان کی اولاد میں سے ان کے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہیں ۔ ان حالات میں ہماری دوسری والدہ کی وراثت کی تقسیم کیسے ہو گی ؟ کیا ہم بھی ان کے وارثوں میں شامل ہوں گے ؟جبکہ ہم چار بھائی اور ایک بہن ہے۔
واضح ہوکہ سوتیلی والدہ کے انتقال پر مرحومہ کی سوتیلی اولاد مرحوم کے ترکہ کی حقدار نہیں بنتی،بلکہ اس کے حقیقی ورثاء ہی ترکہ کے حقدار ہوتے ہیں،لہذا سائل اور دیگر بہن بھائی مرحومہ کے ترکہ میں حصہ دار نہ ہوں گے جہاں تک مذکور جملہ کا تعلق ہے،تو چونکہ یہ الفاظ ہبہ اور وصیت پر مشتمل ہیں،چنانچہ زندگی میں اگر انہوں نے اپنا سب کچھ سائل اور دیگر بہن بھائیوں میں باقاعدہ تقسیم نہ کیا ہو،صرف زبانی کہا ہوتو زندگی میں وہ مالک نہیں بنے،البتہ ان کے انتقال کے بعد کفن دفن اور قرضوں کی ادائیگی کے بعد ایک تہائی کی حد تک وصیت پر عمل کرتے ہوئےسائل اور دیگر بہن بھائی برابر برابرشریک ہوں گے،البتہ بقیہ مال وجائیداد مرحومہ کے تایازاد بھائی کی نرینہ اولاد میں تقسیم ہوگا،جبکہ بیٹی محروم رہے گی۔
اس کے بعد واضح ہو کہ سائل کی والدہ مرحومہ(سوتیلی والدہ) کاترکہ ان کے موجود ورثاء میں اصولِ میراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہو گا کہ مرحومہ نے بوقتِ انتقال جو کچھ مال و جائیدا د سونا، چاندی ،زیورات نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز وسامان اپنی ملکیت چھوڑا ہے،وہ سب مرحومہ کا ترکہ کا ہے ،جس میں سےسب سے پہلے مرحومہ کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ،اس کے بعد دیکھیں کہ اگرمرحومہ کے ذمہ کچھ قرض واجب الاداء ہو تو وہ ادا کریں اس کےبعد دیکھیں اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (3/1)کی حد تک اس پر عمل کریں ،اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل دو (2) حصے بنائے جائے ،جن میں سے مرحومہ کے کزن کے دونوں بیٹوں میں سے ہر بیٹے کو ایک ایک حصہ دیا جائے۔
کما فی بدائع الصنائع: ومنھا التقدیر بثلث المال اذا کان ھناک وارث ولم یجز الزیادۃ فلا تجوز الزیادۃ علی الثلث الا باجازۃ الوارث الذی ھو من أھل الاجازۃ والاصل فی اعتبار ھذا الشرط ماروینا من حدیث سعد رضی اللہ عنہ أنہ قال لرسول اللہ ﷺ أوصی بجمیع مالی فقال لا فقال فبثلثیہ فقال لا فقال فبنصفہ قال ﷺ لا قال فبثلثہ فقال الثلث والثلث کثیر انک ان تدع ورثتک أغنیاء خیرلک من ان تدعھم عالۃ ان یتکففون الناس الخ (کتاب الوصایا،ج:7، ص: 369،ط: ایچ ایم سعید)۔
وفی الدر المختار: ثم العصبات بأنفسھم أربعۃ أصناف جزء المیت ثم أصلہ ثم أبیہ ثم جزء جدہ (ویقدم الأقرب فالأقرب منھم) بھذا الترتیب فیقدم جزء المیت (کالابن ثم ابنہ وإن سفل ثم أصلہ الأب ویکون مع البنت) بأکثر (عصبۃ وذا سھم) کما مر الخ (کتاب الفرائض، ج: 6، ص: 774، ط: ایچ ایم سعید)۔
وفی بدائع الصنائع: لأن الإرث إنما يجري في المتروك من ملك أو حق للمورث على ما قال عليه الصلاة والسلام من ترك مالا أو حقا فهو لورثته الخ (كتاب الحدود، فصل في شرائط جواز إقامة الحدود، ج:7، ص:57، ط: ایچ ایم سعید)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2