میری والدہ، جنہوں نے میرے والد کی وفات کے بعد شادی کر لی تھی، کیا ان کا میرے والد کی چھوڑی ہوئی جائیداد میں حصہ ہوگا؟ اگر ہوگا تو کتنا ہوگا؟
صورتِ مسئولہ میں اگرسائل کی والدہ اس کے والدمرحوم کے انتقال کے وقت ان کے عقد نکاح میں تھی ،تو ایسی صورت میں اگر چہ سائل کی والدہ نے عدت گزار نے کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرلیا ہو، تب بھی وہ اپنےمرحوم شوہرکے ترکہ میں دیگر ورثاء کی طرح اپنے حصہ شرعی کی حقدار ہوگی، دوسری جگہ شادی کرنے کی وجہ سے وہ اپنے شرعی حصہ سے محروم نہ ہو گی۔جبکہ شوہر کی اولاد ہونے کی صورت میں بیوہ اُس کے ترکے کےآٹھویں حصہ کی وارث بنتی ہے ۔ البتہ تقسیم کا شرعی طریقہ کار معلوم کرنا ہو تو ورثاء کی مکمل تفصیل لکھ کر حکم شرعی معلوم کیا جاسکتا ہے ۔
کما فی فتاوی شامی: (ويستحق الإرث برحم ونكاح) صحيح فلا توارث بفاسد ولا باطل إجماعا .(قوله ونكاح صحيح) ولو بلا وطء ولا خلوة إجماعا در منتقى (قوله فلا توارث بفاسد) هو ما فقد شرطا من شروط الصحة كشهود، ولا باطل كنكاح المتعة والمؤقت وإن جهلت المدة، أو طالت في الأصح كما مر في محله، (كتاب الفرائض ج:6 ص:762 ط: سعيد)-
و فیہ أیضا: فيفرض للزوجة فصاعدا الثمن مع ولد أو ولد ابن وإن سفل والربع لها عند عدمهما) فللزوجات حالتان الربع بلا ولد والثمن مع الولد، (کتاب الفرائض ج: 6 ص: 769 / 779 ط: سعید)-
فی شرح مختصر الطحاوي للجصاص: وللمرأة من ميراث زوجها الرّبع إذا لم يكن له ولد، ولا ولد ابنٍ، فإن كان له ولد، أو ولد ابنٍ، وإن سفل: فلها الثمن)؛وذلك لقول الله تعالى: {ولهن الربع مما تركتم إن لم يكن لكم ولد فإن كان لكم ولد فلهن الثمن مما تركتم، (شرح مختصر الطحاوي، كتاب الفرائض، باب قسمة المواريث، مسألة: ميراث الزوجة، ج:4، ص:83-84، ط: دار البشائر الإسلامية)-