کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ میرے سسر کا انتقال ہو چکا ،بوقتِ انتقال ان کے ورثاء میں چھ بیٹے اور دو بیٹیاں حیات تھیں، اس کے بعد ایک بیٹی (جو غیر شادی شدہ تھی) نسیمہ کا انتقال ہو گیا تھا ، چھ بھائی اور ایک بہن حیات تھی ، اس کے بعد ایک بیٹے عبدالجبار کا انتقال ہوا ، ورثاء میں ایک بیٹا اور دو بیٹیاں ہیں، اس کے بعد پھر بیٹی خیر النساء کا انتقال ہوا ،ورثاء میں شوہر، ایک بیٹا اور ایک بیٹی موجود ہے ،اس کے بعد بیٹے عبدالوہاب کا انتقال ہوا ،ورثاء میں بیوہ ( شیرین بانو) اور چار بھائی (عبدالقادر ، عبدالستار ،فرید،عارف )موجود ہیں، معلوم کرنا ہے کہ مرحوم سسر (حاجی عثمان ) کا ترکہ مذکور ورثا ء میں شریعت کے مطابق کس طرح تقسیم کیا جائے گا اور اس میں میرا کتنا حصہ بنتا ہے؟
واضح ہوکہ سائلہ کے مرحوم سسرکا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق اس کے موجودہ ورثاء میں اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا، چاندی، زیورات، نقدر قم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھر یلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑاہے ، اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3) کی حد تک اس پر عمل کریں ، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے، اس کے کل ایک سو چار(104) حصے بنائے جائیں، جن میں سے مرحوم کےچاروں بیٹوں میں سے ہر ایک کو انیس(19) حصے،ہرایک پوتے کو آٹھ (8) حصے، دونوں پوتیوں میں سے ہر ایک کو چار(4) حصے، نواسہ کو چار(4) حصے، نواسی کو دو(2) حصے، دامادکو دو(2) حصے، جبکہ بہو(سائلہ) کو چار(4) حصے دیے جائیں.
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0