محترم جناب مفتی صاحب ! مؤدبانہ گزارش ہے کہ میرے والدین کا انتقال ہو چکا ہے، والد کا انتقال 2003 میں اور والدہ کا انتقال 2009 میں ہو چکا ہے، میرے والدین کا مکان 130 گز پر مشتمل ہے، جس کی کل مالیت 80 سے تقریبا ًنوے لاکھ ہے، مذکورہ ملکیت میرے والد کی ہے، ہم کل آٹھ(8) بہن بھائی ہیں، جن میں دو بھائی اور چھ (6)بہنیں ہیں، میرے دونوں بھائی شادی شدہ انتقال پا چکے ہیں، اور تین شادی شدہ بہنیں انتقال کر چکی ہیں، اب اپنے والدین( مرحومین) کی اولادوں میں ہم تین بہنیں حیات ہیں، جن میں سے ایک بہن غیر شادی شدہ( کنواری) ہے،اس کا کوئی کفیل نہیں ہے، میرے ایک بھائی کی کوئی اولاد نہیں ہے ،ان کی بیوہ نے دوسری شادی کر لی ہے، اور دوسرے بھائی نے چار بچے دو بیٹے اور دو بیٹیاں اور اپنی بیوہ چھوڑی ہے، باقی فوت شدہ بہنوں اور ان کے بچوں کی تفصیل میں درج کر رہی ہوں:
(۱) مرحوم بھائی محمد خالد ،کوئی اولاد نہیں بیوہ نے دوسری شادی کر لی ہے۔ (۲) مرحوم بھائی محمد جاوید، چار بچے دو بیٹے اور دو بیٹیاں، ایک بیوہ۔ (۳) مرحومہ بہن نعیم النساء ،تین بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں، شوہر وفات پا چکے ہیں ۔(۴) مرحومہ زیب النساء ،ایک بیٹا اور تین بیٹیاں ہیں، اس کے شوہر بھی وفات پا چکے ہیں۔ (۵) مرحومہ بہن مہر النساء ،چار بیٹے اور دو بیٹیاں، ان کے شوہر حیات ہیں (۶) بہن جنت جہاں( حیات) شادی شدہ ہیں۔(۷) بہن ارم ناز (حیات )شادی شدہ ہیں۔(۸) بہن خالدہ شاہین (حیات) غیر شادی شدہ ، شادی کی عمر نکل چکی ہے۔ میری فوت شدہ بہنوں نے اپنی زندگی میں ہی اپنا حصہ معاف کر دیا تھا۔
نوٹ: مرحوم بھائی محمد خالد دورانِ مرض (کینسر )بسترِِ مرگ پر ہی اپنی بیوہ کا حقِ مہر رقم 25000 ہزار، اس کے علاوہ نقد رقم 50 ہزار اور سونے کا ایک سیٹ اور دیگر چھوٹے سونے کے زیور بطور ِوراثت ادا کر چکے ہیں، میرے مرحوم والد کی طرف سے مرحوم بھائی کے حصے میں سے ان کی بیوہ (جو شادی کر چکی ہیں) ان کا بھائی کے حصے میں حق ہوگا یا نہیں؟
میرا سوال یہ ہے کہ ہم تین حیات بہنوں جن میں سے ایک غیر شادی شدہ بہن جس کا کوئی کفیل نہیں ہے، ہم تینوں بہنوں کا والد کی وراثت میں کتنا حصہ بنے گا؟ اور دیگر مرحومین بھائی اور تین بہنوں کا کتنا حصہ بنے گا؟ اور کیا مرحوم بہنوں کا حصہ ہم تین حیات بہنوں میں تقسیم ہوگا یا ان کی اولاد میں ہوگا؟ مرحوم بھائی خالد کا حصہ میری غیر شادی شدہ (کنواری) بہن جس کا کوئی کفیل نہیں ، اس کو مل سکتا ہے؟ قرآن و سنت کی روشنی میں براہِ مہربانی وراثت کا فتویٰ ارسال فرمائیں۔
واضح رہے کہ مرض الموت میں مبتلاء ہونےبعد آدمی کے اختیارات محدود ہوجاتے ہیں ،چنانچہ اس دوران اگر وہ اپنے مال میں تصرف کرے تو اس پر وصیت کے احکام لاگوہوتےہیں ،لہذا اگر وہ اپنے پورے مال کووارث کے علاوہ کسی اور کوہبہ کرنا چاہے توایک تہائی تک اس پر عمل کیا جائیگا،اور اگر کسی وارث کو کوئی چیز دینا چاہےتودیگر ورثاء کی اجازت اور رضا مندی ضروری ہے۔لہذا صورتِ مسئولہ میں سائلہ کے بھائی خالد مرحوم نےمرض الوفات میں مبتلاء ہونے کے بعداپنی بیوی کو جورقم حقِ مہر کےطور پر (جوکہ واجب الادا قرض ہے) اداکی ہے، وہ تو شرعاً بالکل درست ہے، البتہ مہرکےعلاوہ جو رقم، زیورات، سونا، چاندی وغیرہ دیا ہے، وہ دیگر بہن بھائیوں اور ورثاء کی اجازت پر موقوف ہے،اگروہ اس پر راضی ہوں تو ٹھیک ہے،ورنہ سارامال مرحوم خالد کےترکہ میں شامل ہوکر تمام ورثاء میں حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم ہوگا، جبکہ انتقال کے بعد خالد مرحوم کی بیوہ اپنے شوہر کے ترکہ میں سے شرعی حصہ کی حق دارہو گی ،اور سائلہ کی مرحومہ بہنوں کا حصہ انکے اپنے ورثاء میں تقسیم ہوگا، نہ کہ حیات بہنوں پر، کیونکہ کسی بھی وارث کا اپنے حصۂ میراث معاف کرنے یا ترک کرنے سے میراث میں اس کاحقِ شرعی ختم نہیں ہوتا،بلکہ بدستور اس کا حق ترکہ میں باقی رہتاہے، جو ان کے ورثاء میں تقسیم کرنالازم ہے، اور بھائی خالدمرحوم کا حصہ بھی اس کے اپنے ورثاء میں تقسیم ہوگا جن میں غیرشادی شدہ بہن خالدہ شاہین کا بھی حصہ شامل ہے ۔ (جس کی تفصیل ذیل کے نقشہ میں درج ہے)
اس کے بعدواضح ہو کہ سائلہ کے والدین مرحومین کا ترکہ ان کےموجود ورثاء میں اصولِ میراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحومین نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ اور غیرمنقولہ مال و جائیداد، سونا، چاندی ، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے، وہ سب مرحومین کا ترکہ ہے، اس میں سے سب سے پہلے مرحومین کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کر نے کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومین کے ذمہ کچھ قرض واجب الادا ہو تو وہ کل ترکہ سے ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومین نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (3 /1) کی حد تک اس پر عمل کریں، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے ، اس کے کل ستاون ہزار چھ سو(57600) حصے بنائے جائیں، جن میں سے مرحومین کی حیات ہر ایک بیٹی کو چھ ہزار آٹھ سو چالیس (6840) حصے، جبکہ مرحوم خالد کی بیوہ کو دوہزار آٹھ سواسی (2880)حصے،اور مرحوم جاوید کی بیوہ کوایک ہزار سات سو دس (1710) حصے،اور ہرایک بیٹے کو تین ہزار نوسونوے (3990) حصے،اور ہربیٹی کوایک ہزار نوسو پچانوے (1995) حصے، مرحومہ نعیم النساء کےہرایک بیٹے کو ایک ہزار پانچ سوبیس (1520) حصے،اورہر بیٹی کو سات سوساٹھ (760) حصے،مرحومہ زیب النساء کے بیٹے کودوہزار سات سوچھتیس (2736) حصے، اور ہربیٹی کوایک ہزار تین سواڑسٹھ (1368) حصے،اور مرحومہ مہر النساء کے شوہرکوایک ہزار سات سو دس (1710) حصے، ہرایک بیٹے کوایک ہزار چھبیس (1026) حصے، اور ہر بیٹی کوپانچ سو تیرہ (513)حصےدیدیں۔
کمافی المبسوط للسرخسيؒ: (قال: ولا يجوز هبة المريض، ولا صدقته إلا مقبوضة فإذا قبضت: جازت) وقال ابن أبي ليلىؒ: تجوز غير مقبوضة؛ لأنها وصية بدليل أنها تعتبر من الثلث، فالوصية تتأكد بالموت قبضت أو لم تقبض ولا تبطل به، فكذلك الهبة في المرض؛الخ (کتاب الھبۃ، باب ھبۃ المریض، ج12، ص102، ط: دار المعرفۃ،بیروت)-
وفی البحر الرائق: قالؒ (وهبته وصية) يعني حكمها حكم الوصية أي إذا وهب المريض في مرضه يكون حكمه حكم الوصية أطلق في الهبة فشمل ما إذا عادت للمريض أو لم تعد، وللأجنبي، وللوارث،الخ (کتاب الوصایا، باب العتق في المرض والوصية بالعتق، ج8، ص490، ط: دار الکتاب الاسلامی)-
وفی مجلۃ الأحکام للعدلیۃ: إذا وهب أحد في مرض موته شيئا لأحد ورثته وبعد وفاته لم تجز الورثة الباقون لا تصح تلك الهبة، أما لو وهب وسلم لغير الورثة فإن كان ثلث ماله مساعدا لتمام الموهوب تصح وإن لم يكن مساعدا ولم تجز الورثة الهبة تصح في المقدار المساعد ويكون الموهوب له مجبورا برد الباقي، (الكتاب السابع: في الهبة، الباب الثالث: في بيان أحكام الهبة، الفصل الثاني: في هبة المريض، المادۃ:879، ص168-169، ط: نور محمد، كارخانه تجارت كتب، آرام باغ، كراتشي)-
وفی البحر: وصرح في جامع الفصولين من الفصل الثامن والعشرين؛ لو قال وارث تركت حقي لا يبطل حقه إذ الملك لا يبطل بالترك،الخ (کتاب الوقف، جعل الواقف غلة الوقف لنفسه أو جعل الولاية إليه، ج8، ص243، ط: دارالکتب الأسلامی)-
وفی الدر المختار: (ولا لوارثه وقاتله مباشرة) لا تسبيبا كما مر (إلا بإجازة ورثته) لقوله عليه الصلاة والسلام "لا وصية لوارث إلا أن يجيزها الورثة" يعنی عند وجود وارث آخر كما يفيده آخر الحديث وسنحققه (وهم كبار) عقلاء فلم تجز إجازة صغير ومجنون وإجازة المريض كابتداء وصية ولو أجاز البعض ورد البعض جاز على المجيز بقدر حصته، الخ (کتاب الوصایا، ج 6، ص 655، ط: ایچ ایم سعید)-
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2