کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان کرام اس مسلئہ کے بارے میں:ایک آدمی فوت ہوئا تو ان کی وفات کے بعد ورثاء نے باقاعدہ شرعی اصولوں کے مطابق باہم وراثت تقسیم کی، اور ہر وارث اپنے حصہ پر قابض ہو کر خود متصرف و مالک ہوگیا،وراثت میں ایک بیٹے کے حصہ میں مکان نہیں تھا، وہ کچھ عرصہ تک بڑے کے گھر کےکمرہ میں رہائش پذیر رہا،کچھ عرصہ بعد گھریلو ناچاقی کی وجہ سے بڑے بھائی نے کہا میرا کمر ہ خالی کرو، والدہ کا کمرہ جو گھر کے متصل تھا تو والدہ نے جب اپنے چھوٹے بیٹے کی بے مکانی دیکھی (جبکہ اس چھوٹے بیٹے کا بیان ہے کہ والدہ اس سے پہلے بھی کئی بار کہہ چکی تھی کہ میں اپنا مکان تم کو دیتی ہوں ) تو والدہ انہیں اپنے کمرہ وگھر میں لے آئی، چونکہ والدہ کی خدمت یہ چھوٹا بیٹا اور اس کے بچے کرتے تھے، اس کے کچھ عرصہ بعد والدہ نے باقاعدہ اشٹام کرایا، اور اس پر گواہ لکھ دئیے، اور خود سے ملکیتی طور پر دستبردار ہو گئی تھی، یہ بات اس نے سب بیٹیوں کے سامنے کہی تھی، جو اس وقت بھی گواہی دینے کیلئے تیار ہیں۔ جب بڑے بیٹے کو پتہ چلا تو اس نے والدہ کی طرف فون کیا تو والدہ نے فرمایا میری چیز ہے میں خود اس کی مالک و مختار ہوں، میں نے یہ اپنی چیز چھوٹے بیٹے کو دے دی ہے ، کسی کا اس گھر سے تعلق نہیں ہے، پھر اس کے بعد اپنے گھر کا سامان بھی اپنی بہوؤں میں تقسیم کر دیا تھا بطور ہبہ کے، اور یہ واضح رہے کہ پہلے مکان چھوٹے بیٹے کو دیا تحریر نہیں کی تھی، بلکہ زبانی کلامی دیا تھا، پھر اس کے بعد سامان بھی تقسیم کر دیا تھا، پھر اس نے اپنی حین حیات وبا ہوش ہو اس گواہوں کو بلا کر مکان کی تحریر کر دی تھی، اور اپنا سامان زندگی میں اپنی بہوؤں کو تقسیم کر دیا تھا، اور انہوں نے اس وقت اپنے قبضہ میں لے لیا تھا، والدہ کے ہبہ کرنے کے بعد بیٹے نے اس مکان میں نئی چیزیں تعمیر کیں، اور کچھ عمارت خستہ ہو چکی تھی اس کو دوبارہ تعمیر کیا، والدہ نے ہبہ کرنے کے بعد دو، تین دن کیلئے ہمشیرہ کے پاس رہائش کی، اس کے پاس بھی دو بارہ یہ تذکرہ کیا مکان چھوٹے بیٹے کو دے دیا ہے،والدہ کی وفات کی بعد کسی وارث نے کوئی اعتراض نہیں کیا، اور اس کی وفات کے ایک سال بعد بڑے بیٹے نے یہ دعوی کیا والدہ کے حصہ سے میراث دی جائے، تو چھوٹے بیٹے کا کہنا ہے کہ اس مکان میں کسی کا کوئی تعلق نہیں ،یہ مکان والدہ اپنی حیات و صحت میں مجھے مالک و قابض بنا کر گئی تھی، جس کی وجہ سے میں نے اس کی تعمیر بھی کی، اب کسی کا یہ دعوی درست نہیں۔
نوٹ: والد مرحوم کی وفات کے بعد مرحوم کا ترکہ تقسیم کر کے والدہ (مرحوم کی بیوہ) کے حصے میں ایک مکان آیا پھر والدہ مرحومہ نے اپنی زندگی میں ہی یہ مکان اپنے ایک بیٹے کو باقاعدہ مالکانہ قبضے کے ساتھ ہبہ (گفٹ) کیا، اب کیا اس مکان میں والدہ کے دیگر اولاد کا حصہ بنتا ہے یا نہیں؟ جبکہ یہ بات ملحوظ رہے کہ مرحومہ نے اپنا گھریلو سامان میں سے کچھ اپنی بہوؤں میں تقسیم کیا تھا، اور جو سامان باقی تھا وہ بھی مجھے ہبہ (گفٹ) کرایا تھا۔
واضح ہو کہ ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلاہونے سے قبل ، اپنی تمام مال و جائیداد کا تنہامالک ہوتاہے، وہ جس طرح چاہے، اس میں جائز تصرف کر سکتا ہے اس پر اس کی تقسیم لازم اور ضروری نہیں، اور نہ ہی اولاد میں سے کسی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اس کو تقسیم پر مجبور کرے، البتہ اگر کوئی شخص اپنی صحت والی زندگی میں بلا جبر و اکراہ محض اپنی مرضی و خوشی سے اپنا مال وجائیداد اپنی اولاد میں تقسیم کرنا چاہے، تو اسے اس کا اختیار ہے، اور یہ تقسیم ترکہ نہیں بلکہ ہبہ (گفٹ )کہلائیگا، لہذا صورت مسئولہ میں والدہ مرحومہ نے اپنے بیٹے کی محتاجگی کو مد نظر رکھتے ہوئے جب اپنا مذکور مکان و دیگر کچھ سامان اپنے بیٹے کو بطور ہبہ و گفٹ کر کے باقاعدہ مالکانہ طور پر اس کا قبضہ بھی اسے دے دیا ہے، تو شرعا یہ ہبہ (گفٹ) مکمل ہو کر بیٹا اس جائیداد وغیرہ کا تنہا مالک بن چکا ہے،چنانچہ اب اس مذکور مکان اور دیگر ہبہ شدہ اشیاء میں والدہ مرحومہ کی دیگر اولاد کا شرعاً کوئی حصہ نہیں، اور نہ ہی انہیں مطالبہ کا حق حاصل ہے، لہذا مذکور بھائی کو اپنے اس غیر شرعی مطالبہ سے اجتناب چاہیئے۔
کما فی الدر المختار: وفي الخانية: لا بأس بتفضيل بعض الأولاد في المحبة لأنها عمل القلب وكذا في العطايا إن لم يقصد به الإضرار، و إن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالابن عند الثاني وعليه الفتوی ولو وھب فی صحتہ کل المال للولد جاز وأثم الخ(كتاب الھبۃ، ج 5، ص 696، ط: سعید)۔
و فی بدائع الصنائع : حکم الملک ولایہ التصرف للمالک فی المملوک باختیارہ لیس لاحد ولایۃ الجبر علیہ إلا لضرورۃ ولا لأحد ولایۃ المنع (الی قولہ) للمالک ان یتصرف فی ملکہ ای تصرف شاء الخ(کتاب الدعوی، فصل بیان حکم الملک والحق الثابت الخ، ج 6، ص 263، ط: سعید)۔
وفی شرح المجلۃ: تنعقد الھبۃ بالایجاب والقبول وتتم بالقبض، صریح ھذہ المادۃ أن القبول رکن أیضاً کالایجاب (إلی قولہ) وفی الدرر شرح الغرر قال الامام حمید الدین: رکن الھبۃ الایجاب فی حق الواھب، لأنہ تبرع فیتم من جھۃ المتبرع، أما فی حق الموھوب لہ فلا یتم إلا بالقبول، ثم لا ینفذ ملکہ فیہ إلا بالقبض الخ(المادۃ 837، ج 3، ص 344،345، ط: اسلامیۃ)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2