محترم جناب مفتی صاحب ! السلام علیکم ،درج ذیل سوال کا جواب جلدی دینا ۔
میرے نانا تاج محمد کا انتقال مورخہ 24 /6 /1991 کو ہوا میری والدہ مرحومہ کا انتقال مورخہ 1/1/1951 کو والد تاج محمد سے پہلے ہوا۔ وراثت 1991 میں تقسیم ہوئی، میرے والد محمد رفیق کا انتقال میرے نانا کی وفات کے بعد ہوا۔ میرے سوتیلے بھائی عبدالستار ،فرمان، عبدالروف کا کہنا ہے کہ بڑی امی یعنی میری والدہ کی پراپرٹی میں ہمارےابا محمد رفیق کا بھی حصہ بنتا ہے جو اس کی وفات کے بعد ہمیں ملنا چاہیے ؟ شرعاً جواب سے نوازیں۔ والسلام
صورت مسؤلہ میں سائل کی والدہ کا انتقال چونکہ سائل کے نانا سے پہلے ہوا ہے ،لہذا سائل کی والدہ اپنے والد کی میراث میں شرعاً حقدار نہ ہوں گی، اور یہ مال سائل کے والد کے واسطے سے اس کی سوتیلے بھائیوں کو بھی نہیں ملے گا ،تاہم اگرسائل کی والدہ کا اپنا کوئی ذاتی مال و جائیداد ہو تو سائل کے والد کے واسطے سے اس کے سوتیلے بھائی اس میں شرعاً حقدار ہوں گے جس کی تفصیل تمام ورثہ کی وضاحت کے بعد ہی صحیح طور پر بیان کی جا سکتی ہے۔
کما فی الفقہ الاسلامي و ادلتہ :الفصل الرابع: شروط الإرث: يشترط لثبوت الحق في الميراث ثلاثة شروط: وهي موت المورث، وحياة الوارث، ومعرفة جهة القرابة 1 - موت المورث: لا بد من تحقق موت المورث، إما حقيقة، أو حكما أو تقديرا، بإلحاقه بالأموات.اھ(ج:10،ص:7707)
و فی شرح الطحاوی :ولا یرث من مات قبل ذالک اھ (ج:1،ص: 434)
و فی الدرالمختار: ويستحق الإرث) ۔۔۔(برحم ونكاح) صحيح فلا توارث بفاسد ولا باطل إجماعا
(وولاء)والمستحقون للتركة عشرة أصناف مرتبة كما أفاده بقوله (فيبدأ بذوي الفروض)أي السهام المقدرة وهم اثنا عشر من النسب ثلاثة من الرجال وسبعة من النساء واثنان من التسبب وهما الزوجان (قوله ثلاثة من الرجال) هم الأب والجد والأخ لأم ح (قوله وسبعة من النساء) هن البنت وبنت الابن والأخت الشقيقة والأخت لأب والأخت لأم والأم والجدة.اھـ (ج:6،ص:763)
وفیه ایضاً:(ولا يحرم ستة) من الورثة (بحال) ألبتة (الأب والأم والابن والبنت)أي الأبوان والولدان (والزوجان).(ج:6،ص:780)
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2