کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ الحمد اللہ ہمارے والد حیات ہیں، انہوں نے تنازعات سے اپنی اولاد کو بچانے کیلئے منسلکہ ہبہ نامہ لکھا اور اس کو اسلامی طریقہ کار قرار دیا، اس ہبہ نامہ میں ذکرکردہ تقسیم کے بارے میں عرض ہے کہ ابھی تک یہ صرف کاغذ تک محدود ہے، عملی طور پر تقسیم ابھی تک نہیں ہوئی، والدصاحب کا کہنا ہےکہ اگر میرا انتقال بھی ہو جائے تو اسی طریقہ کار پر سب کو حصے ملے گا، دراصل ہماری کاروائی کی وجہ یہ ہے کہ میں نے (اسماعیل) اپنے والد صاحب سے اس بات کا اظہار کیا کہ مجھے اپنا حق دیدیا جائے، تاکہ میں اپنے حساب سے مستقبل کا سوچوں۔
اب آپ حضرات سے گزارش ہےکہ ہماری رہنمائی کی جائے کہ شریعتِ مطہرہ اس سلسلہ میں کیا تعلیما ت دیتی ہے، اور ہم اس معاملے میں کیا طریقہ کار اختیار کریں، تاکہ آئندہ کیلئے بھی شرعی پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔
واضح ہو کہ ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلاہونے سے قبل اپنےتمام مال و جائیداد کا تنہامالک ہوتاہے، وہ جس طرح چاہے اس میں تصرف کرسکتاہے، اس پر اس کی تقسیم لازم اور ضروری نہیں اور نہ ہی اولاد میں سے کسی کو یہ حق حاصل ہے، کہ وہ اس کو اس تقسیم پر مجبورکرے،البتہ اگرکوئی شخص اپنی صحت والی زندگی میں بلاجبرواکراہ محض اپنی مرضی وخوشی سےاپنا مال وجائیداد اپنی اولاد میں تقسیم کرنا چاہے تو اسے اس کا اختیارہے، اوریہ تقسیم ترکہ نہیں بلکہ ہبہ (گفٹ) کہلائیگا،جس کا بہترطریقہ یہ ہے کہ وہ اپنی بقیہ زندگی کے لیے جو کچھ رکھنا چاہے وہ رکھ کر اور اگربیوی کو کچھ دینا چاہےوہ انہیں دیکر بقیہ مال و جائیداد تمام اولاد (بیٹوں، بیٹیوں) کے درمیان برابرتقسیم کرکے ہر ایک کو اس کے حصہ پر باقاعدہ مالک وقابض بھی بنادے، تاکہ یہ ہبہ اور گفٹ شرعابھی درست اور تام ہوسکے، محض کاغذات میں نام کردیناکافی نہیں،، تاہم اگر وہ اپنی اولاد میں سے کسی کو اس کی خدمت گزاری ، محتاجگی یا دینداری وغیرہ کی وجہ سے دوسروں کے مقابلہ میں کچھ زیادہ دینا چاہے، تو اس کا بھی اسے اختیارہے۔
چنانچہ سوال کے ساتھ منسلکہ ہبہ نامہ میں درج ذیل بالا تفصیل کی رو سے اولاد کے درمیان عدل نہ ہونے کی بناء پر اسلامی تعلیمات کے مطابق نہیں، اور اگر اس دوران سائل کے والد بقضاءِ الٰہی انتقال کر جاتے ہیں، تو شرعاً اس ہبہ کی کوئی حیثیت نہیں ہوگی،اور نہ ہی یہ واجب العمل ہوگا،بلکہ اللہ تعالی کی طرف سے بیان کردہ حصص کے مطابق ترکہ اس وقت کے ورثاء کے درمیان تقسیم عمل میں لائی جائے گی، البتہ اگر سائل کے والد اپنی زندگی میں اپنا مال وجائیداد اپنی اولادکے درمیان تقسیم کرنے کا خواہشمند ہوتو درجِ بالا طریقےکے مطابق تقسیم کرے۔
کما فی مشکاۃ المصابیح: عن النعمان بن بشیر أن أباہ أتی بہ إلی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم فقال إنی نحلت ھذا غلاماً، فقال أ کل ولدک نحلت مثلہ؟ قال لا قال فارجعہ و فی روایۃ : قال فاتقوا اللہ و اعدلوا بین أولادکم الخ (باب العطایا ج1، ص261، ط: قدیمی)۔
وفی الدر المختار : متی وقف حآل صحتہ وقال علی فرضیۃ الشرعیۃ قسم علی ذکورھم واناثھم بالسویۃ ھو المختار المنقول عن الاخیار کما حققہ مفتی دمشق یحی ابن المنقار فی ال؎رسالۃ المرضیۃ علی الفرضیۃ الشرعیۃ الخ
وفی الشامیۃ تحت :(قولہ کما حققہ مفتی دمشق الخ) أقول حاصل ما ذكره في الرسالة المذكورة أنه ورد في الحديث أنه صلى الله عليه وسلم قال سووا بين أولادكم في العطية ولو كنت مؤثرًا أحدًا لآثرت النساء على الرجال، رواه سعيد في سننه وفي صحيح مسلم من حديث النعمان بن بشير: اتقوا الله واعدلوا في أولادكم، فالعدل من حقوق الأولاد في العطايا والوقف عطية فيسوي بين الذكر والأنثى، لأنهم فسروا العدل في الأولاد بالتسوية في العطايا حال الحياة. وفي الخانية : و لو وهب شيئًا لأولاده في الصحة، وأراد تفضيل البعض على البعض روي عن أبي حنيفة لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل في الدين وإن كانوا سواء يكره، و روى المعلى عن أبي يوسف أنه لا بأس به إذا لم يقصد الإضرار وإلا سوى بينهم، وعليه الفتوى، و قال محمد : ويعطي للذكر ضعف الأنثى، وفي التتارخانية معزيًا إلى تتمة الفتاوى قال: ذكر في الاستحسان في كتاب الوقف :وينبغي للرجل أن يعدل بين أولاده في العطايا والعدل في ذلك التسوية بينهم في قول أبي يوسف وقد أخذ أبو يوسف حكم وجوب التسوية من الحديث، وتبعه أعيان المجتهدين، وأوجبوا التسوية بينهم وقالوا يكون آثما في التخصيص وفي التفضيل الخ (کتاب الوقف، ج4، ص444، ط:سعید)۔
و فی الھندیۃ : و منھا أن یکون الموھوب مقبوضاً حتی لا یثبت الملک للموھوب لہ قبل القبض وأن یکون الموھوب مقسوماً إذا کان مما یحتمل القسمۃ وأن یکون الموھوب متمیزاً عن غیر الموھوب ولا یکون متصلا ولا مشغولا بغیر الموھوب حتی لو وھب أرضاً فیھا زرع للواھب دون زرع أو عکسہ أو نخلاً فیھا ثمرۃ للواھب معلقۃ بہ دون الثمرۃ أو عکسہ لا تجوز وکذا لو وھب داراً أو ظرفاً فیھا متاع للواھب کذا فی النھایۃ الخ ( کتاب الھبۃ، ج4، ص374، ط: ماجدیۃ)۔
وفی شرح المجلۃ: کل یتصرف فی ملکہ کیف شاء لکن إذا تعلّق حق الغیر بہ یمنع المالک من تصرفہ الخ (فصل فی بیان بعض القواعد ،ج4، ص 132، ط: حقانیۃ)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0