کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ میرے سسر مرحوم ..... کاانتقال ہوگیا، بوقتِ انتقال ورثاء میں بیوہ (شاہ قمر) پانچ بیٹے(محمد ابراہیم، محمد اسحق،محمد الیاس ،محمد اقبال،محمد فاروق،)اور پانچ بیٹیاں(حسینہ ،زاہدہ،شاہدہ،شمیم عرف عابدہ،فریدہ) موجوتھیں،اس کے بعد ایک بیٹے محمد ابراہیم کا انتقال ہوگیا ورثاء میں والدہ ،بیوہ (نورینہ)تین بیٹے (اسماعیل ،نثار،سہیل)دو بیٹیاں (نسرین ،نیلم)موجود تھیں،اس کے بعد پھر میری ساس (شاہ قمر ) کا انتقال ہوگیا ورثاء میں چار بیٹےاور پانچ بیٹیاں موجود تھیں،اب معلوم یہ کرنا ہے کہ مرحوم کاترکہ مذکور ورثاء میں شریعت کے مطابق کس طرح تقسیم کیا جائیگا؟
نوٹ: میرے سسر کے پی ٹی کے ملازم تھے، وہ خود بھی کماتے تھے اور بیٹے بھی کما کر اپنے والد کو دیتے تھے جس سے میرے سسر نے جائیداد بنائی تھی تو کیا سسر کے انتقال کے بعد ورثاء میں سے کسی کو ترکہ میں اپنی مرضی سے تصرف کا حق حاصل تھا کہ نہیں؟اگر کسی نے تصرف کرکے وہ رقم خرچ کردی ہو تو اسکا کیا حکم ہے؟جو بھی شرعی حکم ہو، تحریر فرمائیں۔
واضح ہو کہ کسی ایک وارث کادوسرے ورثاء کی اجازت ومرضی کے بغیر مشترکہ وارثت میں کسی قسم کا تصرف کرنا جائز نہیں، لہذا صورتِ مسئولہ میں سائلہ کے سسرمرحوم کے کسی وارث کودیگر ورثاء کی اجازت ورضامندی کے بغیر ترکہ میں سے کسی چیز پر تصرف کرنےکا حق حاصل نہیں ،لیکن اگر کوئی وارث دیگر ورثاء کی اجازت کےبغیر ایسا تصرف کریگاتو وہ اس کے حصہ کے بقدر نافذ ہوجائیگااور اس سے زائد پر تصرف کا نفاذ دوسرےورثاء کی اجازت پر موقوف ہوگااگر وہ اجازت دینگے تو تصرف نافذ ہوگا،ورنہ نہیں۔
اس کے بعد واضح ہو کہ سائلہ کے سسرمرحوم(بخت شیروان) کا ترکہ ان کے موجودہ ورثاء میں اصولِ میراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہو گا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جو کچھ مال و جائیدا د سونا، چاندی ،زیورات نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز وسامان اپنی ملکیت چھوڑا ہے،وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے ،جس میں سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں،اس کے بعد دیکھیں کہ اگرمرحوم کے ذمہ کچھ قرض واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں اس کےبعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3)کی حد تک اس پر عمل کریں، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے، اس کے کل گیا رہ ہزار پانچ سو بیس (11520)حصے بنائےجائیں،جن میں سے مرحوم کے ہر بیٹے کو سولہ سو(1600)حصے،مرحوم کی ہر بیٹی کو آٹھ سو(800)حصے،مرحوم کی بہو کو ایک سواڑسٹھ (168)حصے،مرحوم کے ہر پوتے کو دوسواڑتیس (238)حصے،اور مرحوم کی ہر پوتی کو ایک سو انیس(119)حصے دیئے جائیں.
كما في بدائع الصنائع: وإن كان فضوليا فليس بشرط للانعقاد عندنا بل هو من شرائط النفاذ فإن بيع الفضولي عندنا منعقد موقوف على إجازة المالك، فإن أجاز نفذ، وإن رد بطل الخ (کتاب البیوع، ج: 5، ص: 147، ط: ایچ ایم سعید)۔
وفي الهداية: الشركة ضربان: شركة أملاك، وشركة عقود فشركة الأملاك العين يرثها رجلان أو يشتريانها فلا يجوز لأحدهما أن يتصرف في نصيب الآخر إلا بإذنه، وكل منهما في نصيب صاحبه كالأجنبي الخ (کتاب الشرکۃ، ج: 3، ص: 3، ط: رحمانیہ)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1