السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
جناب مفتی صاحب!والدہ کے نام مکان ہےاور ورثاء میں شوہر، تین بیٹے اور چار بیٹیاں موجود ہیں والد کے نام پر ایک مکان، ایک کار اور ورثاء میں بیوہ، تین بیٹے ،اور پانچ بیٹیاں موجود ہیں ،سوال کیا پہلی والدہ کے ترکہ سے دوسری والدہ یا سوتیلی بہن کا حصہ شامل ہے؟اور کیا والدہ وراثت میں سے کچھ چیز یں بیچنے کی حقدار ہے بغیر کسی اور وارث کے مشورے سے؟
نوٹ: سائل کے والد نے دوشادیاں کی تھیں ،جن میں سے ایک کا انتقال ہوچکا ہے،اس مرحومہ بیوی کے ورثاء میں شوہر،تین بیٹے،اور چار بیٹیاں ہیں،مرحومہ کی ملکیت میں ایک گھر ہے جو اس کو اس کے والد نے دیا تھا ،جبکہ دوسری موجودہ بیوہ ،سے صرف ایک بیٹی ہے،پھر ایک بیٹے کا انتقال ہوا،جس کے ورثاء میں والد،بیوہ،(فائزہ) اور ایک بیٹا(حمزہ)ہے۔پھر آخرمیں والد کا انتقال ہوا جس کے ورثاء میں بیوہ ،دوبیٹے،اور پانچ بیٹیاں حیات ہیں،بیٹے مختاراحمد،نثار احمد،شبنم ،ثمرین،یاسمین،نصرین،اور سوتیلی بیٹی مہیبہ ہے۔
واضح ہو کہ کسی ایک وارث دوسرے ورثاء کی اجازت ومرضی کے بغیرمشترکہ وارثت میں کسی قسم کا تصرف کرنا شرعاًجائز نہیں، لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل کی والدہ کا دیگر ورثاء کی اجازت ومشورے کے بغیر ترکہ میں سے کوئی چیز بیچناجائز نہیں جس سے احترازلازم ہے ۔تاہم اگرسائل کی والدہ نے ورثاء کی اجازت کے بغیر کوئی چیز فروخت کی ہو ،تو ان کے حصہ کے بقدر بیع نافذ ہو گی،اور بقیہ دوسرے ورثاء کی اجازت پر موقوف ہو گی، اگر وہ اجازت دینگے تو بیع نافذ ہو گی، ورنہ نہیں۔جبکہ سائل کی سوتیلی والدہ اور بہن کا سائل کی حقیقی والدہ کے ترکہ میں سے کوئی حصہ نہیں ہے،البتہ والد صاحب کے ترکہ میں سے ان کو حصہ دیا جائیگا( جن کی تفصیل آگے آرہی ہے)۔
اس کے بعد واضح ہوکہ سائل کی والدہ مرحومہ کا ترکہ اس کے موجود ورثاءمیں اصول میراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحومہ نے بوقت انتقال جو کچھ مال و جائیداد سونا ،چاندی ،زیورات نقدرقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو سازو سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے،وہ سب مرحومہ کا ترکہ ہے، اس میں سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ،اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومہ کے ذمہ کچھ قرض واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومہ نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی کی حدتک اس پر عمل کریں، اسکے بعد جو کچھ بچ جا ئے اس کے کل اٹھائیس سو اسی(2880) حصے بنائے جائیں،جن میں سے مرحومہ کے ہر بیٹے کو پانچ سو چھیاسی( 586) حصے،مرحومہ کی ہر بیٹی کو دو سو ترانوے(293) حصے،مرحومہ کی بہو کو چوّن (54) حصے،مرحومہ کے ہرپوتے کو تین سو چھ ( 306) حصے دئیے جائیں،جبکہ سوتیلی بیٹی ( سائل کی سوتیلی بہن) کو چونکہ اپنی سوتیلی ماں کی ترکہ میں حصہ نہیں ملتا،بلکہ صرف اپنے والد کے ترکہ میں حصہ ملتا ہے(جیسا کہ اوپر تفصیل کے ساتھ مذکور ہوا)،اس لئے اس کو ستتر ( 77) حصے،اور سائل کی سوتیلی ماں ( والد مرحوم کی بیوہ) کو نناوے ( 99) حصے دیے جائیں .
كما في الهداية: الشركة ضربان: شركة أملاك، وشركة عقود فشركة الأملاك العين يرثها رجلان أو يشتريانها فلا يجوز لأحدهما أن يتصرف في نصيب الآخر إلا بإذنه، وكل منهما في نصيب صاحبه كالأجنبي الخ (کتاب الشرکۃ، ج: 3، ص: 3، ط: رحمانیہ)۔
وفي بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: وإن كان فضوليا فليس بشرط للانعقاد عندنا بل هو من شرائط النفاذ فإن بيع الفضولي عندنا منعقد موقوف على إجازة المالك، فإن أجاز نفذ، وإن رد بطل الخ (کتاب البیوع، ج: 5، ص: 147، ط: ایچ ایم سعید)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1