ہم پانچ بھائی اور تین بہنیں ہیں ،سب سے بڑے بھائی نے 22 سال پہلے تین دکانیں بیچ دیں اور رقم چار بھائیوں اور ماں کے درمیان تقسیم کر دی، باپ کی وفات تقسیم سے 33 سال پہلے ہو چکی تھی، بہنوں کو ان کے حصہ کی رقم دینے سے روک دیا گیا ،حالانکہ انہوں نے درخواست کی تھی، اب بہن اپنا وراثت کا حصہ اس لین دین میں چاہتی ہے، تو چھوٹا بھائی کہتا ہے کہ یہ دکانیں بڑے بھائی نے بیچی تھیں جو اب فوت ہو چکے ہیں، مگر اسے اس لین دین میں رقم ملی تھی، میں فتویٰ چاہتی ہوں کہ کیا مجھے بیچی گئی دکانوں میں وراثت کا حصہ آج کی مارکیٹ ویلیو پر ملے گا یا 22 سال پہلے کی مارکیٹ ویلیو پر؟ شکریہ ،وراثت کی طلبگار بہن۔
واضح ہوکہ قرآن مجید میں اللہ تعالی نے احکام ِمیراث بیان فرماکر اسے حدود اللہ قرار دیا ہے ،اور ان احکام پرعمل درآمدکرنے والوں کے لئے جنت کی بشارت سنائی ہے ، جبکہ اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کےلئے دردناک عذاب کی وعید بیان کی ہے ، اسی طرح ا حادیث ِمبارکہ میں بھی اس شخص کے بارے میں بڑی سخت وعید یں وارد ہوئی ہیں جو ترکہ میں سے کسی حق دارکو اس کے حصۂ شرعی سے محروم کرتا ہے، ایک حدیث میں نبی کریم ﷺ کا ارشادِ مبارک ہے، آپ ؑ نے فرمایا کہ ” کسی مسلمان کا مال اس کی اجازت و رضامندی کے بغیر حلال نہیں“ جبکہ ایک اور حدیث میں وارد ہوا ہے کہ ”جس شخص نے بھی اپنے کسی وارث کا حصۂ میراث کاٹ دیا ( یعنی محروم کردیا) تو اللہ تعالیٰ بروزِقیامت جنت میں سے اس کا حصہ کاٹ دیں گے“
لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃًسائلہ کے بڑے بھائی نے والدمرحوم کے انتقال کے بعد مجموعی ترکہ میں سے تین دکانیں تمام ورثاء کی رضامندی سے فروخت کی تھیں یافروخت کے بعد تمام ورثاء اس بیع پررضامند ہوگئےتھے توایسی صورت میں یہ بیع نافذ شمار ہوگی، البتہ بڑے بھائی کا مذکور رقم والدہ اور صرف بھائیوں میں تقسیم کرنا اور بہنوں کو ان کا شرعی حصہ نہ دینا شرعا ً غصب ہونے کی بنا پر ناجائز تھا، لہذا بقیہ ترکہ کی تقسیم میں سائلہ اور اس کی دیگر بہنیں مذکور رقم(جس قیمت پر مذکور دکانیں فروخت کی گئی تھیں) میں سے اپنے حصہ کے بقدر رقم لینے میں حق بجانب ہیں، لیکن اگر بھائی اپنی بہنوں کو ان کا شرعی حصہ نہ دیں تو ایسی صورت میں وہ اپنے حق کی وصولی کی خاطر قانونی چارہ جوئی کی مجاز ہوں گی۔
کماقال اللہ تعالیٰ فی التنزیل العزیز: يَٰٓأَيُّهَا الَّذِينَ اٰمَنُواْ لَا تَأۡكُلُوٓاْ أَمۡوَٰلَكُم بَيۡنَكُم بِالۡبَٰطِلِ الخ (سورۃ النساء 29)-
وفی احکام القرآن للجصاص: قال أبو بكرؒ قد انتظم هذا العموم النھي عن أكل مال الغير بالباطل وأكل مال نفسه بالباطل وذلك لأن قوله تعالى: {أموالكم} يقع على مال الغير ومال نفسه،(الی قولہ) فكذلك قوله تعالى: {لا تأكلوا أموالكم بينكم بالباطل} نھي لكل أحد عن أكل مال نفسه ومال غيره بالباطل، وأكل مال نفسه بالباطل إنفاقه في معاصي الله(مطلب البيان من الله تعالى على وجهين،ج2،ص215-216،ط:دار الکتاب العلمیۃ،بیروت)-
وفی مشکاۃ المصابیح: عن سعيد بن زيدؓ قال: قال رسول الله ﷺ "من أخذ شبرا من الأرض ظلما، فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين" متفق عليه، (کتاب البیوع، باب الغصب والعاریۃ، الفصل الاول، ج 5، ص 1969، المرقم: 2938، ط: دار الفکر، بیروت)-
وفیھا ایضاً: وعن أبی حرة الرقاشیؒ، عن عمهؓ قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم "ألا لا تظلموا، ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه" رواه البيهقی فی "شعب الإيمان "، والدارقطنی فی "المجتبى" (کتاب البیوع، باب الغصب والعاریۃ، الفصل الاول، ج 5، ص 1974، المرقم: 2946، ط: دار الفکر، بیروت)-
وفیھا ایضاً: وعن أنسؓ قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من قطع ميراث وارثه، قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة" رواه ابن ماجه، (کتاب البیوع، باب الوصیا، ج 5، ص 2040، ط: دار الفکر، بیروت)-
وفی الھندیۃ: ويجب على الغاصب رد عينه على المالك وإن عجز عن رد عينه بهلاكه في يده بفعله أو بغير فعله فعليه مثله إن كان مثليا كالمكيل والموزون فإن لم يقدر على مثله بالانقطاع عن أيدي الناس فعليه قيمته يوم الخصومة عند أبي حنيفةؒ وقال أبو يوسفؒ: يوم الغصب وقال محمدؒ: يوم الانقطاع كذا في الكافي، وإن غصب ما لا مثل له فعليه قيمة يوم الغصب بالإجماع كذا في السراج الوهاج،الخ(کتاب الغصب، ج5، ص119، ط: مکتبۃ مجدیۃ)-
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2