منتخب نام

بطور شناخت نام کے ساتھ دادا کا نام لکھنا

فتوی نمبر :
89653
| تاریخ :
2025-12-06
معاشرت زندگی / بچوں کے اسلامی نام / منتخب نام

بطور شناخت نام کے ساتھ دادا کا نام لکھنا

السلام علیکم!امید ہے کہ آپ خیریت سے ہوں گے،میرا سوال یہ ہے کہ کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی شخص اپنے بچوں کے نام رکھتے وقت جہاں ہمارے ہاں عام طور پر دوسرے نام کے طور پر باپ کا نام رکھا جاتا ہے،وہاں وہ باپ کی بجائے دادا کا نام رکھ دے؟ اور پھر جہاں فارم وغیرہ میں "والد کا نام" لکھنے کی جگہ ہو، وہاں اپنے حقیقی والد ہی کا نام لکھے؟مثال کے طور پر اگر بچے کا نام "حمزہ" رکھنا ہو اور دادا کا نام "طارق" ہو تو بچے کا نام "حمزہ طارق" رکھا جائے، اور فارم میں والد کے نام کے خانے میں اپنے اصل والد کا نام ہی درج کیا جائے۔کیا ایسا کرنا شرعاً جائز ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورت مسئولہ اگر بچے کی اصل پہچان اورنسبت والدسے معروف ومشہورہو،فارم اوردیگرتمام ضروری کاغذات میں ولد یت کے خانے میں بچے کے حقیقی والد کےہی نام کااندارج ہو ،دادا کا نام بطورثانوی پہچان ساتھ درج کرلیاجائے توشرعااس کی گنجائش ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی القران المجید: ﴿ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِندَ اللَّهِ﴾ (الاحزاب: 5)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
قمچی بیک ساقی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 89653کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات