السلام علیکم!امید ہے کہ آپ خیریت سے ہوں گے،میرا سوال یہ ہے کہ کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی شخص اپنے بچوں کے نام رکھتے وقت جہاں ہمارے ہاں عام طور پر دوسرے نام کے طور پر باپ کا نام رکھا جاتا ہے،وہاں وہ باپ کی بجائے دادا کا نام رکھ دے؟ اور پھر جہاں فارم وغیرہ میں "والد کا نام" لکھنے کی جگہ ہو، وہاں اپنے حقیقی والد ہی کا نام لکھے؟مثال کے طور پر اگر بچے کا نام "حمزہ" رکھنا ہو اور دادا کا نام "طارق" ہو تو بچے کا نام "حمزہ طارق" رکھا جائے، اور فارم میں والد کے نام کے خانے میں اپنے اصل والد کا نام ہی درج کیا جائے۔کیا ایسا کرنا شرعاً جائز ہے؟
صورت مسئولہ اگر بچے کی اصل پہچان اورنسبت والدسے معروف ومشہورہو،فارم اوردیگرتمام ضروری کاغذات میں ولد یت کے خانے میں بچے کے حقیقی والد کےہی نام کااندارج ہو ،دادا کا نام بطورثانوی پہچان ساتھ درج کرلیاجائے توشرعااس کی گنجائش ہے ۔
کما فی القران المجید: ﴿ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِندَ اللَّهِ﴾ (الاحزاب: 5)-