السّلام علیکم ورحمۃ اللّہ وبرکاتہ
امید ہے کہ آپ حضرات بخیر و عافیت ہوں گے ، ان شاءاللہ عزوجل۔
ایک سوال ہے کہ میری بھتیجی کا نام ہما ( Huma) ہے، بعض لوگ ہمیں کہتے ہیں کہ یہ نام موزوں نہیں ہے ، اس وجہ سےگھر والے یہ نام تبدیل کرنا چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اس نام کے ہم مثل ( باعتبار ادائیگی اور آواز کے) کوئی صحیح المعنی نام رکھا جائے ۔ آیا ہما نام واقعی مناسب نہیں ہے؟ یا اس کا معنی درست نہیں ہے؟ شرعی نقطہ نظر سے رہنمائی فرمائیں، اور صحابیات رضی اللّہ عنہن کے ناموں میں سے چند نام تجویز فرمائیں۔
ہما (ہاء کے پیش کے ساتھ) اردو اور فارسی زبان کا لفظ ہے،جس کا معنی ہےعقاب یا وہ خیالی پرندہ جسے لوگ نیک فال اور خوش قسمتی کی علامت تصور کرتے ہیں، لہذا معنی کے لحاظ سے یہ نام رکھنا اگرچہ درست ہے، لیکن بہتر ہے یہ کہ بچی کے لئے امہات المؤمنین یا صحابیات رضوان اللہ علیھن اجمعین یا امت کے نیکو کا ر عورتوں کے ناموں میں سے کوئی نا م تجویز کر لیا جائے چند ایک نا م زیل میں بھی زکر کیئے جاتے ہیں : انیسہ , بریرہ , سکینہ , تمیمہ , جویریہ , امیمہ , جمیمہ , حفصہ , جلیلہ , جمیلہ , حبیبہ , حلیمہ ,حمیراء , حمیمہ , خدیجہ , خالدہ , خولہ , رقیہ , ریحانہ, رابعہ , رَجاء , رحیلہ , زینب, سلمیٰ ,سعیدہ , سودہ , سدرہ , صفیہ , طریفہ , طاہرہ , عالیہ۔
وفی معجم متن اللغةهماء: العقاب: طائر آخر تتخذ الملوك من ريشه تيجانهم لعزته. زعموا أن من وقع ظله عليه صار ملكا: (ج:5 :ص 667 ناشر:دار مكتبة الحياة)
فیروزاللغات میں ہے:
"ہما(ہ۔ما)(ف۔ا۔مذ)ایک خیالی مشہور پرند جس کی نسبت کہا جاتا ہے کہ جس کے سر پر سے گزر جائے وہ بادشاہ ہوجاتا ہے"
(ص:1448، ط: فیروز سنز)
المعجم الوسيط(الهماء) العقاب وقيل طائر تتخذ الملوك من ريشه في تيجانهم لعزته (فارسيۃ)( ج :2 ص: 996 ناشر: دارالفکر بیروت)