السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
میرا مفتیانِ کرام سے ایک سوال ہے جو وراثت اور میراث کے بارے میں ہے،میرے والد کا انتقال ہو چکا ہے، ہم ایک بھائی اور پانچ بہنیں ہیں، ہمارے پاس والد کی میراث میں سے ایک کروڑ روپیہ نقدی موجود ہے اور ایک جائیداد شہرک صنعتی میں والد کے نام ہے،اب اس کی تقسیم کس طرح ہوگی؟ اور ایک جائیداد کمب مراد آباد میں ہے جو والد کی ملکیت تھی (دو سو میٹر رقبہ)۔
نوٹ: شہرک صنعتی والی جائیداد کا نصف میرے بھائی نے بیچ دیا ہے اور کمب مراد آباد کی زمین بھی مکمل طور پر بیچ دی گئی ہے، بغیر اس کے کہ بہنوں کو کچھ دیا جائے،شرعی لحاظ سے ان نقدی رقموں اور شہرک صنعتی کی آدھی زمین کا کیا حکم ہے؟ اور میراث (وراثت) کا کیا حل ہے؟اکثر بہنیں اگر اپنے والد کی میراث میں سے اپنا حصہ مانگیں تو لوگ انہیں برا سمجھتے ہیں،کیا اگر بہنیں اپنا حصہ مانگیں تو یہ گناہ ہے؟قرآن و حدیث کی روشنی میں اس کا کیا حکم ہے؟
واضح ہوکہ قرآن مجید میں اللہ تعالی نے احکام ِمیراث بیان فرماکر اسے حدود اللہ قرار دیا ہے ،اور ان احکام پرعمل درآمدکرنے والوں کے لئے جنت کی بشارت سنائی ہے ، جبکہ اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کےلئے دردناک عذاب کی وعید بیان کی ہے ، اسی طرح ا حادیث ِمبارکہ میں بھی اس شخص کے بارے میں بڑی سخت وعید یں وارد ہوئی ہیں جو ترکہ میں سے کسی حق دارکو اس کے حصۂ شرعی سے محروم کرتا ہے، ایک حدیث میں نبی کریم ﷺ کا ارشادِ مبارک ہے؛ آپ ؑ نے فرمایا کہ ” کسی مسلمان کا مال اس کی اجازت و رضامندی کے بغیر حلال نہیں۔
لہذ ا صورت مسئولہ میں سائلہ اوراس کی بہنوں کا اپنے والد کی میراث میں سے شرعی حصہ طلب کرنا ہرگز گناہ نہیں، بلکہ ان کے بھائی پران کا حصہ دینا فرض اوران کا حق نہ دینا سخت گناہ اور ظلم ہے۔
جبکہ سائلہ کے بھائی نے اگرشہرکِ صنعتی کی جائیداد کا نصف اور کمب مراد آباد کی مکمل زمین بہنوں کی اجازت کے بغیر فروخت کی ہے توبھائی کا یہ تصرف شرعاً ناجائز ہے۔ سائلہ اوراس کی بہنوں کے حصوں کی بقدراس زمین کی فروختگی شرعاًان کی اجازت پرموقوف ہے،اس لیےسائلہ کے بھائی پر لازم ہے کہ وہ اپنی بہنوں کو ان کے حصص کے بقدر فروخت شدہ زمین کی اس وقت کی قیمت اورباقی ماندہ زمین،ایک کروڑنقدی سمیت والدمرحوم کے دیگرترکہ میں سے ان کاحصہ شرعی ادا کرے ،بصورت دیگرسائلہ اوراس کی بہنیں اپنے حق کی وصولی کے لیے قانونی چارہ جوئی کی بھی مجازہیں۔
اس کےبعدواضح ہوکہ سائلہ کے مرحوم والد کی وفات کے بعد انکا ترکہ ان کےموجودہ ورثاء میں اصولِ میراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ اور غیرمنقولہ مال و جائیداد، سونا، چاندی ، زیورات ، نقدی رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے، وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے، اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کر نے کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض واجب الأدا ہو تو وہ ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (3 /1) کی حد تک اس پر عمل کریں، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل سات (7) حصے بنائے جائیں، جن میں سے بیٹے کو دو (2) حصے ، اور ہر ایک بیٹی کو ایک ایک ( 1 ) حصہ دیاجائے۔
کماقال اللہ تعالیٰ فی التنزیل العزیز: تِلۡكَ حُدُودُ اللَّهِۚ وَمَن يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَہ يُدۡخِلۡهُ جَنَّٰتٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا الۡأَنۡهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَاۚ وَذَٰلِكَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيمُ، وَمَن يَعۡصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَتَعَدَّ حُدُودَهُ يُدۡخِلۡهُ نَارًا خَٰلِدٗا فِيهَا وَلَهُ عَذَاب مُّهِين، (سورۃ النساء، الآیۃ: 13-14)-
وقال ایضاً: يَٰٓأَيُّهَا الَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَأۡكُلُوٓاْ أَمۡوَٰلَكُم بَيۡنَكُم بِالۡبَٰطِلِ الخ (سورۃ النساء 29)-
وفی احکام القرآن للجصاص: قال الله تعالى يا أيها الذين آمنوا لا تأكلوا أموالكم بينكم بالباطل إلا أن تكون تجارة عن تراض منكم قال أبو بكر قد انتظم هذا العموم النھى عن أكل مال الغير ومال نفسه كقوله تعالى ولا تقتلوا أنفسكم قد اقتضى النھی عن قتل غيره وقتل نفسه فكذلك قوله تعالى لا تأكلوا أموالكم بينكم بالباطل نھی لكل أحد عن أكل مال نفسه ومال غيره بالباطل الخ (سورۃ النساء، الآیۃ 29، باب التجارات و خیار البیع، ج2، ص172،ط: سھیل اکیڈمی لاھور)-
وفی مشکاۃ المصابیح: عن سعيد بن زيدؓ قال: قال رسول الله ﷺ "من أخذ شبرا من الأرض ظلما، فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين" متفق عليه، (کتاب البیوع، باب الغصب والعاریۃ، الفصل الاول، ج 5، ص 1969، المرقم: 2938، ط: دار الفکر، بیروت)-
وفیھا ایضاً: وعن أبی حرة الرقاشیؒ، عن عمهؓ قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم "ألا لا تظلموا، ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه" رواه البيهقی فی "شعب الإيمان "، والدارقطنی فی "المجتبى" (کتاب البیوع، باب الغصب والعاریۃ، الفصل الاول، ج 5، ص 1974، المرقم: 2946، ط: دار الفکر، بیروت)-
وفیھا ایضاً: وعن أنسؓ قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من قطع ميراث وارثه، قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة" رواه ابن ماجه،
وفی المرقاۃ: تحت قولہ ﷺ (يوم القيامة) قال الطيبیؒ: تخصيص ذكر القيامة وقطعه ميراث الجنة للدلالة على مزيد الخيبة والخسران، (کتاب البیوع، باب الوصیا، ج 5، ص 2040، ط: دار الفکر، بیروت)-
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2