کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری بیٹی مسماۃ۔۔۔بی بی دختر ۔۔۔ جس کی شادی محمد ۔۔۔۔سے ہوئی، جس سے کوئی اولاد نہیں ہے، محمد۔۔۔ کی 2025/5/10 معرکہ حق میں شہادت ہوگئی، کچھ ہی عرصے کے بعد میری بیٹی کا بھی انتقال ہو گیا، وزیر اعظم پاکستان نے شہید کی بیوہ کیلئے مکان کی مد میں پیسوں کا اعلان کیا ہے، جو کہ صرف اور صرف بیوی کی ملکیت ہوتے ہیں، فوج میں بھی یہی اصول ہے، لہذا آپ احباب سے التماس ہے کہ یہ بتائیں کہ میر بیٹی مسماۃ کے قانونی وارث کون ہیں، ہم یا اس کے سسرال والے، اور یہ پیسے وراثت میں اگر آئیں تو بچی کا شرعی وارث کون ہوگا؟ برائے مہربانی شریعت کے مطابق جواب دیں، آپ احباب کا احسان مند رہوں گا، میری بیٹی مسماۃ ۔۔۔بی بی کا قانونی وشرعی وارث کون ہوگا؟
نوٹ: پہلے شوہر کا انتقال ہوا تھا، شادی کو ڈھائی تین سال ہو گئے تھے، اس کے بعد بیوی کا انتقال ہو گیا ، بچے نہیں ہے، بیوی کے ورثاء میں والدین موجود ہیں۔
سوال میں درج کردہ تفصیل کے مطابق سائل کا داماد مسمیٰ محم۔۔۔ شہید اگر اپنی زندگی میں مذکور فنڈ کا حقدار نہ بنا ہو بلکہ مذکور فنڈ مرحوم کی شہادت کے بعد مکان کی مد میں حکومت کی طرف سے جاری کیا گیا ہو تو ایسی صورت میں مذکور فنڈ کی رقم سائل کے داماد مسمیٰ محمد ۔۔۔ شہید کا ترکہ شمار نہ ہوگا، بلکہ حکومت کی طرف سے مرحوم کے پسماندگان کے ساتھ تبرع اور احسان شمار ہوگا، چناچہ اس فنڈ کیلئے حکومت کی طرف سے جس فرد کو نامزد کیا گیا ہو شرعاً وہی اس کا حقدار ہوگا، مرحوم کے دیگر ورثاء کا اس میں کوئی حق نہ ہوگا، لہذا مذکور فنڈ کیلئے اگر مرحوم کی بیوہ کو نامزد کیا گیا ہو” اور حکومتی ضابطے کے مطابق نامزد کردہ فرد اگر فنڈ کی وصولی سے قبل انتقال کرجائےتو اس کے ورثاء مستحق قرار پاتے ہوں“ تو ایسی صورت میں شرعاً مذکور رقم سائل اور اس کی بیوی کے درمیان تقسیم ہوگی، اس میں مرحومہ بیٹی کے سسرال والوں کا کوئی حق نہ ہوگا، لیکن اگر حکومتی ضابطہ مختلف ہو تو ایسی صورت میں حکومتی ضابطے کے مطابق رقم کی تقسیم کی جائیگی۔
کما فی الھندیۃ: ویستحق الإرث باحدی خصال ثلاث بالنسب وھو القرابۃ والسبب وھو الزوجیۃ الخ ( کتاب الفرائض، ج6، ص447، ط:ماجدیۃ)۔
وفیھا ایضاً: والمستحقون للترکۃ عشرۃ اصناف مرتبۃ کذا فی الاختیار شرح المختار فیبدأ بذی الفرض ثم بالعصبۃ النسبیۃ ثم بالعصبۃ السببیۃ وھو مولی العتاقۃ ثم عصبۃ مولی العتاقۃ ثم الرد علی ذوی الفروض النسبیۃ بقدر حقوقھم ثم ذوی الارحام ثم مولی الموالاۃ ثم المقر لہ بالنسب علی الغیر بحیث لم یثبت نسبہ باقرارہ من ذالک الغیر اذا مات المقر مصرا علی اقرارہ کما لو اقر باخ او باخت وما اشبہ ذالک ثم موصی لہ بجمیع المال ثم بیت المال کذا فی الکافی الخ (کتاب الفرائض، ج6، ص447، ط: ماجدیۃ)۔
وفی الأشباہ والنظائر : العطاء لا یورث عنہ الخ ( کتاب الفرائض، ج2، ص495، ط: ادارۃ القرآن والعلوم الإسلامیۃ)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2