کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ میں مسمیٰ فرید خان، میرا ایک ذاتی مکان ہے اور میں اسے اپنی زندگی میں اپنی اولاد کے درمیان تقسیم کرنا چاہتا ہوں، میرے پانچ بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں، معلوم یہ کرنا ہے کہ اس کی تقسیم کس طرح ہوگی؟ جو بھی شرعی حکم ہو، تحریر فرمائیں۔
واضح ہو کہ ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلاہونے سے قبل ، اپنے تمام مال و جائیداد کا تنہامالک ہوتاہے، وہ جس طرح چاہے، اس میں جائز تصرف کر سکتا ہے، اس پر اس کی تقسیم لازم اور ضروری نہیں، اور نہ ہی اولاد میں سے کسی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اس کو تقسیم پر مجبور کرے، البتہ اگر کوئی شخص اپنی صحت والی زندگی میں بلا جبر و اکراہ محض اپنی مرضی و خوشی سے اپنا مال وجائیداد اپنی اولاد میں تقسیم کرنا چاہے، تو اسے اس کا اختیار ہے، اور یہ تقسیم ترکہ نہیں، بلکہ ہبہ (گفٹ )کہلائیگا، لہذا صورتِ مسؤلہ میں اگر سائل مذکور مکان اپنی زندگی میں اپنی اولاد کے درمیان تقسیم کرنا چاہتا ہو ،تو اس کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ وہ اپنی بقیہ زندگی کے لیے جو کچھ رکھنا چاہے، وہ رکھ کر بقیہ مال و جائیداد تمام اولاد (بیٹوں بیٹیوں) کے درمیان برابر تقسیم کر کے ہر ایک کو اس کے حصے پر باقاعدہ مالک وقابض بھی بنا دے ، تاکہ یہ ہبہ (گفٹ) شرعا بھی درست اور تام ہو سکے ،محض کاغذات میں نام کر دینا کافی نہیں، تا ہم اگر وہ اپنی اولاد میں سے کسی کو اس کی خدمت گزاری محتاجگی یا دینداری وغیرہ کی وجہ سے دوسروں کے مقابلے میں کچھ زیادہ دینا چاہے تو اس کا بھی اسے اختیار ہے۔
کما فی صحيح البخاري: ومحمد بن النعمان بن بشير , أنهما حدثاه عن النعمان بن بشير ، أن أباه أتى به إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال : إني نحلت ابني هذا غلاما ، فقال : أكل ولدك نحلت مثله ، قال : لا ، قال : فارجعه، (كتاب الهبة وفضلها والتحريض عليها، ج:3، ص:206، ط الشعب)-
و فیہ أیضا: « عن عامر قال: سمعت النعمان بن بشير رضي الله عنهما وهو على المنبر يقول (الی قولہ) أعطيت سائر ولدك مثل هذا؟»، قال: لا، قال: «فاتقوا الله واعدلوا بين أولادكم»، قال: فرجع فرد عطيته، (باب الإشهاد في الهبة،ج:3، ص:158)-
و فی فتاوی شامی: و في الخانية: لا بأس بتفضيل بعض الأولاد في المحبة؛ لأنها عمل القلب، وكذا في العطايا إن لم يقصد به الإضرار، و إن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالابن عند الثاني، وعليه الفتوی (كتاب الهبة، ج:5، ص:696، ط: سعید)-
و فی البحر الرائق: يكره تفضيل بعض الأولاد على البعض في الهبة حالة الصحة إلا لزيادة فضل له في الدين، (کتاب الھبۃ، ج:7، ص: 288، ط: رشیدیہ)-
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2