السلام علیکم! امید ہے کہ آپ خیریت سے ہوں گے، میرا سوال یہ ہے کہ میں ایک ہسپتال میں کام کرتا ہوں، ہم اپنے او پی ڈی کے ماحول میں باقاعدگی کے ساتھ قرآن مجید اردو ترجمہ کے ساتھ سنا کرتے تھے، حال ہی میں میں نے سورۃ الاعراف کی آیت نمبر 204 پڑھی، جس کے بعد اب ہمیں یہ اشکال لاحق ہو گیا کہ کیا اس طرح قرآن سننا درست ہے؟ جبکہ وہاں موجود ہر شخص (جس میں میں خود بھی شامل ہوں) ہر وقت خاموش نہیں ہوتا اور نہ ہی مکمل توجہ کے ساتھ قرآن سنتا ہے، براہ کرم اس بارے میں شرعی رہنمائی اور فتویٰ عنایت فرمائے کہ آیا اس طرح قرآن سننا جائز ہے یا نہیں؟
واضح رہے کہ کلام پاک کے آداب و احکام میں سے ہے کہ اسے سنا جائے (چاہے ریکارڈنگ ہی کیوں نہ ہو) اور یہ بھی حکم ہے کہ ایسی جگہ جہاں لوگ اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہوں اور قرآن پاک کے سننے کی طرف توجہ نہ دے سکتے ہوں تو ایسی جگہوں میں اونچی آواز سے تلاوت کرنا قرآن مجید کے آداب کے خلاف ہے۔ لہذا صورت مسئولہ میں O.P.D ہال کے اندر ایسے وقت میں کلام پاک کی ریکارڈنگ چلانا کے عملہ مریضوں کے ساتھ مصروف ہو اور اس موقع پر مریضوں کی آوازیں بلند ہوتی ہوں جس کی وجہ سے قرآن مجید کی طرف کان لگا کر سننا مشکل ہو شرعاً درست نہیں، بلکہ اگر ہر فرد موقع ملنے پر تسبیح و تہلیل اور درود شریف کا اہتمام کرے تو یہ زیادہ باعث برکت و ثواب ہوگا۔
كما في الدر المختار:(فروع) يجب الاستماع للقراءة مطلقا لأن العبرة لعموم اللفظ الخ
وفي رد المحتار تحته: أي في الصلاة وخارجها، لأن الاٰية وإن كانت واردة في الصلاة على ما مر فالعبرة لعموم اللفظ لا خصوص السبب، ثم هذا حيث لا عذر؛ ولذا قال في القنية: صبي يقرأ في البيت وأهله مشغولون بالعمل، يعذرون في ترك الإستماع إن افتتحوا العمل قبل القراءه وإلافلاالخ(ج:1،ص:546،مط: سعيد).
وفي الفتاوى الهندية: لا يقرأ جهراً عند المشتغلين بالأعمال ومن حرمة القرآن أن لا يقرأ في الأسواق وفي موضع اللغو كذا في القنية.. يكره للقوم أن يقرؤا القرآن جملة لتضمنها ترك الاستماع والانصات المامور بها كذا في القنية الخ(ج:5،ص:316,317،مكتبة: ماجدية).
موبائل میں گانے بھرے ہوئے ہوں تو اس میں تلاوت بھروا سکتے ہیں یا نہیں؟
یونیکوڈ قرآن و حدیث کے آداب و احکام 0