مجھے پچھلے کچھ سال سے بہت برے خیالات آرہے ہیں اللہ تعالی کے بارے میں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں۔ کبھی کئ کئ مہینے نہیں آتے کبھی آتے ہیں۔ پہلے میں ان پر زیادہ توجہ نہیں دیتا تھا بس کلمہ پڑھ لیا کرتا تھا۔ کہ کہیں اگر ایمان پر کوئی اثر ہوا ہے تو وہ دور ہو جائے ۔ مگر اب میری شادی ہو گئی ہے اور اب بھی ایسے خیالات آتے ہیں۔ اور نہ چاہتے ہوئے بھی میری توجہ ان پر پڑ جاتی ہےپھر میں فورا استغفار پڑھتا ہوں۔ کبھی ایسا لگتا ہے کہ کہیں میں خود تو ایسا نہیں سوچ رہا۔ اور ڈر لگتا ہے کہ اس سے کہیں میرے ایمان پر اور نکاح پر اثر نہ ہو جائے ۔ حالانکہ میں بہت دعا کرتا ہوں کہ ایسا نہ ہو اور استغفار بھی پڑھتا ہوں ۔لیکن خیالات کبھی کم ہو جاتے ہیں کبھی بہت بڑھ جاتے ہیں۔ میں نے علماء سے سونا ہے کہ اگر خیالات خود سے آئیں تو اُن پر گرفت نہیں ہوتی۔ یہ سن کر مجھے سکون ملا تھا۔ لیکن اب کبھی ایسا لگتا ہے کہ میں جان کر ایسا سوچ رہا ہوں۔ اور اس سے بہت ڈر لگتا ہے کہ میری گرفت نہ ہو جائے ۔ مجھے یہ خیال آتا ہے کے کہیں مجھے تجدیدِ ایمان اور تجدیدِ نکاح تو نہیں کرنا پڑے گا؟ اگر میرا ایمان پر اثر ہوا ہے ان خیالات اور حالات کی وجہ سے ؟ اور میں ان خیالات کو کیسے ختم کروں؟ براہِ مہربانی رہنمائی فرمائیں۔
واضح ہو کہ غیر ارادی طور پر خیالات اور وسوسے آنے سے انسان دائرۂ اسلام سے خارج نہیں ہوتا ، چاہے اس طرح کے وسوسے نماز کے دوران آئیں یا عام حالات میں ، بلکہ علماءنے اس طرح کےوساوس کو ایمان کی علامت قرار دیا ہے ،البتہ سائل کے دل میں جب اس طرح کے نامناسب خیالات اور وسوسے آئیں تو اُنہیں برا سمجھے اور ذہن سے نکال کر کسی دوسرے کام میں مشغول ہو جائے ، ان وساوس کی طرف بالکل بھی دھیان نہ دے ، نیز سائل کو چاہیئے کہ طہارت کا خاص خیال رکھے ، اور اس کے ساتھ سورۂ مومنون کی آیت نمبر ۹۷ اور ۹۸ (رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ (۹۷) وَ أَعُوذُ بِكَ رَبِّ أَنْ يَحْضُرُونِ (۹۸) بکثرت پڑھا کرے ، إن شاء اللہ تعالیٰ اس سے فائدہ ہوگا۔
کما فی مشكاة المصابيح : عن أبي هريرة رضي الله عنه قال : جاء ناس من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى النبي صلى الله عليه و سلم فسألوه : إنا نجد في أنفسنا ما يتعاظم أحدنا أن يتكلم به . قال : أو قد وجدتموه قالوا : نعم . قال : ذاك صريح الإيمان۔الحدیث (1/26)۔
و فیه أیضاً : عن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : لا يزال الناس يتساءلون حتى يقال هذا خلق الله الخلق فمن خلق الله ؟ فمن وجد من ذلك شيئا فليقل : آمنت بالله و رسله۔الحدیث (1/26)۔
و فی مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح : و قيل المعنى أن الوسوسة أمارة الإيمان ؛ لأن اللص لا يدخل البيت الخالي۔اھ (1/137)۔
بدحواسی میں خدا تعالیٰ کو بُرا بَھلا کہنے اور قرآن کریم کو شہید کرنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1اللہ کی قسم ’’میں اسلام سے پیچھے ہٹ گیا، میں نہیں مانتا اب کسی چیز کو‘‘ کہنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 0اللہ تعالیٰ کی ذاتِ باری کے حق میں نازیبا الفاظ کہنے والے سے متعلق مختلف سوالات
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1