پھوپھی کا حصہ ہوسکتا ہے بھتیجے کے پراپرٹی میں ؟
واضح ہو کہ اگر بھتیجے کا انتقال اس حال میں ہوا ہو کہ اس کی اولاد، والدین ،بھائی ،بہن،اور دیگر قریبی عصبات یعنی قریبی مرد رشتہ دار موجود نہ ہوں تو بعض مواقع پر پھوپھی ذوی الارحام میں داخل ہوکر مستحق وراثت بن سکتی ہے ، تاہم اس کے حتمی حکم کا انحصار ورثاء کی مکمل تفصیل فراہم کرنے پر ہے ،لہذا اگر سائل واقعۃ کسی حقیقی مسئلہ میں پھوپھی کے وراثتی حصہ کی بابت معلوم کرنا چاہتا ہو ،تو مرحوم کے تمام ورثاء کی تفصیل لکھ کر سوال دوبارہ ارسال کردے، اس پر غور وخوض کے بعد حکم شرعی سے آگاہ کردیا جائیگا۔
لما فی السراجی: ثم یقسم الباقی بین ورثتہ بالکتاب والسنۃ ،فیبدأ بأصحاب الفرائض (الی ان قال)
ثم بالعصبات من جھۃ النسب (الی ان قال)ثم ذوی الارحام ،(ص:4،ط:مجیدیہ)
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2